​وزیراعلیٰ مریم نواز کا وژن اور اسسٹنٹ کمشنر محمد سلیم آسی کی شاندار کارکردگی

لاہور کی سیاسی اور انتظامی تاریخ میں جب بھی عوامی خدمت کے نئے باب کا تذکرہ ہوگا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں ہونے والی اصلاحات کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ مریم نواز شریف نے وزارتِ عالیہ کا منصب سنبھالتے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کی حکومت کاہدف محض فائلیں نہیں بلکہ وہ عام آدمی ہے جو گلی محلوں میں بنیادی سہولیات کا منتظر ہے۔ اسی وژن کے تحت لاہور کی نئی انتظامی تقسیم اور تحصیل نشتر کا قیام عمل میں لایا گیا، تاکہ بیوروکریسی کو ڈرائنگ رومز سے نکال کر عوام کے درمیان لایا جا سکے۔ آج تحصیل نشتر میں اسسٹنٹ کمشنر محمد سلیم آسی کی صورت میں مریم نواز شریف کا”پبلک سروس“ وژن عملی طور پر زمین پر نظر آ رہا ہے۔

تحصیل نشتر کا جغرافیہ انتہائی متنوع ہے، جس میں پانڈوکی، کاہنہ، کماہاں، ہلوکی، شاہزادہ، تھ پنجو، بھوبتیاں اور تیرا جیسے وسیع ریونیو حلقے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خالق نگر، صوفی آباد، نشتر کالونی، وسیم پارک، جناح کالونی، خالد ٹاؤن، عیسیٰ نگر، اٹاری، یوحنا آباد، گھنکر اور گلیکسو جیسے گنجان آباد شہری علاقے اس تحصیل کی انتظامی حساسیت کو بڑھا دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت ہے کہ لاہور کے وہ علاقے جو ماضی میں نظر انداز رہے، انہیں ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ اسی ہدایت کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر محمد سلیم آسی نے تحصیل نشتر کو ایک”ماڈل تحصیل“ بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

تحصیل نشتر کی انتظامی تاریخ میں اسسٹنٹ کمشنر محمد سلیم آسی کا ایک اور سنہرا کارنامہ قبضہ مافیا کے خلاف بے رحم کریک ڈاؤن ہے۔ مریم نواز شریف کی ”زیرو ٹالرنس“ پالیسی کے تحت تحصیل نشتر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے سینکڑوں ایکڑ سرکاری زمین قبضہ مافیا سے واگزار کروا لی گئی ہے۔ یہ وہ زمینیں تھیں جن پر دہائیوں سے طاقتور گروہ قابض تھے، مگر محمد سلیم آسی نے قانون کی بالادستی قائم کرتے ہوئے ان اراضی کو ریاست کی تحویل میں لے لیا۔ ان واگزار کروائی گئی زمینوں کو اب عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جائے گا، جو کہ مریم نواز شریف حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے ”ستھرا پنجاب“ اور ”لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام (LDP)“ کے تحت تحصیل نشتر میں ترقی کا پہیہ پوری رفتار سے گھوم رہا ہے۔ مریم نواز شریف نے اس زون کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی پیکج کی منظوری دی ہے، جس کے اثرات اب واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ تحصیل نشتر کے باسیوں کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ جناح کالونی، وسیم پارک، خالد ٹاؤن اور عیسیٰ نگر سمیت درجنوں علاقوں کی گلیاں پختہ ہو چکی ہیں اور ٹف ٹائلز لگانے کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔ پی سی سی (PCC) اور جدید ٹف ٹائلز کے ان منصوبوں سے عمر پارک، علی پارک، مریم کالونی اورعارف ٹاؤن جیسی آبادیوں کا نقشہ بدل چکا ہے۔ یہ مریم نواز شریف کا ہی حکم ہے کہ ترقی صرف پوش علاقوں تک محدود نہ رہے بلکہ پسماندہ گلیوں میں بھی وہی معیار نظر آئے جو شہر کے جدید حصوں میں ہے۔ ان منصوبوں کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ اسسٹنٹ کمشنر محمد سلیم آسی نے خود کی، تاکہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اور سرکاری وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

انتظامی لحاظ سے”مویشیوں کا انخلاء“ (Cattle Eviction) بھی ایک بڑا معرکہ تھا۔ نشتر کالونی، صوفی آباد اور یوحنا آباد کے رہائشیوں کے لیے یہ باڑے ایک مستقل عذاب بن چکے تھے۔ محمد سلیم آسی نے وزیراعلیٰ کے وژن پر عمل کرتے ہوئے کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر ان باڑوں کو ختم کروایا اور سینکڑوں مویشیوں کو شہری حدود سے باہر منتقل کیا۔ اس اقدام سے سیوریج کا دیرینہ مسئلہ حل ہوا اور اب گلیوں کے پختہ ہونے سے علاقے میں صفائی کا وہ معیار قائم ہوا جو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی اولین ترجیح ہے۔مہنگائی کے خلاف جنگ میں بھی مریم نواز شریف کی حکومت صفِ اول میں کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ کی سخت ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر محمد سلیم آسی خود علی الصبح منڈیوں میں قیمتوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ مریم نواز شریف کا یہ پختہ عزم ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ آج تحصیل نشتر کے ہر بازار میں سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اسی ”گڈ گورننس“ کا حصہ ہے جس کا خواب مریم نواز شریف نے دیکھا ہے۔

صرف تعمیر و ترقی ہی نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی کے منصوبوں میں بھی تحصیل نشتر پیش پیش ہے۔ وزیراعلیٰ کے”صحت سہولت“ اور”فیلڈ ہسپتال“ جیسے انقلابی اقدامات کو اس تحصیل کے دور دراز دیہات جیسے تھ پنجو اور شاہزادہ تک پہنچانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر اور ان کی ٹیم دن رات متحرک ہے۔ عیسیٰ نگر اور یوحنا آباد جیسے حساس علاقوں میں اقلیتی برادری کے حقوق کا تحفظ اور وہاں ترقیاتی کاموں کی ذاتی نگرانی یہ ثابت کرتی ہے کہ مریم نواز شریف کی حکومت ہر شہری کو برابر کا پاکستانی سمجھتی ہے۔ تحصیل نشتر میں ہونے والی تبدیلیاں مریم نواز شریف کے اس عزم کی عکاس ہیں کہ ”پنجاب بدلے گا تو پاکستان بدلے گا“۔ اسسٹنٹ کمشنر محمد سلیم آسی جیسے افسران دراصل وزیراعلیٰ کے وہ سپاہی ہیں جو فیلڈ میں رہ کر مسلم لیگ (ن) کے عوامی منشور کو حقیقت کا روپ دے رہے ہیں۔ آج تحصیل نشتر کے مکینوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی شنوائی ہو رہی ہے اور ان کے مسائل کا حل کسی دور دراز دفتر میں نہیں بلکہ ان کی اپنی تحصیل میں موجود ہے۔ مریم نواز شریف کی قیادت اور محمد سلیم آسی کی انتھک محنت سے تحصیل نشتر اب لاہور کی ترقی اور جدید طرزِ زندگی کا ایک روشن استعارہ بن کر ابھر رہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے