ذمہ داری سے فرار اور قومی تنزل

ہمیں اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ ہمارا ملک خود بخود ترقی کرے گا یا سیدھی راہ پر چل پڑے گا، کیونکہ ترقی کا دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ کسی ملک کے لوگ اپنی ذمہ داریاں کس حد تک نبھاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں ملک بدلنے کے صرف نعرے لگائے جاتے ہیں، مگر ذمہ داریاں نبھانے کی بات تک نہیں کی جاتی۔ اسی لیے ہمارے موجودہ رویّوں کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک مستقبل میں مزید تنزلی کا شکار ہوگا۔ یہ ناامیدی کی بات نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔

مثلاً اگر کسی شخص کے ذمے کوئی کام ہو اور وہ آج اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے، دوسرے دن بھی نہ کرے، اور یہی اس کی روزمرہ عادت بن جائے کہ وہ مسلسل غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا رہے، تو پہلے دن اس کی غیر ذمہ داری سے جو بگاڑ پیدا ہوگا، دوسرے دن وہ مزید بڑھ جائے گا، اور تیسرے دن اس سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔

ایسی صورتِ حال میں جب تک متعلقہ ذمہ دار شخص ذمہ داری نبھانے کے حوالے سے غیر معمولی سنجیدگی اور محنت کا مظاہرہ نہیں کرے گا، تب تک صرف یہ نہیں کہ بگاڑ برقرار رہے گا بلکہ وہ دن بدن بڑھتا جائے گا۔ اور اسی صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخر ایک وقت ایسا آئے گا کہ جو لوگ نئے سرے سے اس بگاڑ کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری لیں گے، انہیں محسوس ہوگا کہ اس خرابی کا خاتمہ اب ان کے بس کی بات نہیں رہا۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم مزید غلط فہمیوں سے نکلیں اور ہر شخص اپنی ذمہ داری نبھانے میں غیر معمولی پھرتی اور سنجیدگی دکھانے کے لیے عملی طور پر تیار ہو جائے۔ خصوصاً حکمرانوں کے انتخاب اور ذاتی ذمہ داریوں کے سلسلے میں ہمارے کندھوں پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس میں ہمیں اتنا ہی حساس ہونا چاہیے جتنا ایک ڈاکٹر اوپن ہارٹ سرجری کے دوران حساسیت اور احتیاط کا مظاہرہ کرتا ہے۔

کچھ لوگ یہاں نئے نظاموں کے نام لے کر ملکی مسائل کے حل کی بات کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ کمیونزم، سیکولرزم یا فلاں ازم کا یہاں اطلاق کیا جائے تو ہمارے مسائل ان کے ذریعے حل ہو جائیں گے۔ بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ دورِ جدید ہے اور ہم نے مذہب کو بیچ میں لایا ہے، اس وجہ سے ہم زوال کا شکار ہیں۔ مگر ہمارے مسائل کی یہ تشخیص اور حل کے لیے پیش کردہ خیالات معروضی حقائق کے خلاف ہیں۔ یہ حضرات ہمارے مسائل کی جو بنیاد بیان کرتے ہیں، وہ نہ تو ہمارے مسائل کی اصل بنیاد ہے اور نہ ہی ان کا تجویز کردہ حل درست ہے۔

بلکہ ہمارے مسائل کا حل سیدھا سادہ اور آسان ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہمارے اندر اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو جائے، اور ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں وہ عملی رویہ اختیار کرے جو ذمہ داری نبھانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے