وہ دعائیں جو ہم سے روٹھ گئیں ۔

کچھ عرصہ قبل بہاؤالدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میں ماس کیمونیکیشن میں ایم فل کے لیے داخلہ لیا تو ملتان آنا جانا شروع ہوا۔ ہفتہ اور اتوار کلاس ہوتی تھی ۔ اسلام آباد سے ملتان تقریبا آٹھ نو گھنٹے کا سفر بنتا ہے تاہم میرے پیش نظر یہ بھی تھا کہ ملتان صوفیاء کے ساتھ ساتھ اہل علم و فن کی سر زمین ہے . ایک دور میں ملتان تحریکوں کا گڑھ بھی سمجھا جاتا تھا . جب تک کوئی جماعت ملتان میں اپنا بڑا پاور شو نہیں کرتی تھی ، اسے تائید اور قبولیت عامہ حاصل نہیں ہوتی تھی . پاکستانی سیاست کے پرانے اور نئے بڑے نام یہاں ملتان میں موجود ہیں . اسلام آباد سے اتنا دور ملتان میں داخلہ لینے کے مقاصد میں صرف ایم فل کرنا ہی نہیں تھا بلکہ ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا ارادہ تھا . یہاں کی سیاسی اور مذہبی شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ، مزارات کی زیارت اور اہل علم کے ہاں حاضری دینا بھی اس داخلے کے بنیادی مقاصد میں شامل تھا . اگر چہ میں اس سلسلے کو قائم نہ رکھ سکا تاہم ملتان میں کئی شخصیات سے ملاقاتیں اور دوستیاں ضرور قائم ہو گئیں .

ایک روز جامعہ خیر المدارس کے مہتمم اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری محترم قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کو فون کیا کہ ملتان میں ہوں ، ملنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے وہ کراچی ہیں لیکن حکم دیا کہ ” آپ کو ہر صورت خیر المدارس جانا ہے ” ہم تعمیل میں جامعہ خیر المدارس گئے اور رات نے وہیں قیام کیا ۔

جامعہ کے ناظم حضرت مولانا نجم الحق صاحب نے مدرسے کا دورہ کرایا۔وہ خود ایک با کمال شخصیت ہیں ۔ میری خواہش تھی کہ میں ان کے حوالے سے ایک مضمون لکھوں ، مولانا نجم الحق پاکستان میں پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے خود کش حملوں کے خلاف 2004 میں تحقیقی مقالہ لکھا ، یہ مقالہ کئی عالمی فورمز پر پڑھا گیا۔ آج لوگ اس مقالے سے اپنے مقالے تیار کر تے ہیں لیکن انہیں اس وقت یہ مقالہ لکھنے پر اچھا نہیں کہا گیا ۔

جامعہ خیر المدارس کا خوبصورت اور صاف ستھرا ماحول دیکھ کر خوشی ہوئی . اساتذہ سے ملے۔ اتنا بہترین نظم و نسق آپ کو کم ہی کہیں دکھائی دیتا ہے ۔

خیر المدارس ملتان شیخ الحدیث مولانا خواجہ خیر محمد جالندھری کا لگایا ہوا پودا ہے جس کے سائے میں ہمہ وقت قال اللہ اور قال الرسول کی صدائیں گونجتی ہیں ۔ والد محترم نے بھی کچھ عرصہ خیر المدارس میں پڑھا تھا۔

مدرسے میں واقع قرآن ہال دیکھا ، درختوں کے سائے میں خوبصورت تالاب اور تالاب کے کنارے قدیم طرز تعمیر کی عالیشان مسجد اور مسجد کے سامنے دارلحدیث واقع ہے۔ مسجد کا نیا نقشہ تیار ہو گیا ہے اور اب یہاں نئی مسجد تعمیر کی جائے گی .

ہم نے مولانا خیر محمد جالندھری اور مولانا محمد شریف جالندھری کی قبروں پرفاتحہ خوانی کی ۔

مولانا نجم الحق صاحب نے بتایا کہ دار الحدیث کے عقب میں شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق صاحب رہائش پزیر ہیں.

