انسان کی زندگی پر اگر مجموعی لحاظ سے نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات قطعی طور پر واضح ہوتی ہے کہ انسانی زندگی ایک عادلانہ اجتماعی نظام کی محتاج ہے۔ انسان خواہ بحیثیت فرد کتنا ہی طاقتور اور مضبوط کیوں نہ ہو جائے، وہ اپنی تمام ضروریات خود پورا کرنے سے قاصر رہتا ہے۔
مثلاً ایک شخص خاندانی لحاظ سے نہایت مضبوط ہے، اپنے علاقے میں اس کا خوب رعب و دبدبہ ہے، علاقے کے فیصلے اس کی مرضی پر موقوف ہوتے ہیں، اور اس کے حق کو دبانے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
الغرض طاقت کی بنا پر وہ اپنے علاقے کا ڈان بنا ہوا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس کے اور اس کے متعلقین، جیسے بچے اور بیوی وغیرہ، کے بہت سے حقوق پورے نہیں ہو سکتے۔
مثلاً اس کے گھر کا منفی ماحول اس کے بچوں کی اچھی تربیت میں مانع رہتا ہے۔ ایسا شخص عادلانہ اجتماعی نظام کے بغیر خود بھی اکثر اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہتا ہے۔ بحیثیت انسان دنیا میں اسے جو کردار ادا کرنا چاہیے، اس کے لیے اسے وہ ماحول میسر نہیں ہوتا جس میں وہ زندگی کے حقائق کے مطابق شب و روز بسر کر سکے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو بحیثیت انسان دنیا میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ایک عادلانہ اجتماعی نظام کی ضرورت ہے، جس کے بغیر اسے بحیثیت انسان اس کے حقوق مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتے۔
چونکہ سوسائٹی میں عادلانہ اجتماعی نظام ہر فرد کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے ہر فرد پر اس کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا بھی لازم ہونا چاہیے، بلکہ درحقیقت لازم ہے بھی۔
اس ضمن میں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ عادلانہ اجتماعی نظام کی تعریف کیا ہے؟ اس کے اجزاء کو کون متعین کرے گا؟ اور اسے کیسے قائم کیا جائے گا؟
عادلانہ اجتماعی نظام کا سادہ اور عام مفہوم یہ ہے کہ ایسا نظام جو انسانوں کے تمام تر حقوق کا احاطہ کرتا ہو اور سوسائٹی کے ہر فرد کے حقوق کو درست طریقے سے اس تک پہنچانے کا انتظام رکھتا ہو، جس میں کسی قسم کی اونچ نیچ نہ ہو۔اور عملا انسان کو اس کے حقوق پہنچانے کا ضامن بھی ہو۔
اسی طرح اگر دوسرے سوال کو لیا جائے کہ اس کے اجزاء کو کون متعین کرے گا، یعنی آسان الفاظ میں یہ کہ اس نظام کو کون بنائے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ یہ ایک عادلانہ اجتماعی نظام ہے، اس لیے اس کے بنانے کے لیے کسی ایسے عادل کی ضرورت ہے جسے اجتماع کے ہر فرد کی ضروریات کا مکمل علم ہو۔
اگر اس بات کو مزید گہرائی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے لیے نظام بنانے والا وہی ہو سکتا ہے جو ان کی نفسیاتی کیفیات، امراض، ضروریات اور عارضی رجحانات تک سے مکمل واقف ہو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو انسانوں کے لیے نظام بنانے والا صرف اور صرف خدا ہی ہو سکتا ہے، کیونکہ انسانوں کے لیے عادلانہ اجتماعی نظام بنانے کے جو منطقی معیار ہیں، ان پر مخلوق میں سے کوئی بھی پورا نہیں اتر سکتا۔
جہاں تک تیسرے سوال کا تعلق ہے کہ اسے قائم کیسے کیا جائے، تو اس کا جواب عادلانہ اجتماعی نظام کی اصطلاح ہی میں موجود ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایسے نظام کے قیام کے لیے ہر وہ راستہ اختیار کیا جائے جس میں خود عدل ہو اور جس میں کسی کے حقوق پامال نہ ہوتے ہوں۔
اصولی طور پر اس نظام کے قیام کا راستہ خدا کی تعلیمات سے ہی اخذ کیا جائے گا، اور وہ راستہ اسلام ہی ہے۔ کیونکہ اسلام کا دوسرا نام ہی عدل ہے، بلکہ زیادہ موزوں تعبیر یہ ہے کہ اسلام ہی عدل ہے۔ اس لیے عدل کے نظام کے قیام کے لیے عدل کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
البتہ انسان زمانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدل کے قیام کے لیے کسی راستے کے اختیار کرنے پر غور کر سکتے ہیں، مگر ان کا یہ غور و فکر خدائی تعلیمات کے اصولوں کے تابع ہوگا۔