واپڈا کا شکریہ ؛ آپ نے موم بتی انڈسٹری بچا لی

مئی کا مہینہ شروع ہوتے ہی پاکستان میں تین چیزیں یقینی ہو جاتی ہیں . سورج کا غصہ، مچھروں کی خوشی، اور لوڈشیڈنگ کی واپسی۔ باقی دنیا میں موسمِ گرما کو "سمر ویکیشن” کہتے ہیں . ہمارے ہاں اسے "صبر کا سیزن” کہنا زیادہ مناسب ہے۔ اور ہم پاکستانی یہ سیزن ہر سال بڑے شان سے گزارتے ہیں۔

صبح آنکھ کھلتی ہے تو لگتا ہے کسی نے بستر کے نیچے چولہا جلا دیا ہے۔ پنکھا چل رہا ہے مگر ہوا نہیں دے رہا . تندور کی گرم سانسیں دے رہا ہے۔ آپ ٹھنڈا پانی پیتے ہیں . وہ بھی گرم نکلتا ہے کیونکہ فریج رات سے بند ہے۔ نہانے جاتے ہیں تو نل سے گرم پانی آتا ہے . شاید پانی بھی گرمی سے تنگ آ گیا ہے۔ نہانے کے باوجود پسینہ آتا ہے تو انسان فلسفی بن جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ نہانے کا فائدہ کیا۔

اب آتے ہیں اس موسم کے اصل ہیرو کی طرف ، مچھر۔ یہ وہ مخلوق ہے جو نہ گرمی سے ڈرتی ہے نہ لوڈشیڈنگ سے بلکہ لوڈشیڈنگ تو اس کی سہیلی ہے۔ جیسے ہی واپڈا بجلی بند کرتا ہے، مچھر فوری حاضر جیسے پہلے سے اطلاع ہو۔ لگتا ہے دونوں کا آپس میں کوئی خفیہ گروپ ہے جس میں میسج آتا ہے "بجلی گئی ڈیوٹی شروع کرو۔”

مچھر کی محنت اور لگن قابلِ رشک ہے۔ نہ کوئی چھٹی، نہ کوئی عذر، نہ کوئی تھکاوٹ شام ہوتے ہی ڈیوٹی شروع اور صبح تک جاری۔ ایک کان کے پاس آ کر ایسی موسیقی سناتا ہے کہ نیند فوراً بھاگ جاتی ہے۔ آپ ہاتھ مارتے ہیں . وہ بچ جاتا ہے۔ دوبارہ آتا ہے . آپ پھر ہاتھ مارتے ہیں۔ یہ سلسلہ رات بھر جاری رہتا ہے۔ صبح آئینے میں دیکھتے ہیں تو چہرہ بتاتا ہے کہ رات کیسی گزری۔

ڈینگی کا مچھر تو اس قدر ذہین ہے کہ سپرے کا اعلان سنتے ہی غائب ہو جاتا ہے اور سپرے والے کے جاتے ہی واپس آ جاتا ہے . بالکل کسی تجربہ کار سیاستدان کی طرح جو مشکل وقت میں چھپ جائے اور وقت گزرنے پر واپس آ جائے۔ مچھر کی اس ذہانت پر تحقیق ہونی چاہیے . شاید کچھ سیکھنے کو ملے۔

رات کو سونے کی کوشش کا منظر کچھ یوں ہوتا ہے . گرمی عروج پر، بجلی غائب، پنکھا بند اور مچھر پوری تیاری کے ساتھ موجود۔ چادر اوڑھیں تو گرمی لگتی ہے، چادر ہٹائیں تو مچھر حملہ کرتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستانی ہر رات ایک نئی حکمتِ عملی سوچتا ہے اور ہر صبح ہار کر اٹھتا ہے . مگر پھر بھی مسکراتا ہے۔ یہی ہماری اصل طاقت ہے۔

اور اس سارے منظر میں واپڈا کا کردار بھی کم نہیں۔ جب رات کو موم بتی جلاتے ہیں تو دل میں ایک عجیب سا احساسِ تشکر جاگتا ہے۔ واپڈا نے موم بتی بنانے والوں کا کاروبار بچایا ہوا ہے . یہ چھوٹی بات نہیں۔ موم بتی کی روشنی میں جو رومانوی ماحول بنتا ہے وہ ٹیوب لائٹ میں کہاں نصیب ہوتا۔ گھر والے ساتھ بیٹھتے ہیں، باتیں کرتے ہیں . واپڈا نے خاندانی نظام بھی بچایا ہوا ہے۔ واپڈا کا شکریہ!

سب سے زیادہ قابلِ رحم حال ہمارے طالبعلموں کا ہے۔ امتحانات کا موسم اور گرمی ہر سال ساتھ آتے ہیں . جیسے دو جگری دوست ہوں جو ایک دوسرے کے بغیر نہ رہ سکتے ہوں۔ طالبعلم کتاب کھولتا ہے، بجلی جاتی ہے۔ موم بتی جلاتا ہے، ہوا بجھا دیتی ہے۔ موبائل کی روشنی میں پڑھتا ہے، بیٹری ختم ہو جاتی ہے۔ چارجر لگائے تو بجلی نہیں۔ اوپر سے مچھر الگ کان میں گنگناتے رہتے ہیں . شاید پڑھائی میں حوصلہ افزائی کر رہے ہوں۔ ایسے حالات میں پاس ہونے والے طالبعلم کو واقعی اولمپکس میں گولڈ میڈل ملنا چاہیے۔

مگر سچ یہ ہے کہ پاکستانی قوم دنیا کی سب سے زیادہ حوصلہ مند قوم ہے۔ 45 ڈگری گرمی میں بھی چائے پیتے ہیں . کیونکہ چائے ہر موسم میں واجب ہے۔ مچھروں کے ساتھ رہنا سیکھ لیتے ہیں، اندھیرے میں بھی راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں اور صبح اٹھ کر پھر وہی مسکراہٹ چہرے پر سجا لیتے ہیں۔ دنیا کی کوئی گرمی، کوئی مچھر اور کوئی لوڈشیڈنگ اس قوم کا حوصلہ نہیں توڑ سکتی۔

گرمیوں میں بس ایک ہی دعا ہوتی ہے . یا اللہ! رات کو ذرا ہوا چلا دے، مچھروں کو کہیں اور مصروف رکھ، اور بجلی بھی تھوڑی دیر کے لیے دے دے۔ اور ہاں . واپڈا کا بھی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے