نئے جوند ادبی، ثقافتی و سماجی تنظیم اسلام آباد کا چوتھا "امن ایوارڈ” تقريب

نئے جوند ادبی، ثقافتی و سماجی تنظیم اسلام آباد کی جانب سے چوتھا امن ایوارڈ ادبی و ثقافتی تقريب مورخہ 23 ستمبر 2025 کو منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت معروف دانشور، سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کی جبکہ ممتاز شاعر و ادیب پروفیسر ڈاکٹر اسلم تاثیر مہمانِ خصوصی تھے۔

مہمانانِ اعزاز میں نورالامین یوسفزئی، ڈاکٹر حنیف خلیل، ڈاکٹر طارق دانش، فضل مومند، ڈاکٹر اقبال شاکر، اقبال حسین افکار، ڈاکٹر عالم یوسفزئی اور حسینہ گل شامل تھے۔ اجلاس سہ پہر تین بجے طے تھا، مگر باقاعدہ آغاز شام پانچ بجے ہوا۔ نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے بڑے آڈیٹوریم میں ہال خواتین و حضرات سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

تقریب کی نظامت پروفیسر ڈاکٹر فاروق انجم، نامور صحافی خانی زمان، نورین شمع اور وصال خلیل نے کی۔

تنظیم کے وائس چیئرمین راج مروت نے اپنی شیریں لب و لہجے میں مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ چیئرمین نسیم مندوخیل نے کہا۔

"یہ سب کامیاب تقاریب میرے ساتھیوں کے اخلاص اور پشتونولی کا نتیجہ ہیں۔ ہم ادب و ثقافت کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات پر بھی یقین رکھتے ہیں۔”

انہوں نے یتیم و بے سہارا بچوں کے لیے ایک اسکول بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا اور حاضرین سے تعاون کی اپیل کی۔ اسی موقع پر روشان یوسفزئی کے کینسر زدہ بچے کی مالی مدد کے لیے بھی شرکت کنندگان کو متوجہ کیا گیا۔

سیشن کے دوران افراسیاب خٹک، مہمانِ خصوصی اور دیگر شخصیات نے اجمل خٹک کی سالگرہ کے موقع پر کیک کاٹا۔

ڈاکٹر عالم یوسفزئی نے اجمل خٹک کا نظم "فیصلہ” ترنم کے ساتھ پڑھا جس پر حاضرین نے پرجوش داد دی۔

نورالامین یوسفزئی نے کہا؛

> "پشتو دنیا کی واحد زبان ہے جو صرف زبان نہیں بلکہ ایک آئین اور طرزِ حیات بھی ہے۔”

انہوں نے تجویز دی کہ پشتو ٹپے اور لوک روایتوں کو فنکاروں کے ذریعے مصور کر کے کلینڈر کی شکل میں شائع کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں تک یہ ثقافتی ورثہ محفوظ رہے۔

محترم افراسیاب خٹک نے اپنے خطاب میں فرمایا:

اس تقريب میں ادب بھی ہے، ثقافت بھی ہے اور سماجی خدمت کا جذبہ بھی۔ یہ انہی نوجوانوں کی بڑی کوشش ہے جنہوں نے اپنے محدود وسائل سے ہمیں سب کو یہاں جمع کیا ہے۔ پشتون کلچر میں مادی پہلو بدلتے رہتے ہیں، مگر اس کی روحانی اساس ہمیشہ قائم رہتی ہے۔

بیسویں صدی کے اوائل میں 1921ء میں باچا خان نے اپنے تحریک اور مجلہ پشتون کے ذریعے یہ کوشش کی کہ پشتون خواتین بھی میدانِ زندگی میں آئیں۔ آج اسی کا ثمر ہے کہ نئے جوند تنظيم کے اس تقريب میں کثیر تعداد میں پشتون خواتین شریک ہیں، جن میں شاعرائیں، ادیبائیں، سماجی کارکن اور صحافی بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد آج مکمل طور پر ایک پشتو ټپه کی مانند ہے:
ټپه (پښتو):
یار به مې بل ملک ته پرې نږدم
ورته پيزوان د مارګلې په کنډاٶ ږدمه
ترجمہ (اردو):
یار کو میں پردیس نہ جانے دوں گا،
اس کی نشانی مارگلہ کی چوٹی پر رکھوں گا۔

تاریخ کے سفر میں ہمارے افغانستان کے لوگوں نے لشکر کشیاں کرتے ہوئے سلطنتیں بناتے رہے، جیسے غزنوی، غوری، سوری، لودی، ہوتک اور درانی۔ لیکن سیاسی تحریکیں زیادہ تر ڈیورنڈ کے اس پار شمالی جنوبی پشتونخوا میں چلیں، جیسے پیر روشان، خوشحال خان خٹک اور باچا خان کی تحریکیں، اور اب موجودہ نوجوانوں کے نئے سیاسی بہاؤ۔

آج اگر افغانستان حکمران عورتوں کے حقوق سلب کر رہے ہیں تو ہمیں ان کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔

پشتون فکر کی روح خوشحال خان خٹک کے ان اشعار میں جھلکتی ہے:
شعر (خوشحال خان خټک):
درست پښتون د کندهاره تر اټکه
سره يو د ننګ په کار پټ و اشکار
ترجمہ (اردو):
کابل سے اٹک تک تمام پشتون ایک ہیں،
غیرت کے کام میں سب پوشیدہ و عیاں متحد ہیں۔
شعر (خوشحال خان خټک):
په يوه ژبه ويل سره پښتو کړو
ولے نه شولو د يو بل خبردار
ترجمہ (اردو):
ہم سب ایک ہی زبان، پشتو، بولتے ہیں،
پھر بھی ایک دوسرے کی خبر کیوں نہیں رکھتے؟
پشتون ٹپے اور گیت آریائی ادوار کے اوستا سے ماخوذ ہیں۔ جیسے کہا گیا ہے:
ټپه (پښتو):
سپوږميه کړنګ وهه راخيژه
يار مې د ګلو لو کوي ګوتې ريبينه
ترجمہ (اردو):
اے چاند! جھوم جھوم کے نکل آ،
میرا یار پھول توڑ رہا ہے، کہیں انگلیاں نہ کٹ جائیں۔
اتنڑ بھی اُسی قدیم آریائی دور سے چلا آ رہا ہے۔

میں بے حد خوش ہوں کہ آج یہاں خوشحال خان خٹک کی نئی آواز اور میرے سیاسی رہنما اجمل خٹک کی سالگرہ بھی منائی گئی۔ 1958ء میں ان کی انقلابی نظم "غیرت چغہ” شائع ہوئی جس پر مارشل لا حکومت نے پابندی لگا دی تھی، مگر ہمارے دور کے ساتھیوں نے وہ پورا مجموعہ زبانی یاد کیا۔ ان ہی انقلابی اشعار نے ہمیں متحرک کیا اور 1968ء میں ہم نے پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن قائم کی۔

یہی زندہ قوموں کا وصف ہے کہ اپنے مشاہیر کے علم و فن کو یاد رکھتی ہیں۔ نئے جوند تنظیم کے دوستوں کو میں مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ادب و ثقافت کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت کی بھی راہ اپنائی ہے.ایوارڈز مختلف شعبہ ہائے زندگی ادب، تحقیق، تنقید اور سماجی خدمات پر دیے گئے۔ ان ایوارڈز کو باچا خان، خان شہید عبدالصمد خان، اجمل خٹک اور سرور خٹک کے ناموں سے منسوب کیا گیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ پاکستانی زبانیں کے چیرمین پروفیسر ڈاکٹر عبداللّٰہ جان عابد کو تدوین متن میں صدر خٹک کی معروف کتاب "اعجاز نامہ پر خصوصی ایوارڈ ڈاکٹر صاحب غیر حاضری ان کا یہ ایوارڈ اقبال حسین افکار نے وصول کیا سب سے پہلا ایوارڈ بونیر کے ایک خاندان کو دیا گیا جنہوں نے خاندانی جھگڑے میں جانی نقصان کے باوجود تدفین سے قبل صلح کی اور اپنے مرحومین کی مشترکہ نمازِ جنازہ ادا کی۔

اس تقریب میں میرے استاد اقبال حسین افکار کی شعری مجموعہ "د دردونو نغمہ ګر” کو بھی ایوارڈ دیا گیا جو کہ استاد شفقت مھربانی سے میں نے بھی ساتھ محترمہ حسینہ گل اور جناب وارث خان نایاب کے ہاتھوں وصول کیا۔

خيبر پختونخوا میں خوٸیندے ادبی لخکر خال کے ایوارڈ تنظیم کے ناٸب صدره نگهت رسول اور پریس سیکٹری ساره خان نے وصول کیا۔

اسی طرح اقبال حسین افکار اور ڈاکٹر اقبال شاکر نے، پروفیسر ڈاکٹر علی خیل دریاب، فضل معبود ضیاء، مراد باچا (مرحوم) اور دیگر شخصیات کو بھی ایوارڈز دیے گئے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عالم یوسفزئی اور صدر افراسیاب خٹک نے تقریب کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ:

"یہ اجتماع صرف ادبی یا ثقافتی تقریب نہیں بلکہ سماجی خدمت کا بھی مظہر ہے۔”

اجلاس کے آخر میں موسیقی کا پروگرام بھی ہوا جس میں نوجوانوں نے اتنڑ پیش کیا اور شعرا نے اپنے کلام سنائے۔

یہ تقریب ہر پہلو سے کامیاب رہا۔ پشتو کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کے لکھاریوں کو ایوارڈز دیے گئے اور سماجی خدمات کا جذبہ بھی نمایاں رہا۔ نئے جوند ادبی و ثقافتی تنظیم اسلام آباد نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ وہ صرف ادب نہیں بلکہ سماج کی خدمت میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے