چلیں جی، کمر باندھ لیں پھر سے ایک مرتبہ مہنگائی کی چکی میں پسے جانے کے لئے۔ کیونکہ پاکستانیوں کو بہت سی آزمائشوں اور دہائیوں نازک صورتحال سے گزرنے کے ساتھ ساتھ جینے کی عادت اب پرانی ہوچکی ہے۔ لیکن اب معاملہ مذید نازک ترین صورتحال میں داخل ہوچکا ہے اس لئے اپنے پہیے روک دیں ، کام پر جانے کے لئے گاڑی کے بجائے گھوڑے اور گدھے یا پھر سائیکلیں خرید لیں کیونکہ پٹرول تو اب آپ کو صرف خوابوں میں ہی دکھایا جائے گا ہوسکتا ہے اس خواب پر بھی ایسے ہی ٹیکس عائد کردیا جائے جیسے پنجاب میں مویشیوں کے گوبر پر۔ سو ویلکم تو سٹون ایج ٹائم حالانکہ ٹرمپ نے پاکستان کو سٹون ایج میں دھکیلنے کا بالکل بھی نہیں کہا تھا۔
ستم ظریفی دیکھئے پٹرول ڈیزل کے بمباری کے ساتھ ہی حکومتی وزراء اورکچھ مخصوص صحافیوں نے وزیراعظم کو مبارکباد کے پیغامات سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے شروع کردئیے اور یوں غربت کے ماروں کے زخموں پر مذید نمک پاشی کرکے مزہ لیا گیا۔ تو بات ہورہی تھی آپ کے قانونی اور پیدائشی حق فریڈم آف موومنٹ کی تو وہ شاید اب آپ کو مذید حقوق سلبی لگے کہ وہ وقت گیا جب خلیل میاں گاڑیاں دوڑایا کرتے تھے اب واپس فاختائیں اڑانا شروع کردیں کیونکہ جہاز اور گاڑیاں تو صرف حکومت ہی کے اڑیں اور دوڑیں گے لیکن آپ کو فاختائیں اڑانے پر پٹرول نہیں لگے گا ہاں البتہ فاختاؤں کا دانہ مہنگا ضرور ملے گا۔
اب پوری پلاننگ کرکے ہی گھر سے نکلیں کہ سارے دن کے کام ایک ہی چکر میں کرکے واپس آجائیں دوستوں رشتے داروں سے ملنا ہویا کچھ شاپنگ کرنی ہو تو کام سے واپسی پر ایک ہی مرتبہ کرلیں کیونکہ گاڑی کا دوسرا چکر شاید اب آپ افورڈ نہ کرسکیں۔ لوگ شادیوں کے بھی اب ایک ہی فنکشن میں جانا افورڈ کرینگے تمام ایونٹس پر نہیں البتہ وزراء کرام، ججز، بیوروکریٹس اب آپ کو ہر فنکشن میں مسکراتے ہوئے ضرور ملینگے کیونکہ ان کو پٹرول ڈیزل کی مراعات حاصل ہیں ۔
گزشتہ رات پاکستانی عوام کے ساتھ اپریل فول کا آغاز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھا کر کیا گیا اور فی لیٹر (458.47 ) روپے تک اور ڈیزل(520.35) روپے ہوگیا حکومت کا یہ اعلان جیسے ہی سامنے آیا، عوام کی پریشانیوں میں مذید ایک اور اضافہ ہو گیا۔ یہ اضافہ محض ایک عدد نہیں، بلکہ ہر اس گھر کے بجٹ پر براہِ راست حملہ ہے جہاں پہلے ہی مہنگائی نے زندگی کو دشوار بنا رکھا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوگی، اشیائے خور و نوش مزید مہنگی ہوں گی، اور وہ طبقہ جو پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، اس کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہوگیا ہے .
ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ ایک طرف عوام اس مہنگائی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف حکومتی ایوانوں میں بیٹھے وزراء اپنی عیاشیوں اور مراعات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ مہنگی گاڑیاں، پروٹوکول، سرکاری اخراجات میں اضافہ، مہنگے لگژری جہاز یہ سب ویسے ہی جاری ہیں جیسے ملک میں کوئی بحران سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک منظر وہ ہے جب سرکاری بیانیہ بنانے والے صحافی اور وزراء اس مہنگائی کو کسی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم کو مبارکبادیں دیتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے کس مشکل سے مذید مہنگائی نہیں ہوئی اور عالمی منڈی میں چونکہ تیل پٹرول ویسے ہی مہنگا ہوگیا ہے اس لئے پاکستان میں یہ اضافہ ناگزیر تھا جبکہ عالمی سطح پر پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اتنا ہوشربا اضافہ سوائے پاکستان کے کہیں اور نظر نہیں آیا۔
یہ وہی وزیراعظم ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایران سے تیل کے جہاز منگوائے، علاقائی تعلقات کو بہتر بنایا، اور توانائی کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ ہوا ہے تو پھر عوام کو اس کا ریلیف کیوں نہیں مل رہا؟ کیوں پاکستان میں مہنگائی کی شرح خطے ہی نہیں بلکہ دنیا میں بلند ترین سطحوں کو چھو رہی ہے؟ کیا یہ اقدامات صرف بیانات تک محدود ہیں، یا ان کا کوئی عملی فائدہ بھی عوام تک پہنچنا تھا؟
عوام کے لیے سب سے تکلیف دہ پہلو یہ نہیں کہ قیمتیں بڑھ رہی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کے پاس آواز اٹھانے کے مواقع بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا اب آسان نہیں رہا۔ لوگ جانتے ہیں کہ اگر وہ اپنے حق کے لیے کھڑے ہوں گے تو ان پر سختی کی جائے گی، ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جائے گی، اور ان کے مطالبات کو سننے کے بجائے انہیں خاموش کرایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب زیادہ تر احتجاج سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جہاں لوگ اپنے غصے، مایوسی اور بے بسی کا اظہار تو کر سکتے ہیں، مگر اس کا عملی اثر محدود ہوتا ہے۔
یہ صورتحال ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔ جب عوام سڑکوں پر نکلنے سے ڈرنے لگیں اور صرف آن لائن آواز بلند کریں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ اعتماد کمزور ہو رہا ہے، اور احساسِ محرومی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس طرح زیادہ دیر تک مستحکم نہیں رہ سکتا جہاں عوام کو اپنی ہی آواز سے خوف آنے لگے۔
حکومت کا کام صرف فیصلے کرنا نہیں بلکہ ان فیصلوں کے اثرات کو سمجھنا اور ان کا بوجھ کم کرنا بھی ہے۔ اگر پٹرول مہنگا کرنا ناگزیر ہے تو اس کے ساتھ ساتھ عوام کو ریلیف دینا بھی ضروری ہے۔ مگر یہاں معاملہ الٹ نظر آتا ہے—بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور ریلیف کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔
آج پاکستان کا عام شہری صرف یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ آخر اس سب کا بوجھ کب تک وہی اٹھاتا رہے گا؟ کب تک وہ اپنے بچوں کی ضروریات کو کم کرے، اپنی خواہشات کو دبائے، اور ہر نئے اعلان کے ساتھ ایک نئی مشکل کو قبول کرے؟ اور کب وہ دن آئے گا جب حکمران بھی اسی کرب کو محسوس کریں گے جو عوام روزانہ جھیلتے ہیں؟
جب مہنگائی کو کامیابی اور عوامی مشکلات کو نظرانداز کیا جانے لگے تو پھر مسائل صرف معاشی نہیں رہتے، وہ اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اور کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہی ہوتا ہے کہ اس کی قیادت عوام کے درد سے بے نیاز ہو جائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانوں کو دیکھا جائے۔ فیصلوں میں صرف معیشت نہیں بلکہ انسانیت کو بھی جگہ دی جائے۔ کیونکہ اگر عوام ہی پس جائیں، تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