اسلام محض ایک ذہنی اور روحانی مشق یا پورا نظام حیات؟: مولانا وحید الدین خان کے فکر پر ایک نظر

یہ 2000ء کی بات ہے میں تازہ بہ تازہ پشاور یونیورسٹی کے شیخ زید اسلامک سنٹر کی لائبریری میں اپنی علمی پیاس بجھانے اور روحانی تسکین پانے کے لیے باقاعدگی سے جانا شروع ہو گیا تھا۔ بلا ناغہ عصر سے عشاء تک مطالعے میں مصروف رہتا۔ خوش قسمتی سے ان دنوں لائبریری کا ماحول نہایت پرسکون، صاف ستھرا، خاموش، آرام دہ، علمی اور باوقار ہوتا تھا (ممکن ہے اب بھی ہو)۔ وہاں کے لائبریرین محمد عدنان خان صاحب جو کہ ایک خوبصورت، توانا، ہنس مکھ اور خوش مزاج انسان تھا، سے میرا تعارف ہوا، سلام دعا کے بعد گپ شپ ہوئی اور یوں کتابوں کی بنیاد پر ایک نیا تعلق معرضِ وجود میں آیا۔

انہوں نے مجھے کئی بار مخاطب کرتے ہوئے کہا "عنایت! آپ کا مسکراتا چہرہ اور ملائم لہجہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے”۔ اور میں مسکرا کر شکریہ ادا کرتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے اور خوش و خرم بھی حقیقت یہ ہے کہ اچھے، سچے، میٹھے اور کھرے لوگ ہی انسانی سماج کا حقیقی حسن اور رونق ہیں۔ زندگی میں تمام تر خوشیاں اور شیرنیاں انہیں لوگوں کے دم قدم سے قائم ہیں۔

میں نہ صرف وہاں پہ دلجمعی سے مطالعہ کرتا تھا بلکہ پڑھنے کے لیے بیک وقت تین کتابیں بھی ساتھ لینے کی اجازت تھی جو میں پڑھ کر واپس لاتا اور پھر مزید کتابیں ساتھ لیتا یہ سلسلہ تقریباً پانچ برس تک جاری رہا یہاں تک کہ ہم انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد چلے آئیں۔ یاد رہے میرے سرپرست محترم ڈاکٹر رشید احمد کے طفیل یونیورسٹی میں ہمارا اچھا خاصہ تعارف ہوگیا تھا یوں ہمیں کافی رعایتیں میسر آئی تھی۔ میں فطری طور پر کتابوں کا متلاشی بندہ ہوں۔ کتابیں ہی میرے لیے حقیقی لذت، مسرت اور حلاوت کا ذریعہ ہے۔ کتابیں ہو، صحت ہو، فراغت ہو اور میں ہوں تو حقیقت یہ کہ پھر مجھے سب کچھ بہت اچھا لگتا ہے۔ میرے لیے مطالعہ کتنا مرغوب عمل ہے اس کا اندازہ آپ میرے ایک دلچسپ خیال سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ "اگر کھانے پینے اور دوسری ضروریات کے بغیر بھی زندگی کی کوئی قسم بسر کرنا ممکن ہوتا تو میں لازم زندگی کا وہی ورژن اختیار کرتا”۔

مطالعے کے لیے میرا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ پہلے کتابوں کے ٹریکس پر جاتا، سرسری سا جائزہ لیتا، دو تین کتابیں اٹھاتا، معالعے کے ٹیبل پر لا کر پاس رکھتا اور حسبِ دستور مطالعہ شروع کر دیتا۔ اس تسلسل میں ایک دن، ایک کتاب پر نظر پڑی نام تھا "راز حیات” مصنف کا نام دیکھا "مولانا وحید الدین خان”۔ نام اور کتاب دونوں مانوس لگے، کتاب اٹھایا اور پڑھنا شروع کیا جوں جوں پڑھتا جاتا، ایک طرح کے سحر میں مبتلا ہوتا جاتا۔ انداز، اسلوب، موضوعات، اصطلاحات، معیار اور اثرانگیزی غرض ہر اعتبار سے ایک منفرد اور یکتا کتاب اور صاحب کتاب۔

