آبنائے ہرمز بحران: بھارت پر اثرات

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی نے ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ جدید عالمی معیشت محض مالیاتی اعداد و شمار یا تجارتی معاہدوں کا نام نہیں بلکہ توانائی، بحری راستوں اور اسٹریٹیجک جغرافیے کے ایک نہایت نازک توازن پر قائم ہے۔ ایران کے گرد ابھرتی ہوئی عسکری صورتحال اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت نے عالمی اقتصادی نظام میں اضطراب کی نئی لہریں پیدا کر دی ہیں، جن کے اثرات خصوصاً اُن ممالک پر زیادہ شدت سے مرتب ہو رہے ہیں جو اپنی توانائیاتی ضروریات کے لیے بیرونی سپلائی لائنز پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں بھارت کی حالیہ معاشی بے چینی اور حکومتی سطح پر کفایت شعاری کے اشارے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب اور اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاسوں میں عوام کو غیر ضروری اخراجات محدود کرنے، ایندھن کی بچت اختیار کرنے اور کم از کم ایک سال تک سونے کی خریداری سے اجتناب برتنے کی اپیل کی ہے۔ اگرچہ اس نوعیت کے بیانات کی جامع سرکاری تفصیلات محدود ہیں، تاہم ان سے یہ تاثر ضرور ابھرتا ہے کہ نئی دہلی کو عالمی توانائیاتی بحران کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے شدید تشویش لاحق ہے۔

عالمی معیشت میں بھارت کی حیثیت ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی صنعتی اور تجارتی قوت کی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ بھارتی اقتصادی ڈھانچہ توانائیاتی درآمدات پر گہرا انحصار رکھتا ہے۔ خام تیل، مائع قدرتی گیس اور دیگر توانائیاتی وسائل کی ایک بڑی مقدار خلیجی خطے سے حاصل کی جاتی ہے، جبکہ ان سپلائی لائنز کا بنیادی سمندری راستہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ یہی وہ جغرافیائی نکتہ ہے جسے عالمی توانائیاتی شہ رگ کہا جاتا ہے، کیونکہ دنیا کی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی تنگ بحری گزرگاہ سے منسلک ہے۔

ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے جب اس خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں فوری اضطراب پیدا ہوا۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا سب سے پہلا اور گہرا اثر اُن ممالک پر پڑتا ہے جن کا تجارتی توازن پہلے ہی درآمدی بوجھ کے دباؤ میں ہو۔

بھارت بھی انہی معیشتوں میں شامل ہے جہاں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ افراطِ زر، صنعتی لاگت اور کرنسی کی قدر پر بھی دباؤ بڑھا دیتی ہیں۔

اسی پس منظر میں سونے کی خریداری محدود کرنے کی اپیل کو محض ایک علامتی معاشی مشورہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بھارت دنیا کے اُن بڑے ممالک میں شامل ہے جہاں سونا صرف زیور یا سرمایہ کاری نہیں بلکہ سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی تحفظ کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا جاتا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔

ایسے میں اگر حکومت عوام کو سونے کی خریداری محدود کرنے کا مشورہ دیتی ہے تو اس کا مقصد بنیادی طور پر مالیاتی دباؤ میں کمی اور غیر ضروری درآمدات کو محدود کرنا ہوتا ہے۔

اسی طرح ایندھن کے استعمال میں کفایت شعاری کی اپیل بھی ایک وسیع تر معاشی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ “ورک فرام ہوم” جیسے تصورات، جو ماضی میں وبائی حالات کے دوران ایک عارضی انتظام سمجھے جاتے تھے، اب توانائیاتی بچت اور شہری ٹریفک کے دباؤ میں کمی کے تناظر میں دوبارہ زیرِ بحث آ رہے ہیں۔ اگر بڑی شہری آبادیوں میں نقل و حرکت کم ہو تو نہ صرف ایندھن کی کھپت میں کمی آ سکتی ہے بلکہ درآمدی تیل پر انحصار کے اثرات کو بھی جزوی طور پر متوازن کیا جا سکتا ہے۔

کھانے کے تیل کے استعمال میں احتیاط اور بیرونی کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرنے کی اپیل بھی دراصل اسی وسیع معاشی اضطراب کی توسیع ہے۔ جب کسی ملک کو خدشہ ہو کہ عالمی سپلائی چینز متاثر ہو سکتی ہیں تو وہ داخلی خود انحصاری، زرعی کفایت شعاری اور درآمدی متبادل کے تصورات کو زیادہ اہمیت دینا شروع کر دیتا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ موجودہ بحران محض توانائی تک محدود نہیں بلکہ خوراک، زراعت اور صنعتی پیداوار تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم اس پورے منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جدید عالمی معیشتیں اب مکمل تنہائی میں زندہ نہیں رہ سکتیں۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف بھارت یا جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرقی ایشیا، یورپ اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی افراطِ زر میں نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں محفوظ معیشتوں کی طرف منتقل ہونا شروع کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ترقی پذیر معیشتوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ دور میں جغرافیائی سیاست اور معیشت ایک دوسرے سے اس قدر جڑی ہوئی ہیں کہ کسی ایک عسکری واقعے کے اثرات بیک وقت کرنسی مارکیٹ، اسٹاک ایکسچینج، تجارتی راستوں اور عوامی نفسیات تک سرایت کر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ توانائیاتی راہداریوں، مالیاتی منڈیوں اور معلوماتی بیانیوں میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔

بھارت کی حالیہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ معاشی ترقی کے بلند اعداد و شمار کے باوجود توانائیاتی انحصار کسی بھی بڑی معیشت کی کمزور ترین کڑی بن سکتا ہے۔ اگر ایک ریاست اپنی صنعتی رفتار کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے صرف اقتصادی توسیع ہی نہیں بلکہ توانائیاتی تحفظ، سپلائی چین کے استحکام اور داخلی خود کفالت کے اصولوں کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ عالمی معیشت کی بنیاد محض سرمایہ کاری یا مالیاتی پالیسیوں پر نہیں بلکہ جغرافیائی استحکام اور توانائیاتی تحفظ پر بھی قائم ہے۔

موجودہ بحران اس وسیع تر حقیقت کی علامت ہے کہ اکیسویں صدی کی عالمی سیاست میں طاقت کا اصل مرکز صرف عسکری قوت نہیں بلکہ وہ صلاحیت ہے جو کسی ریاست کو معاشی دباؤ، توانائیاتی بحران اور جغرافیائی اضطراب کے باوجود مستحکم رہنے کے قابل بنائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے