حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قولِ مبارک ہے:
”کفر کا نظام چل سکتا ہے، مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔“
اس قول کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے تاریخِ انسانی کی وہ مثال کافی ہے جب فاتحین نے شہروں کے شہر اجاڑ دیے، لیکن ان کی سلطنتیں تب تک قائم رہیں جب تک وہاں عام آدمی کو انصاف ملتا رہا۔ مگر جیسے ہی ترازو کے پلڑے طاقتور کے حق میں جھکنے لگے، بڑی بڑی سلطنتیں ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔ آج ہمارے وطنِ عزیز کے حالات بھی اسی آئینے میں دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں سماجی ناانصافی، معاشی استحصال اور اخلاقی گراوٹ نے ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔موجودہ حالات کا سب سے المیہ پہلو وہ سیاسی تقسیم ہے جس نے معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ مکالمہ، جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اب گالی اور بہتان تراشی میں بدل چکا ہے۔
سیاست، جو اصولی طور پر خدمتِ خلق کا نام تھی، اب صرف اقتدار کے حصول اور مخالفین کو زیر کرنے کا ایک ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔ جب سیاسی اشرافیہ اپنے مفادات کی جنگ میں مصروف ہوتی ہے، تو ملک کی جڑیں کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ آج کا سب سے بڑا بحران ”اعتماد کا فقدان“ ہے؛ عوام کا اداروں پر سے اور ووٹر کا اپنے نمائندوں پر سے بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے۔ گلی محلوں سے لے کر ایوانوں تک، ہر جگہ ایک ہیجانی کیفیت طاری ہے جس نے قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔
اگر ہم معیشت کی بات کریں تو حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ کر غریب کی چھت اور روٹی نگل چکا ہے۔ ایک متوسط طبقے کا شخص جو کل تک باعزت زندگی گزار رہا تھا، آج اس کشمکش میں مبتلا ہے کہ بچوں کی فیس ادا کرے یا بجلی کا بل۔ ڈالر کی اڑان اور عالمی منڈی کے بہانے بنا کر عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا گیا ہے۔ معاشی عدم مساوات اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ایک طرف بلند و بالا محلات ہیں اور دوسری طرف فٹ پاتھوں پر سوتی ہوئی وہ نسلیں ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
جب ریاست بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے، تو حب الوطنی کے نعرے بھی بھوکے پیٹ پر بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ریاست کا ڈھانچہ اس کے عدالتی نظام پر کھڑا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں ”قانون کی حکمرانی“ کے بجائے”حکمران کا قانون“ رائج نظر آتا ہے۔ جب ایک طاقتور شخص کے لیے قانون کی تشریح مصلحتوں کے تابع ہو اور ایک عام شہری کے لیے قانون کی گرفت فولادی ہو، تو وہاں مایوسی اور بغاوت جنم لیتی ہے۔ انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر اور فیصلوں میں تضاد نے عوام کے دلوں میں نظام کے خلاف نفرت پیدا کر دی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مظلوم کو اپنی داد رسی کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے اور ظالم اپنی دولت کے بل بوتے پر قانون کو خرید لے، وہ معاشرہ کبھی فلاحی ریاست نہیں بن سکتا۔
ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے تھا، وہاں سوشل میڈیا نے ہمیں مزید تنہا اور متشدد بنا دیا ہے۔ فیک نیوز اور منظم پراپیگنڈا کے ذریعے نوجوانوں کے اذہان کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ ہماری نئی نسل جو کسی بھی ملک کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہے، اس وقت شدید بے یقینی کا شکار ہے۔ روزگار کے مواقع کی کمی اور غیر یقینی مستقبل کی وجہ سے ہمارا بہترین ٹیلنٹ ملک چھوڑنے پر مجبور ہے۔ ہم ایک ایسی بھیڑ میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں جس کی کوئی واضح سمت نہیں ہے اور جس کا مقصد صرف اور صرف بقا کی جنگ لڑنا رہ گیا ہے۔مایوسی کفر ہے، لیکن حقیقت سے نظریں چرانا بھی دانشمندی نہیں۔ ان حالات سے نکلنے کا واحد راستہ ”میثاقِ اخلاق“ ہے۔ ہمیں بطور قوم اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ نظام کی تبدیلی صرف چہرے بدلنے یا آئین کی نئی شقیں متعارف کروانے سے نہیں آتی، بلکہ یہ رویے بدلنے سے آتی ہے۔ ہمیں بحیثیت مجموعی اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا کہ ہم نے اپنے فرائض سے کتنی غفلت برتی ہے۔ جب تک ہر شخص اپنے حصے کی شمع نہیں جلائے گا، اندھیرا دور نہیں ہوگا۔
حالات کا تقاضا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ذاتی انا اور مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ایک میز پر بیٹھیں۔ معیشت کی بہتری کے لیے طویل مدتی پالیسیاں بنانی ہوں گی جن کا تسلسل حکومتیں بدلنے سے متاثر نہ ہو۔ سادگی اور کفایت شعاری کو صرف عوامی تقریروں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر اپنانا ہوگا۔ اشرافیہ کو اپنی مراعات کی قربانی دینی ہوگی تاکہ عام آدمی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ تعلیم اور ہنر کی فراہمی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا تاکہ ہماری نوجوان نسل دنیا کا مقابلہ کر سکے۔وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ اس کٹھن صورتحال میں ہمیں اللہ کے نیک بندوں کی تعلیمات سے روشنی لینی چاہیے۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ”کشف المحجوب“ میں فرماتے ہیں:
”سخی وہ نہیں جو صرف مال دے، بلکہ سخی وہ ہے جو دوسروں کے دکھ سکھ میں ان کا بوجھ بانٹ لے اور اپنے نفس کی خواہشات کو دوسروں کی ضرورت پر قربان کر دے۔“
آج ہمارے ملک کو اسی ایثار اور قربانی کی ضرورت ہے۔ جب تک حکمران طبقہ اپنی آسائشیں عوام کی فلاح پر قربان نہیں کرے گا، تب تک حقیقی تبدیلی خواب رہے گی۔ اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، ایک چھوٹا سا چراغ اسے ختم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ہمیں انفرادی طور پر خود کو بدلنا ہوگا کیونکہ قدرت کا اصول ہے کہ وہ ان کی حالت کبھی نہیں بدلتی جو خود اپنی حالت بدلنے کا عزم نہ رکھتے ہوں۔ ہمیں اس تاریک رات کے خاتمے کے لیے کسی غیبی مدد کا انتظار کرنے کے بجائے، خود وہ چراغ بننا ہوگا جس سے روشنی کا سفر شروع ہو۔