اس میں شک نہیں کہ مولانا کی تحریریں ایک الگ نشے اور ذائقے کی حامل ہیں۔ "راز حیات” سے مطالعے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ برسوں تک مسلسل جاری رہا یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ مجھ پر ان کی کتابوں سے چھڑنے والا نشہ بتدریج اتر گیا اور وہ لگنے والا ذائقہ بھی ذہن کے نہاں خانوں سے رفتہ رفتہ غائب سا ہوگیا کیونکہ لفظوں کا جب جیتا جاگتا تعلق زمینی حقائق سے واضح طور پر محسوس نہ ہو تو وہ زیادہ دیر تک صرف لفظ اپنی تاثیر قائم نہیں رکھ سکتے۔ مولانا کے جملے اور تخیلات سے ہم بے شک لطف تو اٹھا لیتے لیکن جب حقائق سے ان کا موازنہ کرنے لگتے تو ہمیں ایک ناقابل عبور فاصلہ حائل نظر آتا اور یوں ہم الٹ سمت میں بھی سوچنا شروع کر دیتے۔

میں نے صرف کتابیں ہی نہیں پڑھیں بلکہ وہ فکر بھی ساتھ ساتھ ملاحظہ کیا جو چند مرغوب اصطلاحات کی پشت پر کار فرما تھا۔ ان کی کتابوں میں ایسی اصطلاحات بکثرت استعمال ہوئے ہیں جو انسان کو فطرتاً اور طبعاً اچھے لگتے ہیں یعنی امن، سکون، علم، بصیرت، تعمیری انداز، صبر، برداشت، اعراض، مشکل کے بعد موقع، اللہ تعالیٰ کا منصوبہ تخلیق، داعی اور مدعو، موافقت و مفاہمت، ربانی انسان، روحانی تجربہ، مثبت سوچ، پیغمبرانہ اخلاق، اخلاقی برتری، جنگ و جدل سے آخری حد تک اجتناب، روحانی وجدان اور ذہنی آسودگی وغیرہ۔ ان اصطلاحات میں کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اصطلاحات اگر حقائق اور احوال کے دائروں میں کار فرما ہو اور ان کا ایک جیتا جاگتا تعلق زندگی کے معاملات اور واقعات سے منسلک ہو تو بلا شبہ زندگی درست ٹریک پر لانے میں یہ بے حد مددگار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اگر ان اصطلاحات کو زندگی کے مجموعی ڈھانچے اور حقائق سے الگ کر کے محض ادبی، ذہنی، روحانی اور وجدانی مشق کا سامان کوئی بنا دیں تو بلا شبہ یہ ایک لاحاصل مشغلہ بن جائے گا اس سے انسانوں اور معاشروں کی اصلاح ممکن ہے نہ ہی اس کے سبب مخلوق خدا کو کوئی خیر یا فائدہ پہنچنے ہونے والا۔ ‎

مولانا وحید الدین خان کے افکار کو سمجھنے کے لیے ان کے فکری سفر اور تاریخی سیاق و سباق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ وہ برطانوی استعمار کے بعد کے ہندوستان میں پروان چڑھے تھے، جہاں مسلمان سیاسی مغلوبی اور معاشی پسماندگی کا بری طرح شکار رہیں۔ ان حالات نے ان کی فکری تشکیل پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ انہوں نے جماعت اسلامی سے وابستگی کے دوران جو نظریاتی اختلافات پیدا کیے، وہ دراصل روایتی اسلامی سیاسی فکر اور جدید سیکولر حالات کے درمیان سازگاری کی کوشش تھی۔ ان کا "مثبت سوچ” کا فلسفہ درحقیقت ہندوستان کے متنوع سماج میں مسلمانوں کے بقاء کی حکمت عملی کے طور پر ابھرا، جہاں اقلیتی حیثیت میں مزاحمت کے بجائے موافقت کو ترجیح دی گئی۔ یہ حالات کی مجبوری تھی جس نے ان کے
فکری ڈھانچے کو تشکیل دیا۔ ‎

