ایک سینئر اینکر کہتے ہیں:
"میرے پاس نوکری نہیں تھی۔ ایک چینل کے مالک دوست نے کہا: میرے چینل میں پروگرام کرلو۔ میں نے کہا: مجھے پروگرام کرنا نہیں آتا۔
تو بولے: جو کر رہے ہیں، انہیں کون سا آتا ہے؟ ”
اور وہ اینکر بن گئے۔
دوسرے صاحب سمجھتے تھے کہ ان کی شکل بالی ووڈ سپر اسٹار جیسی ہے۔
شوبز میں اینٹری کے لیے ایک جاننے والے سے ملے۔
جاننے والے کا ہاتھ نیوز میں پڑتا تھا۔
اس نے کہا: فی الحال اینکر بن جاؤ۔
اور وہ اینکر بن گئے۔
ہمارے یہاں گنے چنے اینکر ہیں جو باقائدہ صحافت کر چکے ہیں۔
باقی سب کی کچھ ایسی ہی کہانیاں ہیں۔
کسی نے مارننگ شو سے صحافت میں قدم رکھا۔
کسی نے ککنگ شو سے۔
کئی خبریں پڑھتے پڑھتے نیوز اینکر بن گئے۔
جیسے میڈیکل اسٹور پر نسخے پڑھ کر دوائیاں دینے والا ڈاکٹر بن جائے۔
ڈاکٹر، وکیل، انجینئر ہر پروفیشن کے لیے تعلیم اور تجربہ ضروری ہے۔
لیکن اینکر بننے کے لیے صرف ایک اچھا ریفرنس کافی ہے۔
چاہے تعلیم ہو، نہ تجربہ۔
چند بڑے چینلز پر ایڈیٹوریل چیک ہے۔
باقی تو اللہ اللہ۔
آپ نے بس کسی کو ایک گھنٹے کی ٹی وی سکرین دے دی، اب وہ جو چاہے کرے۔
وی لاگز کے "لونڈے لپاڑے” ٹی وی پر "سینئر تجزیہ کار” بنا کر بٹھا دیئے جاتے ہیں۔
لگتا ہے مقابلہ ہے: کون قوم کو سب سے زیادہ "سینئر تجزیہ کار” دے گا؟
اصل صحافی خبر کے پریشر سے بنتا ہے۔
مسنگ کی ٹینشن۔
ڈیڈ لائن کا پریشر۔
خبر bounce ہو جانے کا خوف۔
جو ان پریشرز سے نہیں گزرا، وہ اچھا صحافی نہیں بن سکتا۔
یہیں سے خبر کی سینس آتی ہے بڑی چھوٹی، اہم غیر اہم۔
فیلڈ کی دھول، جدوجہد، خطرہ یہی صحافت ہے۔
اینکر اس سب سے کوسوں دور ہوتے ہیں اور دور ہی رہنا چاہتے ہیں۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔
یہ اینکر اپنے ساتھ "سینئر صحافی” کا ٹیگ تو لگا لیتے ہیں۔
لیکن ان کے لیے نہ صحافی اہم ہے، نہ صحافت۔
کبھی کسی اینکر نے آواز اٹھائی ؟
اپنے ادارے سے صحافیوں کو نکالے جانے کے خلاف؟
➖ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف؟
➖ کالی پٹی باندھ کر پروگرام کیا؟
➖ پروگرام میں اپنے ساتھیوں کے لیے دو الفاظ بولے؟
تو بات یہ ہے۔
جس کا خبر سے کوئی لینا دینا نہیں۔
جسے صحافی اور صحافت سے کوئی غرض نہیں۔
وہ شوبز اسٹار تو کہلا سکتا ہے۔
مگر صحافی نہیں۔