کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کی تعلیم یافتہ عوام میں پوشیدہ ہوتا ہے، اور جب بات خواتین کی تعلیم کی ہو تو اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت نہ صرف خود باشعور ہوتی ہے بلکہ وہ پورے خاندان اور آنے والی نسلوں کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم کو ترقی، خوشحالی اور ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سی لڑکیاں تعلیم جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ کچھ علاقوں میں غربت، فرسودہ رسم و رواج اور کم عمری کی شادیوں کی وجہ سے والدین لڑکیوں کی تعلیم کو ضروری نہیں سمجھتے۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ خواتین کا اصل کام صرف گھر سنبھالنا ہے، حالانکہ تعلیم یافتہ عورت گھر اور معاشرے دونوں کو بہتر انداز میں سنبھال سکتی ہے۔
تعلیم خواتین کو خود اعتمادی دیتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی عورت اپنے حقوق اور فرائض کو بہتر طریقے سے سمجھتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر سکتی ہے، صحت اور صفائی کے اصولوں پر عمل کرتی ہے اور معاشی طور پر بھی خاندان کا سہارا بن سکتی ہے۔ آج خواتین ڈاکٹر، استاد، انجینئر، صحافی اور مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ یہ سب تعلیم کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو وہاں خواتین کو مردوں کے برابر تعلیمی مواقع دیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ممالک ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں، لیکن ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ دیہی علاقوں میں مزید اسکول اور کالجز قائم کرے، جبکہ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بیٹیوں کی تعلیم کو بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ سمجھیں۔
اسلام نے بھی علم حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔ دینِ اسلام میں مرد اور عورت دونوں کے لیے علم حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے خواتین کی تعلیم کی مخالفت دراصل معاشرے کی ترقی کی مخالفت ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم ایک مضبوط، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ایک تعلیم یافتہ عورت صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ ہوتی ہے۔ جب خواتین تعلیم یافتہ ہوں گی تو قوم خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گی۔