مولانا وحید الدین خان کی تفسیری اسلوب کو ان کے فکری منہج سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان کی معروف تفسیر "تذکیر القرآن” درحقیقت ان کے مخصوص فکری فلٹر سے گزر کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے قرآنی آیات کی تفسیر میں سیاسی اور اجتماعی احکامات کے بجائے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں پر زور دیا۔ مثال کے طور پر، جہاد کے تصور کو انہوں نے داخلی روحانی جہدوجہد تک محدود کرنے کی کوشش کی، جبکہ اجتماعی اور سیاسی اصلاح کی جدوجہد کے پہلو کو تقریباً نظرانداز کر دیا۔ اسی طرح، امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے اسلام کے بنیادی فرائض کی تفسیر میں بھی انہوں نے انفرادی سطح تک ہی خود کو محدود رکھا، اجتماعی اور سیاسی سطح پر ان کے اطلاق کو نظرانداز کیا۔ یہ تفسیری اپروچ درحقیقت ان کے سیکولر اور غیر سیاسی تصور کی عکاسی کرتی ہے۔ ‎

مولانا وحید الدین خان کے افکار و نظریات کا نئی نسل پر گہرا اثر ہوا ہے،خاص طور پر شہری تعلیم یافتہ طبقے میں۔ ان کے "مثبت سوچ”، "صبر و تحمل” اور "اعلیٰ اخلاق” کے پیغام نے نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد کو متاثر کیا ہے جو کہ انتہا پسندی اور تشدد سے بیزار ہے۔ تاہم، ان کے افکار سے جڑے کچھ سنگین خطرات بھی ہیں۔ سیاسی بے حسی، ظلم کے خلاف مزاحمت سے گریز، اور سیکولر نظام کے ساتھ مکمل مطابقت جیسے پہلو نئی نسل کو عملی زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے میں ناکارہ بناتے ہیں۔

مستقبل میں، مولانا کی فکر کے مثبت پہلو (جیسا کہ اخلاقیات، روحانیت، اور دعوت) کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے فکری خلل کی مختلف شکلوں کو (جیسا کہ اسلام کے سیاسی پہلو سے انکار اور ظلم کے سامنے مکمل سکوت) کو درست کرنا ممکن ہے۔ اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان کی تحریروں کو متوازن نقطہ نظر سے پڑھا جائے اور دوسرے اسلامی مفکرین (جیسا کہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ، ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم و مغفور اور پروفیسر خورشید احمد مرحوم و مغفور وغیرہ) کی آرا کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تاکہ ایک متوازن اسلامی نقطہ نظر تشکیل دیا جا سکے۔

ان کا بنیادی فکری ڈھانچہ مختلف قسم کے مغالطوں کا مرکب تھا ہم چند ایک کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں۔

1- ان کا نظریہ بنیادی طور پر دو متصادم دھاروں کے درمیان کشمکش میں رہتا۔ ایک الحاد، دوم سیکولرزم۔ وہ الحاد کا شدید ترین مخالف اور کائنات کے بارے میں مذہبی توجیہ کا گرم جوش حامی تھا لیکن دوسری ہی جانب وہ مذہب کا زندگی میں جزوی لحاظ سے تو قائل تھا لیکن مجموعی طور پر مذہبی عملداری (اسلامی نظام حیات اور اس کے نفاذ کا تصور اور جدوجہد) کا قائل نہیں تھا۔

مختصراً وہ انسانوں کے سامنے مذہب کا مقدمہ لڑ رہا تھا لیکن مسلمانوں کے مقابلے میں سیکولرزم کا۔ وہ انسانوں کو مذہب کی صداقت کا درس دیتا تھا لیکن خود مسلمانوں کو سیکولرزم کا سبق پڑھا رہا تھا۔

2- وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو انفرادی زندگی میں تھوڑی بہت حرارت بہم پہنچانے والا ایک روایتی مذہب تو مانتا تھا لیکن اسے ایک مکمل نظام حیات یقین نہیں کرتا تھا۔ زندگی اور دنیا کے پچھتر فیصد معاملات ان کے فکر میں دین کی عملداری سے باہر رکھنے والے تھے۔ وہ ببانگ دہل سیکولرزم کی تعریف کرتے اور اسے تاریخی اعتبار سے ایک آئیڈیل حالت سمجھتے۔ دین کا غالب ترین حصہ ان کے نذدیک عقلی برتری، روحانی تجربے، ذہنی حمایت اور بلند تر اخلاقی ذوق کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ مختصر یہ کہ وہ مذہب کے آڑ میں سیکولرزم کے بہت بڑے عالمبردار تھے۔

3- وہ ظالم اور مظلوم کی کشمکش، غربت اور امارت کے احوال میں مورد الزام ہمیشہ مظلوم اور غریب کو سمجھ رہے تھے۔ وہ ظلم اور مظلومی، طاقت اور کمزوری، غربت اور امارت کو "تاریخی عمل” کا نتیجہ قرار دیتے تھے اور اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ مظلوم، کمزور اور غریب صرف اور صرف پیش آمدہ حالات پر بس صبر کریں اور خواہ کمزور طبقات یا عناصر کے ساتھ جتنا بھی ظلم ہو یا بے رحمی کا سلوک ہو انہیں یکطرفہ طور پر صبر اور اعراض سے کام لینا چاہیے اور کوئی ایسا کام یا حرکت بالکل نہ کریں کہ جس سے ظالم، طاقتور اور امیر کہیں کبیدہ خاطر ہو۔ انہوں نے اپنے سفرناموں اور کتابوں میں بکثرت فلسطینیوں، کشمیریوں اور افغانوں کی مزاحمت پر تو ان کو خوب لتاڑا لیکن اسرائیل، بھارت اور امریکہ یا روس کے ریاستی مظالم پر انہوں نے کبھی بھی کھل کر مذمت نہیں کی۔

وہ کشمیریوں کے بارے میں کہتے تھے کہ "کشمیر کے باشندے آزادی کے نہیں بلکہ بربادی کے طلبگار ہیں”، فلسطینیوں کے بارے میں کہتے تھے کہ "وہ ناممکن کے چٹان سے سر ٹکرا رہے ہیں”، افغانوں کے بارے میں کہتے تھے کہ ” بہادر ہونا اچھی بات ہے لیکن ضرورت سے زیادہ بہادر ہونا اتنی ہی بری بات”۔

4- وہ سیاست کو شور شرابہ اور مزاحمت کو حماقت کہہ رہے تھے یہ ایک بہت بڑا مغالطہ تھا جو انہیں لاحق ہوا لیکن وہ اس پر الہام کی طرح اصرار کرتے تھے۔ وہ تواتر سے یہ بھی کہتے تھے کہ "اسلام دعوت کا دین ہے لیکن مولانا مودودی نے اس کو سیاست کا دین بنا کر رکھ دیا”۔ دین اگر صرف "دعوت” ہی رہ جائے اور اس کے آگے پیچھے کوئی عملی نظام اور پروگرام نہ ہو تو وہ زندگی میں کس کام کا؟۔ کیا انسانوں کے حال احوال اور نفسیات اس قدر سادہ ہیں کہ انہیں بس دعوت پہنچ جائے گی اور وہ سیدھے راستے پر خود بخود آجائیں گے ایسا اگر ممکن ہوتا تو پیغمبروں کو کیا ضرورت تھی کہ وہ بار بار مختلف محاذ گرم رکھتے۔ آپ کسی بھی دین یا نظام زندگی سے سیاست اور انصاف کے خاطر بوقت ضرورت مزاحمت مائنس کر لیں تو پیچھے جو چیز بچتی ہے وہ صرف اور صرف رہبانیت ہوتی ہے یا پھر مجنونیت۔

5- وہ بنیادی طور پر ایک صوفی، مصنف، ادیب اور ہندو اکثریت سے آخری حد تک مرعوب قسم کا مسلمان تھا جو ہر چیز کو اکثریت کی نظر سے دیکھتا تھا اور اس بات پر ضرورت سے زیادہ زور بھی دیتا تھا کہ بس اسے ٹھیک سمجھا جائے جیسا کہ اکثریت ٹھیک سمجھتی ہے اور اسے غلط کہا جائے جو اکثریت کی نزدیک غلط ہے صرف یہی نہیں بلکہ وہ توقع رکھتے تھے کہ ان کے خیالات کو حرف آخر سمجھا جائے اور اس سے مختلف نقطہ نظر کو لازماً پاگل پن اور لاحاصل شور شرابہ۔ وہ لامتناہی صبر اور اعراض کے نتیجے میں انفرادی سطح پہ ملنے والی معمولی سی رعایات کو معراج خیال کرتے تھے اور انہیں "منزل مراد” گردانتے تھے۔

6- انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ "مسٹر جناح قوم پرستانہ سیاست کی بدولت اور مولانا مودودی مغربی تہذیب کے ردعمل کی نفسیات کے تحت نمایاں ہوئے ہیں لیکن میں خالص فطری ماحول میں پروان چڑھا ہوں اور چیزوں کو ویسے ہی دیکھتا ہوں جیسے کہ وہ ہیں اس لیے مثبت سوچ کے تحت کام کر رہا ہوں جبکہ دوسرے لیڈرز منفی نفسیات کے تحت کام کر رہے ہیں”۔ یہ ایک مبالغہ آمیز مغالطہ ہے جس میں مولانا وحید الدین خان آخر دم تک مبتلا رہے۔

اپنی کتاب "فکر اسلامی” میں لکھتے ہیں!

