اللہ کے پاک نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت مہربان اور رحیم ہے، کریم ہے۔ تمام تعریفیں اس رب العالمین کے لیے جو ہر چیز، ہر واقعے، ہر بات سے خبردار ہے اور واقف ہے۔ اس کی بزرگی ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اسی کے لیے بڑاپن ہے۔
درود و سلام نبی مہربان حضرت محمد ﷺ پہ اور ان کی آل و اہل بیت پہ اور اصحاب پہ اور تمام انبیاء، نیک اور صالحین پہ۔
قارئین مجھے زیادہ تر جہاں دیدہ کرتے ہوئے پاتے ہیں کبھی ایک ملک کبھی دوسرے ملک۔ کبھی ان کے در کبھی ان کے در کبھی در بہ در۔
غمِ عاشقی تیرا شکریہ، میں کہاں کہاں سے گزر گیا
مگر آج میں امتِ مسلمہ پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔
مگر زمینی حالات دیکھیں ، تو دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ ۔
رمضان کا مہینہ آتے ہی دل میں ایک خوشی کی لہر دوڑتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ میں رمضان کو ہر پیشے کا مسلم انتہائی عقیدت سے اور محبت سے گراں قدر سمجھ کر گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے میں یہ انتہائی کرب سے محسوس کر رہا ہوں کہ جب بھی رمضان آتا ہے امت مسلمہ پہ انتہائی آزمائشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ایسے واقعات ہوتے ہیں جو تاریخ میں دیکھنے کو نہیں ملتے اور ہم ان کو انہونی سمجھ کر حیران و پریشان ہوئے ہوتے ہیں کہ اگلا واقعہ رونما ہوتا ہے اور پچھلے سے یکسر مختلف اور سو گناہ زیادہ دردناک ہوتا ہے۔
اللہ کے نبی کی ایک بات اور حدیث ذہن میں گھوم رہی ہے، پریشانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے لکھنا شروع کروں اور کیسے احاطہ کروں ان مظالم کا اور ناانصافیوں کا اور بے رحمی کا جو امت مسلمہ خود اپنے آپ کے ساتھ اور بیرونی طاقتوں کی وجہ سے سہہ رہی ہے، جھیل رہی ہے۔
سمندر کی جھاگ بن گئے ہیں ویسے ہم:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "عنقریب قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔” کسی نے پوچھا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں، بلکہ تم اس وقت تعداد میں بہت ہو گے لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی طرح (وزن سے خالی) ہو گے۔ اللہ تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ‘وہن’ ڈال دے گا۔” پوچھا گیا: یا رسول اللہ! ‘وہن’ کیا ہے؟ فرمایا: "دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔” (سنن ابی داؤد: 4297، مسند احمد)
نبی ﷺ نے ہمیں پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک یہ نشانیاں پوری نہ ہو جائیں:
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو’: دخان (دھواں)، دجال، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، یاجوج و ماجوج کا خروج، تین جگہوں پر زمین کا دھنسنا (خسف): ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا جزیرہ عرب میں، اور آخری نشانی یمن سے نکلنے والی وہ آگ ہوگی جو لوگوں کو ان کے میدانِ حشر کی طرف ہنکا لے جائے گی۔’ (صحیح مسلم: 2901)
اور ان نشانیوں کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے ‘ہرج’ (قتل و غارت) کی کثرت کا ذکر کیا:
حدیث: آپ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے قریب ‘ہرج’ بڑھ جائے گا۔” صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! ‘ہرج’ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "قتل، قتل!” یہاں تک کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو پتہ نہیں ہوگا کہ اسے کیوں مارا گیا۔ (صحیح مسلم: 2908)
آج اگر ہم پچھلے 6 سالوں (2020-2026) کا ڈیٹا دیکھیں، تو ‘ہرج’ کی یہ تصویر واضح نظر آتی ہے۔ اسرائیل دنیا کو دھمکا رہا ہے، قتل کر رہا ہے، خون کی ہولیاں کھیل رہا ہے اور اس نے پورے امریکہ کو مفلوج کر رکھا ہے۔ نہ کوئی نیوکلیئر ایجنسی ان سے پوچھتی ہے نہ کوئی کچھ کہہ سکتا ہے، عجیب بدمعاشی ہے۔ وہ جس کو چاہے مارے اور دہشت گرد کہے، جبکہ ای پسٹین کی فائلوں میں تو کہیں ہمارے کسی شہید کا ذکر نہیں تھا! یہ سب وہ لوگ ہیں جو ہیومن رائٹس آرگنائزیشن بنا کر ہمیں لیکچر دیتے ہیں مگر ان کی اپنی بدمعاشی کا کوئی حساب نہیں۔ اسرائیل اور انڈیا نے کتنے مسلمانوں کو شہید کیا، اسرائیل نے غزہ میں 45,000 سے زائد (UN OCHA) اور انڈیا نے کشمیر میں 96,000 سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا (KMS)۔
آیت اللہ خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں۔ تہران میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت ہو، یا صدر سید ابراہیم رئیسی کا مشکوک حادثہ، یا لبنان میں سید حسن نصراللہ کی شہادت اور اس سے پہلے جنرل قاسم سلیمانی کا قتل یہ سب ثبوت ہیں کہ صیہونی ریاست حق کی ہر اس آواز کو مٹانا چاہتی ہے جو مظلوموں کے لیے اٹھتی ہے۔
کتنا توازن بگڑے گا بیلنس آف پاور کا کسی کو اندازہ ہے؟ میں بین الاقوامی تعلقات کا طالب علم ہوں مگر میں سب سے پہلے مسلمان ہوں، ایک پاکستانی ہوں۔ پچھلے دنوں ہندوستان سے جنگ تھی تو جذبات میں تھا اور خوش بھی تھا، اب افغانستان کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں تو وہاں کی عوام کے لیے دل دھڑکتا ہے، طالبان کے لیے نہیں جو صرف پشتونوں کا ناحق خون بہاتے ہیں اور کبھی اسرائیل یا انڈیا کے خلاف نہیں بولتے۔ میں اپنی کی ہوئی تاریخی غلطیوں پر بھی نالاں ہوں بطور مسلمان اور ایک محبِ وطن پاکستانی بھی۔
چونکہ میں ایک بین الاقوامی تعلقات کا طالب علم ہوں اس لیے حالات کو اسی پیرائے میں پرونے کی تگ و دو میں ہوتا ہوں۔ امت مسلمہ کا حال دیکھتا ہوں تو کبھی شام کی طرف ذہن جاتا ہے کبھی عراق، کبھی ایران، کبھی حجاز۔
حدیث: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب اہل شام بگڑ جائیں گے (یعنی وہاں فتنے اور جنگیں عام ہوں گی) تو پھر تم میں کوئی خیر باقی نہیں رہے گی۔” (سنن ترمذی: 2192)
اضطراب کی سی کیفیت ہے اس لیے مضمون میں مختلف روایات اور احادیث کو پروتے ہوئے کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتا بس امت مسلمہ کی بے بسی پہ اپنے قلم کو گواہ بناتے ہوئے کچھ لکھنے کی تاک میں ہوں۔
حدیث: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہم وہ اہل بیت ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو پسند فرمایا ہے، اور میرے بعد میرے اہل بیت عنقریب مصیبتوں، بے گھری اور جلاوطنی کا سامنا کریں گے۔” (سنن ابن ماجہ: 4082)
سادات کا قتل اور ‘نفسِ زکیہ’ کا واقعہ: روایت:
حضرت مہدی کے ظہور سے صرف 15 دن پہلے ایک نہایت پاکیزہ صفت نوجوان (نفسِ زکیہ) کو، جو سادات میں سے ہوں گے، خانہ کعبہ کے پاس ذبح کر دیا جائے گا۔ (مستدرک حاکم)
ذرا سوچئے اہل بیت کو فلسطین سے لے کر ایران، عراق، لبنان اور پاکستان کہاں کہاں شہید نہیں کیا جا رہا۔ کبھی شیعہ ہونے کا قصور، کبھی استعمار کے خلاف کھڑے ہونے کا جرم۔ اور الحمداللہ سب منصبِ شہادت پہ فائز ہو رہے ہیں۔
کل ایک اور بزرگ 86 سال کے سید دنیا سے رحلت فرما گئے۔۔ بس واٹس ایپ اسٹیٹس پہ اور گھر میں بیٹھ کر دسترخوان سجا کر افطاری کے بعد پیٹ بھر کر دعا کی اور کریں گے: "اللہ یہود کو تباہ کرے”۔ پھر پیپسی یا ڈیو پی کے ڈکار ماریں گے کہ تراویح قضا نہ ہو جائے۔ صبح غسل کریں گے اسرائیل کے بنے ہوئے پروڈکٹس، شیمپو، صابن کا استعمال کر کے۔ اگلے دن بچوں کو کے ایف سی گھمائیں گے وغیرہ وغیرہ جب تک ہماری باری نہیں آ جاتی۔
سب کچھ تو ویسے بھی ہو کر رہنا ہے، اللہ کے نبی ﷺ نے سب نشانیاں تو پہلے ہی بتا دی تھیں، ہونے کو کون روک سکتا ہے۔ ارے خدا کے بندے مسلمانو! اللہ کے نبی نے ان واقعات کی نشاندہی اس لیے نہیں کی تھی کہ تم ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤ اور پیپسی پیو ڈکار مار کر اور اسرائیل پروڈکٹس یوز کرو اور ہاتھ پیر نہ ہلاؤ۔ انہوں نے یہ خبرداری اس لیے دی تھی کہ ہر مومن، مسلمان، شیعہ، سنی، وہابی، بریلوی، حنفی، حنبلی، شافعی، مالکی اکٹھے ہو کر رسول ﷺ کے جھنڈے تلے اتفاق کے ساتھ ان فتنوں کا مقابلہ کر سکے۔ آپس میں کب تک لڑو گے؟
رمضان کریم شروع ہوتا ہے، دو چار لونڈے لونڈیاں جو ماڈلنگ میں اپنا کیریئر بنانے لگتے ہیں، 5-7 کمرشل مفتیوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ ثابت کرنے کی تگ و دو اور اپنے چینلز کی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں صحابہ کو ٹھیک اور غلط ثابت کرنے کی کوشش میں دکھائی دیتے ہیں۔ میں شرطیہ کہتا ہوں بہت ساروں کا روزہ نہیں ہوگا، میں نے میڈیا آؤٹ لیٹس میں کام کیا ہے، مجھے اچھا خاصا تجربہ ہے۔
اچھا باقی آپس میں جو ہم ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں سمجھ نہیں آتا۔ تھوڑا حوصلہ کرو، عقل سیکھو اور ٹھکانے لگاؤ۔ اے مسلمانو کیا ہو گیا ہے؟ بتاؤ نا ذرا، خود سے پوچھو نا کیوں ہو رہا ہے تمہارے ساتھ؟ سمندر کی جھاگ نالائق لوگ ہم اور کون۔