علم سیاسیات میرا مضمون ہے اور الیکشن ہمارے سبجیکٹ کا اہم حصہ، سالوں سے یہی مضمون پڑھا رہا ہوں۔ شورائی نظام ہو، جمہوری پارلیمانی طرزِ حکومت کے الیکشن ہو یا صدارتی نظام، میں یہ سب بڑے شوق سے پڑھاتا ہوں۔ طلبہ کو جمہوریت کی روح، ووٹ کی اہمیت اور عوامی نمائندگی کے اصول بھی سمجھاتا ہوں۔ میں جمہوری کلچر اور اس کی روایات کا احترام کرتا ہوں، اور اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہوں کہ ووٹ کسی بھی باشعور معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔
مگر اس سب کے باوجود، میں عملی سیاست اور انتخابی ہنگاموں سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ہے، اور وہ یہ کہ ہمارے ہاں سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کا جمہوری شعور نہایت کمزور ہے۔ یہ لوگ جمہوریت کا نام تو لیتے ہیں، مگر ان کے اعمال میں جمہوریت کی جھلک تک نہیں ملتی۔
پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں، فیصلے چند افراد تک محدود، میرٹ کا جنازہ، نظریات کی جگہ مفادات، اور عوامی خدمت کے بجائے ذاتی و خاندانی مفاد، یہ سب کچھ دیکھ کر دل مایوس ہو جاتا ہے۔ جو لوگ الیکشن لڑتے ہیں، ان کی اکثریت کا مقصد عوامی خدمت نہیں بلکہ اقتدار، اثر و رسوخ اور وسائل تک رسائی ہوتا ہے۔ انہیں عوام کے مسائل سے زیادہ اپنی کرسی عزیز ہوتی ہے۔
عوام بھی عجیب مخمصے کا شکار ہے۔ الیکشن کے دن جوش و خروش سے ووٹ دیتے ہیں، اور پھر اگلے پانچ سال انہی منتخب نمائندوں کو کوستے رہتے ہیں۔ وعدے، دعوے، نعرے سب الیکشن کے بعد ہوا ہو جاتے ہیں۔ نہ کوئی پوچھنے والا، نہ جواب دہی کا نظام۔
ہم جیسے لوگ جب ووٹ دیتے ہیں تو ایک امید رکھتے ہیں کہ شاید یہ نمائندے ہمارے کام آئیں گے، مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوں گے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ اور پھر ہم جیسے لوگ نہ چاپلوسی کر سکتے ہیں، نہ درباری بن سکتے ہیں، نہ مفادات کی سیاست سمجھتے ہیں، تو ایسے میں خود کو اس سارے عمل سے دور رکھنا ہی بہتر محسوس ہوتا ہے۔
گزشتہ بیس سال مجھے اپنے علاقے کے سیاسی لیڈروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے وعدے، ان کی ترجیحات، ان کا رویہ، سب کچھ دیکھ کر یہی نتیجہ نکلا کہ عام آدمی ان کے لیے محض ایک ووٹ ہے، ایک نمبر ہے، ایک سیڑھی ہے جس کے ذریعے وہ اسمبلی تک پہنچتے ہیں، اور پھر اسی سیڑھی کو بھول جاتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ووٹ ایک شعوری فریضہ کم اور ایک تعصبانہ عمل زیادہ بن چکا ہے۔ برادری، خاندان،قبیلہ ، علاقہ، مسلک، ان سب بنیادوں پر فیصلے ہوتے ہیں، نہ کہ قابلیت، دیانت اور کارکردگی کی بنیاد پر۔ ایسے ماحول میں ووٹ دینا بعض اوقات ایک باشعور انسان کے لیے ذہنی اذیت بن جاتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ووٹ دینا غلط ہے، یا جمہوریت بے معنی ہے۔ ہرگز نہیں۔ جمہوریت ایک بہترین نظام ہو سکتا ہے، اگر اس کے اصولوں پر عمل ہو، اگر قیادت مخلص ہو، اگر عوام باشعور ہوں، اور اگر احتساب کا نظام مضبوط ہو۔ مگر جب یہ سب کچھ مفقود ہو جائے، تو پھر ایک حساس آدمی کے لیے اس عمل سے فاصلے میں ہی عافیت محسوس ہوتی ہے۔
میرا مسئلہ ووٹ سے نہیں، بلکہ اس نظام اور اس شخص سے ہے جو ووٹ کی حرمت کو پامال کرتا ہے۔ میرا اختلاف جمہوریت سے نہیں، بلکہ ان لوگوں سے ہے جو جمہوریت کے نام پر اپنی اجارہ داری قائم کرتے ہیں۔
شاید کبھی ایسا وقت آئے جب ووٹ واقعی ایک مقدس امانت بن جائے، جب نمائندے واقعی خادم بن جائیں، جب سیاست عبادت کا درجہ اختیار کر لے، تب شاید میں بھی فخر سے کہہ سکوں گا۔
"ہاں، میں ووٹ دیتا ہوں!”
فی الحال مجھے ان لوگوں سے سخت کوفت ہوتی ہے جنہوں نے گزشتہ پندرہ بیس سالوں میں خریت تک نہیں پوچھی، آج پرلے درجے کی بے شرمی کیساتھ تعلق اور رشتہ ڈھونڈنے نکلتے ہیں اور ڈھٹائی سے ووٹ مانگتے ہیں!
ان کو تھوڑی سی بھی شرم نہیں آتی کہ ووٹ مانگ رہے ہوتے ہیں۔
بندہ پوچھے، پوری زندگی میں کوئی نیکی یا خدمت تو آگے سے زہریلی ہنسی ہنستے ہیں اور بڑے "اخلاق” سے دانت دکھاتے ہیں۔ حد ہے یار بے شرمی کی بھی!
اس لیے الیکشن کی شرم خیزیوں اور ووٹ کی کلکاریوں بلکہ پچکاریوں سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