"اسلام کا اصل مقصد دل کی دنیا بدلنا ہے نہ کہ ظاہری ڈھانچہ۔ اسلام کا اصل مقصد اظہار ہے اسلام کا اصل مقصد اقتدار نہیں۔ اسلام کا نشانہ نظریاتی غلبہ ہے نہ کہ سیاسی۔ اسلام کا اصل مقصود جنت ہے اسلام کا اصل مقصود حکومت نہیں”۔

اس ایک اقتباس میں وہ بنیاد موجود ہے جس بنیاد پر ہم نے ان کو ایک صوفی، مصنف، ادیب اور مغلوب الفکر قسم کا مسلمان قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم باالصواب

اس کے باوجود میں اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں کہ موصوف کو اللہ تعالیٰ نے خوبصورتی سے بات بنانے اور کرنے کا سلیقہ عطا کیا تھا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر ڈیڑھ دو سو کتابیں تصنیف کیے ہیں۔ تذکیر القرآن (تفسیر دو جلدیں)، راز حیات، تعمیر حیات، اللہ اکبر، الاسلام، پیغمبر انقلاب، مذہب اور سائنس، مذہب اور جدید چیلنج، اسلام دورِ جدید کا خالق، عورت، خاتون اسلام، علماء اور دور جدید اور عقلیات اسلام ان کی مشہور کتب ہیں۔ میں نے ان کے مطالعے سے ایک سبق سیکھا ہے اور اچھا اثر لیا ہے وہ یہ کہ "سماجی زندگی میں الجھنے الجھانے والے حالات و اسباب سے ممکنہ حد تک دامن بچا کر آگے بڑھوں”۔

مولانا وحید الدین خان جماعت اسلامی ہند کے بالکل اولین وابستگان میں شامل تھے اور کئی برس تک شعبہ نشر و اشاعت میں خوب محنت اور خلوص سے کام کیا۔ جماعت اسلامی سے الگ ہونے کے بعد "الرسالہ مشن” کے نام سے ایک تحریک (جس کا مقصد دعوت اسلامی اور اس کے لیے سازگار ماحول بنانا ہے) اور مرکز "امن و روحانیت” کے نام سے ایک ادارہ (جس کا مقصد دنیا بھر میں امن اور روحانیت کو فروغ دینا ہے) چلا رہے تھے۔ مولانا وحید الدین خان جنوری 1925ء کو بھارت کے شہر اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے تھے، معروف دینی ادارے "مدرستہ الاصلاح” اعظم گڑھ سے تعلیم حاصل کی، ذاتی محنت اور دلچسپی کی بدولت انگریزی اور عربی زبانیں سیکھ لیے اور اپنی خاص صلاحیت یعنی تحریر و تصنیف سے خوب محنت کے کام لیا اور بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا یہاں تک کہ 12 اپریل 2021 کو کووڈ 19 کے سبب دہلی کے ایک ہسپتال میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے انہوں نے چار بچوں سمیت بڑی تعداد میں عقیدت مند سوگوار چھوڑے ہیں۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی وجود خیر سے خالی نہیں۔ مولانا کے انداز فکر سے اختلاف کے ایک ہزار ایک وجوہ موجود ہیں لیکن ان کی کتب، دعوت اور پیروکاروں میں بھی خیر کا امکان واضح طور پر پایا جاتا ہے ایک جگہ لکھا ہے "میری علمی اور فکری جستجو کا اگر سب سے بڑا نتیجہ کوئی ہے تو وہ مثبت سوچ ہے”۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ ان کے حسنات قبول فرمائے اور سیئات سے صرف نظر فرمائے اور یہ کہ ان کے غیر حقیقی افکار کے اثرات بد سے اپنے بندوں کی حفاظت فرمائے”۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے