خطے کی سیاست ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ چکا ہے، جس میں عاصم منیر اور محسن نقوی کے ساتھ اہم سفارتی اور سیکیورٹی ماہرین بھی شامل ہیں۔ یہ محض ایک رسمی دورہ نہیں بلکہ ایک بڑے سفارتی کھیل کا حصہ ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔
ایران میں اس وفد کی ملاقاتیں نئے سپریم لیڈر، پاسدارانِ انقلاب کے عہدیداران اور حسن خمینی جیسے اہم مذہبی و سیاسی کرداروں سے متوقع ہیں۔ یہ ملاقاتیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پس پردہ بہت کچھ پہلے ہی طے ہو چکا ہے اور اب دنیا کے سامنے ایک “بریک تھرو” لانے کی تیاری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک خطرناک حد تک پہنچ چکی تھی، مگر دونوں اطراف کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ مسلسل محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں۔ امریکہ، جو پہلے ہی مختلف عالمی محاذوں پر الجھا ہوا ہے، ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب لچک دکھانے پر مجبور ہے، جبکہ ایران بھی داخلی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی قابلِ قبول حل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اس سارے منظرنامے میں اسرائیل کا کردار بھی اہم ہے، جسے امریکہ ایک اسٹریٹجک مہرے کے طور پر استعمال کرتا رہے گا تاکہ براہِ راست تصادم سے بچا جا سکے۔ یوں خطے میں طاقت کا توازن ایک نئی شکل اختیار کر رہا ہے، جہاں جنگ کی بجائے “کنٹرولڈ کشیدگی” کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا سعودی عرب اور ترکیہ کا دورہ بھی اسی سفارتی سلسلے کی کڑی ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ اس وقت خطے میں اہم ثالثی کردار ادا کر سکتے ہیں، اور پاکستان ان دونوں ممالک کے ساتھ مل کر ایک ایسا پل بننے کی کوشش کر رہا ہے جو ایران اور امریکہ کے درمیان فاصلے کم کر سکے۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اب صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد، جو ماضی میں اکثر عالمی دباؤ کا شکار رہا، اب ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے۔ اطلاعات یہی ہیں کہ آئندہ چند روز میں معاملات کافی حد تک واضح ہو جائیں گے اور ممکنہ طور پر کوئی بڑا معاہدہ اسلام آباد میں سامنے آ سکتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل دشمنی یا دوستی کا کوئی تصور نہیں، بلکہ مفادات ہی اصل حقیقت ہوتے ہیں۔ امریکہ کی جلدی، ایران کی لچک، اور پاکستان کی متحرک سفارتکاری یہ سب مل کر ایک نئے علاقائی توازن کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
اگر واقعی آنے والے دنوں میں کوئی بڑا معاہدہ
طے پا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف خطے میں امن کی نئی امید پیدا کرے گا بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی ثابت ہوگا۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا یہ “خاموش معاہدے” واقعی دیرپا امن لا سکیں گے یا یہ بھی ماضی کی طرح وقتی سکون کا سبب بنیں گے؟
فی الحال دنیا کی نظریں تہران سے اسلام آباد تک جڑی ہوئی ہیں، اور اگلے چند دن اس خطے کی تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں۔