‎ نوجوان پاکستان چھوڑ کیوں رہے ہیں؟

آج کل پاکستان کے نوجوانوں میں بیرونِ ملک جانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یونیورسٹیوں، کوچنگ سینٹرز اور سوشل میڈیا پر اکثر یہی گفتگو سننے کو ملتی ہے کہ کون سا ملک بہتر ہے اور وہاں مستقبل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ بیرونِ ملک جانا اب صرف ایک خواب نہیں بلکہ نوجوان نسل کی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔

‎تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوجوان ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل چاہتے ہیں، مگر جب انہیں اپنے ملک میں محدود روزگار کے مواقع نظر آتے ہیں تو مایوسی بڑھنے لگتی ہے۔ ڈگری حاصل کرنے کے باوجود مناسب ملازمت نہ ملنا نوجوانوں کو ہجرت کی طرف مائل کر رہا ہے۔

‎رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک سال کے دوران لاکھوں پاکستانی بہتر روزگار کے لیے مختلف ممالک کا رخ کر چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد نوجوانوں اور ہنر مند افراد کی ہے، جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔

‎معاشی مشکلات، مہنگائی اور پیشہ ورانہ عدم استحکام اس رجحان کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ نوجوان محسوس کرتے ہیں کہ ان کی صلاحیتوں کو وہ مواقع نہیں مل رہے جن کے وہ مستحق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونِ ملک تعلیم اور ملازمت انہیں ایک نئی امید دکھاتی ہے۔

‎تاہم اس صورتحال کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔ جب تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان ملک چھوڑ دیتے ہیں تو اسے "برین ڈرین” کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک اپنی قابل افرادی قوت سے محروم ہو جاتا ہے اور ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نوجوان ہی ملک میں نہ رہیں تو مستقبل کی تعمیر کون کرے گا؟

‎ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو اپنے ملک میں بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ روزگار کے نئے امکانات، ہنر کی تربیت اور میرٹ پر مبنی نظام نوجوانوں کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔ اگر انہیں یقین ہو کہ محنت کا صلہ یہیں ملے گا تو شاید ہجرت مجبوری کے بجائے ایک اختیار بن جائے۔

‎پاکستان کے نوجوان مایوس نہیں بلکہ پُرامید ہیں۔ انہیں صرف ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں۔ اگر حالات بہتر بنائے جائیں تو ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں نوجوان بیرونِ ملک جانے کے بجائے اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے کو ترجیح دیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے