ایک وقت تھا جب کتاب کو انسان کا بہترین دوست سمجھا جاتا تھا۔ لوگ اپنے فارغ وقت میں کتابیں پڑھتے تھے، نئی باتیں سیکھتے تھے اور اپنے علم میں اضافہ کرتے تھے۔ کتابیں انسان کی سوچ کو بہتر بناتی تھیں اور زندگی کو سمجھنے میں مدد دیتی تھیں۔ لیکن آج حالات بدل گئے ہیں۔ اب کتابوں کی جگہ موبائل فون، سوشل میڈیا اور چھوٹی ویڈیوز نے لے لی ہے۔
آج کی نئی نسل کے پاس معلومات تو بہت زیادہ ہیں، لیکن گہرا علم کم ہوتا جا رہا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیوز اور مختصر پوسٹس وقتی تفریح تو دیتی ہیں، مگر یہ سوچنے اور سمجھنے کی عادت پیدا نہیں کرتیں۔ کتاب انسان کو غور کرنے کی عادت دیتی ہے، صبر سکھاتی ہے اور سوچ کو بہتر بناتی ہے۔ کتاب پڑھنے سے انسان میں برداشت اور سمجھنے کی صلاحیت بھی بڑھتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے گھروں اور اسکولوں میں کتاب پڑھنے کی عادت کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے گھر اور اردگرد دیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں کتابوں کا استعمال نہیں ہوگا تو بچے بھی کتابوں سے دور ہو جائیں گے اور صرف موبائل پر وقت گزاریں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوبارہ کتابوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ روزانہ صرف بیس سے تیس منٹ کتاب پڑھنے سے انسان کی سوچ بدل سکتی ہے اور اس کی شخصیت بہتر ہو سکتی ہے۔ کتابیں انسان کو اچھا انسان بناتی ہیں اور صحیح راستہ دکھاتی ہیں۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قومیں صرف ٹیکنالوجی سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ علم، شعور اور سمجھ سے ترقی کرتی ہیں۔ علم حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ کتابیں ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل بہتر ہو تو ہمیں انہیں دوبارہ کتابوں سے جوڑنا ہوگا۔