کبھی ہمارے گھروں کی پہچان چولہے سے اٹھتی ہوئی خوشبو ہوا کرتی تھی۔ سرسوں کے ساگ کی مہک، مکے کی روٹی کی سادگی، اور دیسی گھی کی خوشبو میں لپٹا ہوا ذائقہ ، یہ سب صرف کھانے نہیں تھے بلکہ ہماری ثقافت کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آج یہی ذائقے آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں سے یوں غائب ہو رہے ہیں جیسے کسی پرانی کہانی کے کردار، جنہیں ہم نے خود ہی بھلا دیا ہو۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر خطہ اپنے منفرد ذائقوں کے لیے پہچانا جاتا ہے۔ پشاور کا نمکین گوشت، پنجاب کا ساگ، سندھ کی بریانی اور بلوچستان کے سادہ مگر لذیذ پکوان ، یہ سب مل کر ایک ایسا ثقافتی نقشہ بناتے ہیں جو دنیا میں ہماری شناخت ہے۔ مگر افسوس کہ یہ شناخت اب دھندلا رہی ہے۔
آج کے دور میں فاسٹ فوڈ کلچر نے ہماری زندگیوں پر اس قدر اثر ڈال لیا ہے کہ پیزا، برگر اور پاستا نہ صرف ہماری روزمرہ خوراک کا حصہ بن چکے ہیں بلکہ ایک اسٹیٹس سمبل بھی بن گئے ہیں۔ بچوں کے لیے خوشی کا مطلب اب کسی دیسی دسترخوان کے گرد بیٹھنا نہیں بلکہ کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جانا ہے۔ والدین بھی مصروفیت اور سہولت کے نام پر انہی چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں، اور یوں ایک پوری نسل اپنے اصل ذائقوں سے ناآشنا ہوتی جا رہی ہے۔
یہ مسئلہ صرف کھانے کا نہیں بلکہ ہماری شناخت کا ہے۔ جب ہم اپنے روایتی کھانوں کو بھولتے ہیں تو دراصل ہم اپنی جڑوں سے کٹتے جا رہے ہوتے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح، جہاں کھانا ثقافت کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے، ہمیں بھی اپنے ذائقوں کو اپنی پہچان کا حصہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ کھانا صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ تاریخ، روایت اور شناخت کا آئینہ ہوتا ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم نے خود ہی اپنے روایتی کھانوں کو “پرانا” اور “غیر جدید” قرار دے دیا ہے، جبکہ فاسٹ فوڈ کو “ایستھیٹک” اور “جدید” سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہمارے دیسی کھانے نہ صرف ذائقے میں بے مثال ہیں بلکہ صحت کے لحاظ سے بھی زیادہ مفید ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں دوبارہ ان روایتی ذائقوں کو زندہ کریں۔ اپنے بچوں کو نہ صرف یہ کھانے کھلائیں بلکہ انہیں ان کے پس منظر اور اہمیت سے بھی آگاہ کریں۔ میڈیا، تعلیمی اداروں اور سوشل پلیٹ فارمز کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ نئی نسل اپنی ثقافت سے جڑی رہے۔
اگر ہم نے آج بھی اس جانب توجہ نہ دی تو وہ دن دور نہیں جب ہماری آنے والی نسلیں ساگ اور مکے کی روٹی کو صرف کتابوں یا تصویروں میں دیکھیں گی۔ اور شاید اس وقت ہمیں احساس ہو کہ ہم نے صرف کھانے نہیں بلکہ اپنی پہچان کھو دی ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم رک کر سوچیں: کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا اپنی ہی جڑوں کو کاٹ رہے ہیں؟ کیونکہ جب ذائقے بدلتے ہیں تو کہانیاں بھی بدل جاتی ہیں، اور جب کہانیاں بدل جائیں تو قوموں کی پہچان بھی مٹنے لگتی ہے