مولانا تقریبا 60 برس سے جامعہ خیر المدارس میں پڑھا رہے ہیں ۔ ان کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔انہوں نے یہیں سے تعلیم حاصل کی اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے .

ملاقات کی خواہش کی تو انہوں نے طلب فرمایا.مولانا منظور احمد صاحب ،اقبال بالاکوٹی صاحب، مولانا نجم الحق صاحب کے فرزند عداس نجم صاحب، دعوة اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ناصر فرید صاحب ہم سب ان کی خدمت میں اکٹھے حاضر ہوئے ۔ ان کے پاس بیٹھے. کئی باتیں کیں ، انہوں نے زمانہ طالب علمی کے قصے سنائے ۔ میں نے ان سے مدرسے کی خوبصورتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا

” حضرت آپ ضرور خیر المدارس کے رومانوی ماحول کا شکار ہوئے ہیں جو یہاں سے گئے نہیں ، کندھے پر تھپکی دی اور ہنس پڑے ۔

میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ جہاں جاؤں ، صاحبان علم سے خاص طورعلم کی خیرات ضرور حاصل کرتا ہوں .

میری خواہش پر حصول برکت کے لئے انہوں نے بخاری شریف کتاب الایمان سے دو احادیث مجھے پڑھائیں یوں جامعہ خیر المدارس ملتان سے جو علمی تعلق والد محترم کی وساطت سے جاری تھا ، حضرت کے محبتوں کی وجہ سے میرا بھی اس میں حصہ شامل ہوگیا ۔

حضرت نے اصرار کے ساتھ چائے پلائی. مجھے لگا کہ ان کا کمرہ محبتوں کا ایک مرکز تھا جہاں سے نکلنے کو جی نہیں چاہتا تھا. اس سادہ سے کمرے میں ناقابل سکون تھا . لیکن ہم جیسے احمق دماغ کے اکثر دلوں کے سودوں پر دماغ کے سودوں کو ترجیح دے دیتے ہیں اور ساری زندگی خسارے میں گذارتے ہیں.

فرمانے لگے کہ اکستان مسجد کی طرح مقدس ہے. اس میں کسی قسم کا انتشار اور تفرقہ پھیلانا خود اپنے وجود کو عذاب میں دھکیلنے کے مترادف ہے. پھر پاکستان کے حوالے سے رقم کردہ اپنا ایک کتابچہ دیا. جامعہ خیر المدارس کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ اس کتابچے کو کثیر تعداد میں شائع کروا کے تقسیم کروائیں.

نصف گھنٹہ سے زیادہ ان کے صحبت میسر رہی ،ان سے دعاؤں کی درخواست کی. انہوں نے محبت سے بار گاہ خداوندی میں ہاتھ اٹھا کر ہمارے لئے دعا کی . انہوں نے سر پہ اپنا ہاتھ پھیرا اور ہم باہر چلے آئے۔

ایک روز صبح جاگا تو موبائل پر پیغام تھا کہ شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق صاحب اس عارضی دنیا کو اپنے علم و عرفان سے مہکانے کے بعد الوداع ہو چکے ہیں ۔ ذہن میں اتنا سا خیال آیا کہ جانا تو سب نے ہے تاہم کاش ان کے جانے سے پہلے ایک ملاقات اور ہو جاتی ۔ ان کے جنازے میں پورا شہر امڈ آیا تھا ۔ کوئی عہدہ اور نہ سلطنت ، صدیق کی صداقت کی گواہی ملتان کی سوگوار فضا ، آہیں اور سسکیاں دے رہی تھیں۔

مولانا عبد القدوس محمدی صاحب نے لکھا کہ ان کے جانے کے بعد ہم دعاؤں کے ایک اور در سے محروم ہو گئے ۔ واقعی اتنی بے لوث اور محبت بھری دعائیں اور کون دے سکتا ہے ۔ اللہ حضرت کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے متعلقین اور اقربا کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے