جب آپ مذہبی شدت پسندی کا شکار ہوں

گلگت بلتستان کی وادیوں میں خاموش مگر خطرناک تبدیلیاں جاری ہیں۔ یہاں کے نوجوان فطرتاً نرم مزاج، محنتی اور بااخلاق ہیں، مگر مسلکی کشیدگی، سوشل میڈیا کے اثرات اور نظریاتی بیانیے انہیں ایک خطرناک راستے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ایک شریف گھرانے کا ہونہار بیٹا، جسے والدین نے تعلیم اور کردار کی بنیاد پر سہارا بنایا تھا، آہستہ آہستہ شدت پسندی کے بیانیے میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں تبدیلی زبان اور رویے تک محدود رہتی ہے، مگر جلد ہی تعلیمی ترجیحات، سماجی حلقے اور ذہنی رویے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ کتابیں پیچھے رہ جاتی ہیں اور نعرے آگے آ جاتے ہیں۔

عالمی تحقیق اس عمل کی وضاحت کرتی ہے۔ ہالینڈ، برطانیہ اور امریکہ میں ہونے والی سٹڈیز بتاتی ہیں کہ نوجوانوں کی ریڈیکلائزیشن ایک تدریجی سماجی و نفسیاتی عمل ہے۔ شناخت کے بحران، سماجی بیگانگی، ناانصافی کے احساس اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا نوجوان کے ذہن میں انتہاپسند رویہ پیدا کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ اور کنگز کالج لندن کی تحقیقات واضح کرتی ہیں کہ شدت پسند نوجوانوں میں cognitive rigidity بڑھ جاتی ہے، جبکہ critical thinking کمزور ہو جاتی ہے۔ نوجوان دنیا کو سیاہ اور سفید میں دیکھنے لگتا ہے، جبکہ حقیقی دنیا پیچیدہ اور سرمئی ہوتی ہے۔

گلگت بلتستان کی حساس سماجی ساخت میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے۔ یہاں مسلکی اختلافات کے باوجود لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کی روایت رکھتے ہیں۔ مگر شیعہ سنی کشیدگی کے دوران نوجوان تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں، کلاس روم کی فضا متاثر ہوتی ہے، اور ذہنی اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ عالمی بینک اور یونیسف کی رپورٹس بھی یہ دکھاتی ہیں کہ فرقہ وارانہ کشیدگی والے علاقوں میں نوجوانوں کی تعلیمی کارکردگی اور معاشی مواقع متاثر ہوتے ہیں۔ شدت پسندی نوجوان کو وقتی جوش دیتی ہے، مگر والدین کے لیے یہ سب سے زیادہ دکھ اور اضطراب پیدا کرتا ہے۔

آج سوشل میڈیا ایک اور خطرہ ہے۔ نوجوان اپنے مسلک، پسندیدہ شخصیت یا تاریخی دینی مباحثے پر کمنٹ، طنز، کلپ یا ریل شیئر کرتا ہے۔ ایک لمحے میں یہ مواد وائرل ہو سکتا ہے اور نوجوان پر گالی، طنز، قانونی پیچیدگی یا حتیٰ کہ جسمانی خطرہ مسلط کر سکتا ہے۔ والدین کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں، تعلیم اور مستقبل متاثر ہوتے ہیں، اور نوجوان غلط ہاتھوں میں جا کر انتہاپسند گروہوں کے زیر اثر آ سکتا ہے۔ عالمی سوشیالوجیکل مطالعات بتاتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر غیر محتاط اظہار نوجوان کی زندگی اور خاندان کی عزت پر سنگین اثر ڈال سکتا ہے۔

شدت پسندی نوجوان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ گریڈز میں کمی، تعلیم میں خلل، روزگار کے محدود مواقع، ویزا اور بیرون ملک تعلیم کے خواب بکھرنا، سب اس کا نتیجہ ہیں۔ جبکہ جو نوجوان اسی ماحول میں دانشمندی اور تحمل کے ساتھ تعلیم اور علم پر قائم رہتا ہے، وہ نہ صرف اپنا مستقبل محفوظ کرتا ہے بلکہ خاندان کا سہارا بنتا ہے اور معاشرے میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اسی نوجوان کے پاس علم، ہنر، وسیع سوچ اور سماجی تعلقات کا خزانہ ہوتا ہے، جو بعد میں حقیقی کامیابی اور سماجی استحکام کی ضمانت بنتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دین اور شدت پسندی دو الگ چیزیں ہیں۔ دین کی خدمت علم، حکمت، تحمل اور کردار سے ہوتی ہے، نہ کہ تنگ نظری، غصے اور سماجی ٹوٹ پھوٹ سے۔ نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہر کمنٹ، ہر ریل، ہر سوشل میڈیا پوسٹ صرف لمحے کا اثر نہیں، بلکہ مستقبل کی بنیاد پر اثر ڈالنے والا فیصلہ ہے۔ عقل، تحمل، دانشمندی اور تعلیمی تسلسل نوجوان کو بربادی کے راستے سے بچا کر حقیقی ترقی اور سماجی وقار کی طرف لے جاتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے نوجوان کے لیے انتخاب واضح ہے: وہ پہاڑ کی طرح بلند اور مستحکم بن سکتا ہے یا نظریاتی نعرے اور اشتعال انگیز بیانیے کے جال میں اپنے مستقبل کو کھو سکتا ہے۔ فیصلہ ہمیشہ ذہن کے اندر ہوتا ہے، اور یہی فیصلہ زندگی کے معیار، خاندان کی عزت اور سماجی استحکام کا تعین کرتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے