عالمی سیاست کے افق پر اس وقت جو منظرنامہ ابھر رہا ہے، وہ محض وقتی سفارتی سرگرمیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ طاقت، مفادات اور حکمتِ عملی کے پیچیدہ امتزاج کی ایک نئی تعبیر ہے۔ ایک طرف مشرق وسطیٰ، جو دہائیوں سے عالمی کشمکش کا مرکز رہا ہے، ایک بار پھر بڑی طاقتوں کی توجہ کا محور بن چکا ہے، تو دوسری جانب ایشیا، خصوصاً پاکستان، ایک ممکنہ سفارتی پل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان تمام پیش رفتوں کے تناظر میں عالمی نظام ایک ایسے دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ہر قدم نہایت ناپ تول کر اٹھایا جا رہا ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے چار نکاتی تجاویز پیش کرنا دراصل بیجنگ کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خود کو ایک ذمہ دار عالمی قوت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ چین کا بیانیہ ہمیشہ سے “عدم مداخلت” اور “باہمی احترام” کے اصولوں پر استوار رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس نے محض اقتصادی شراکت دار کے بجائے ایک فعال سفارتی کردار بھی اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کو اس تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا کہ چین، مشرق وسطیٰ میں توانائی کے وسیع مفادات رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی بدامنی اس کے اقتصادی اہداف کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ چنانچہ اس کی امن تجاویز کو محض نظریاتی اپیل کے بجائے ایک عملی ضرورت بھی سمجھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات ایک مختلف زاویہ پیش کرتے ہیں، جہاں سفارت کاری کے ساتھ ساتھ طاقت کی نفسیات بھی جھلکتی ہے۔ ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات اور ان کے لیے پاکستان جیسے ملک کا بطور میزبان زیرِ غور آنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ واشنگٹن اب علاقائی شراکت داروں کو زیادہ فعال کردار دینے پر آمادہ ہے۔ تاہم امریکی مؤقف میں موجود تضادات بھی واضح ہیں؛ ایک طرف مذاکرات کی خواہش، دوسری طرف دباؤ، پابندیاں اور عسکری اقدامات یہ دوہرا رویہ ہمیشہ سے امریکی خارجہ پالیسی کا خاصہ رہا ہے، جس کے اثرات اکثر مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ کہنا کہ “گیند اب تہران کے کورٹ میں ہے” دراصل اسی سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے، جس کے ذریعے ایران کو مخصوص شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایران جیسے خودمختار مزاج رکھنے والے ملک کے لیے یکطرفہ شرائط قبول کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تہران کی جانب سے لچک کے ساتھ ساتھ اصولی موقف پر اصرار بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران سفارت کاری کو ہی تنازعات کے حل کا واحد مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے، تاہم وہ کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ کو مسترد کرتا ہے۔ یہ موقف نہ صرف ایران کی روایتی خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے بلکہ اس کے داخلی سیاسی بیانیے کا بھی حصہ ہے، جہاں خودمختاری اور مزاحمت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ایران کی جانب سے خطے کے چند ممالک سے ہرجانے کا مطالبہ اور اقوام متحدہ میں اس حوالے سے باضابطہ خط ارسال کرنا اس کشیدگی کو ایک نئے قانونی اور سفارتی رخ پر لے جا سکتا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری و سفارتی قیادت جس انداز میں متحرک نظر آتی ہے، وہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ اسلام آباد محض ایک ناظر نہیں بلکہ ایک فعال ثالث کے طور پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر واقعی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستان میں منعقد ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ خطے میں اس کے اثر و رسوخ میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب اسرائیل، لبنان اور امریکہ کے مابین جاری روابط ایک اور پیچیدہ محاذ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسرائیلی سفیر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوششیں جاری ہیں، خصوصاً حزب اللہ کے اثر کو محدود کرنے کے تناظر میں۔ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں ایک نئی صف بندی کی جانب اشارہ کرتی ہے، جہاں ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔
چین کی جانب سے امریکی ناکہ بندی کو “خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دینا دراصل عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مظہر ہے۔ یہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ اب اس میں عالمی طاقتوں کی براہ راست شمولیت بڑھتی جا رہی ہے، جس سے کسی بھی وقت صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا ایران کے ساتھ رابطہ اور مذاکرات کے تسلسل پر زور دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ماسکو بھی اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا خواہاں ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور اس کے اثرات کی تفصیلات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ زمینی حقیقتیں کس قدر سنگین ہو چکی ہیں۔ ہزاروں فوجی اہلکار، جنگی بحری جہاز اور فضائی اثاثے اس بحران کو محض سفارتی نہیں بلکہ عسکری رنگ بھی دے رہے ہیں۔ اگرچہ کچھ تجارتی جہازوں نے راستہ تبدیل کیا، مگر چند جہازوں کا آبنائے ہرمز عبور کرنا اس بات کی علامت ہے کہ مکمل کنٹرول ابھی ممکن نہیں، اور کسی بھی لمحے صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے۔
یہ تمام پیش رفتیں اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ دنیا ایک نئے جیوپولیٹیکل توازن کی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ یہاں ہر ملک اپنی بساط کے مطابق چال چل رہا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام کوششیں پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکیں گی یا محض وقتی مفاہمتوں تک محدود رہیں گی؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں ہونے والے مذاکرات، سفارتی اقدامات اور طاقت کے استعمال کی نوعیت پر منحصر ہوگا۔
بلاشبہ، اگر پاکستان واقعی اس پیچیدہ سفارتی عمل میں کلیدی کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر اس کی حیثیت کو بھی نئی جہت عطا کرے گا۔ تاہم اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی جڑی ہے کہ وہ توازن، غیر جانبداری اور حکمت کے ساتھ اس کردار کو نبھائے، کیونکہ ذرا سی لغزش نہ صرف اس عمل کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