انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہر فرد اپنے اندر ایک خاص صلاحیت، ایک الگ رنگ اور ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہر شخص اس اندرونی خوبصورتی کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک بہترین انسان بھی عام سمجھا جاتا ہے اور اس کی اندرونی صلاحیتیں مر جاتی ہیں۔
اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ “گھر کی مرغی دال برابر” جیسا رویہ بھی ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ بعض اوقات دیکھا جائے تو کچھ لوگوں کو گھر سے باہر کا معاشرہ زیادہ عزت اور احترام دیتا ہے، مگر جس خاندان کو اس شخص کی وجہ سے بلند مقام اور عزت ملتی ہے، وہی خاندان اس شخص کی قدر سے یا تو بے خبر رہتا ہے یا جان بوجھ کر اس کی عزت کو کم ظاہر کرتا ہے، تاکہ اسے چھوٹا دکھایا جا سکے۔ یہ رویہ دراصل ایک نفسیاتی اور سماجی کمزوری کی علامت ہے، جس میں انسان دوسروں کی کامیابی کو مکمل طور پر قبول کرنے کے بجائے اسے کم تر دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن وہ اس قرآنی حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ:
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ
(وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے) یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اصل عزت اللہ کے اختیار میں ہے، نہ کہ انسانوں کے محدود فیصلوں میں۔
مزید برآں، یہ بات صرف ایک جذباتی خیال نہیں بلکہ انسانی تاریخ، نفسیات اور سماجیات کی ایک گہری حقیقت ہے۔ ماہرِ نفسیات Abraham Maslow کے مطابق انسان کی اندرونی صلاحیتیں تب ہی مکمل طور پر سامنے آتی ہیں جب اسے ایسا ماحول ملے جہاں اس کی قدر کی جائے اور اس کی حوصلہ افزائی ہو۔ اگر ماحول محدود سوچ کا حامل ہو تو بہترین صلاحیتیں بھی دب کر رہ جاتی ہیں۔
اسی طرح تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بڑے بڑے ذہن بھی ابتدا میں نظرانداز ہوئے۔ Thomas Edison کو ابتدائی تعلیم کے دوران “کمزور ذہن” قرار دے کر اسکول سے نکال دیا گیا تھا، مگر بعد میں وہی شخص دنیا کے عظیم ترین موجدوں میں شمار ہوا۔ اسی طرح Albert Einstein کو بھی ابتدائی تعلیمی دور میں غیر معمولی طالب علم نہیں سمجھا گیا، مگر بعد میں وہی نظریاتی طبیعیات کا سب سے بڑا نام بنا۔ یہ مثالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ انسان کی اصل قیمت فوری پہچان سے نہیں بلکہ وقت کے امتحان سے ظاہر ہوتی ہے۔
اسی طرح سماجی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو Max Weber نے یہ بات واضح کی کہ معاشرے میں مواقع کی تقسیم انسان کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ہر شخص کو ایک جیسے مواقع نہیں ملتے اور یہی فرق بعض اوقات بہترین صلاحیتوں کو بھی چھپا دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ناکام ہے، بلکہ یہ کہ اسے ابھی صحیح پلیٹ فارم نہیں ملا۔
اسی طرح ادب کی دنیا بھی اس حقیقت سے خالی نہیں۔ بہت سے شاعر، ادیب اور فنکار اپنی زندگی میں وہ مقام حاصل نہ کر سکے جس کے وہ حق دار تھے، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے کام کو سراہا گیا۔ اردو ادب میں بھی ایسے کئی نام موجود ہیں جنہیں وقت نے بعد میں “کلاسیک” کا درجہ دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل قدر ہمیشہ موجود رہتی ہے، مگر پہچان کبھی دیر سے ملتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان میں خوبی نہیں ہوتی، بلکہ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دیکھنے والی آنکھ تربیت یافتہ نہیں ہوتی۔ “جوہر شناس” وہی ہوتا ہے جو پتھر کے اندر چھپی ہوئی چمک کو پہچان لے۔ مگر ہر شخص میں یہ بصیرت نہیں ہوتی۔ اسی لیے بعض لوگ سونے کو بھی عام دھات سمجھ لیتے ہیں اور بعض لوگ معمولی پتھر میں بھی قیمت دیکھ لیتے ہیں۔
یہاں ایک اہم نفسیاتی پہلو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ انسان اکثر اپنے اردگرد کے ردعمل سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر اسے بار بار نظرانداز کیا جائے تو وہ خود بھی اپنی قدر پر شک کرنے لگتا ہے۔ لیکن مضبوط شخصیت وہ ہوتی ہے جو بیرونی رویوں کے باوجود اپنی اندرونی صلاحیت پر یقین رکھے۔ یہی یقین اسے وقت کے ساتھ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی طرح اسلامی نقطہ نظر سے بھی انسان کی قدر اس کی ظاہری حیثیت میں نہیں بلکہ اس کے کردار اور نیت میں ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ ہے (سورۃ الحجرات 13)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل معیار اندرونی خوبی ہے، نہ کہ ظاہری پہچان یا وقتی شہرت۔
اسی حقیقت کو اگر ایک سادہ اور ذاتی مثال کے ذریعے سمجھا جائے تو میرے اپنے گھر میں اس کی ایک واضح جھلک موجود ہے۔ میری چھوٹی بیٹی تانیہ مسکان، جو اس وقت سات سال کی ہے، میں نے اس کے اندر کئی خوبصورت صلاحیتوں کی ابتدائی جھلک دیکھی ہے۔ ان میں سرفہرست مصوری اور رنگوں سے محبت، تقریر کرنے کا شوق، خوبصورت آواز میں سورتیں اور کلمے پڑھنا، نیز اداکاری اور گلوکاری شامل ہیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ ایک ایسا ہیرا ہے جسے مناسب رہنمائی اور توجہ کے ذریعے تراشنا ضروری ہے، اسی لیے میں نے باقاعدہ طور پر اس کی حوصلہ افزائی شروع کی۔ سب سے پہلے میں نے اس کے لیے عام تعلیمی کاپیوں کے ساتھ مصوری کی کاپی اور رنگین قلم فراہم کیے اور ساتھ ہی اس کی کلاس ٹیچر سے بھی درخواست کی کہ تانیہ مسکان کو اسکول کی تقاریب اور مختلف مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
اپنی تنظیم “نوے ژوند” کے چوتھے امن ایوارڈ کے پروگرام میں، کابینہ کی اجازت اور ٹیسٹ کے بعد، میں نے اسے سینکڑوں لوگوں کے سامنے تلاوتِ کلامِ پاک سے پروگرام کا آغاز کروانے کا موقع دیا۔ اس نے اسٹیج پر لوگوں کے ساتھ پشتون ثقافتی رقص میں بھی حصہ لیا۔ اس کے نورانی قاعدے کے اختتام پر اس کی حوصلہ افزائی کے لیے پچھلے سال قرآنِ مجید کے ختم جیسا اہتمام کیا گیا، جہاں اس نے تلاوت کی اور ہم نے اسے ہار پہنائے۔ میری پوری کوشش ہے کہ وہ جس بھی شعبے میں زیادہ دلچسپی لے، میں اس میں اپنی بیٹی کو مکمل سپورٹ کروں، تاکہ اس کے اندر جو بھی ہیرا ہے وہ نکھر کر دنیا کے سامنے آ سکے۔
آخر میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہر انسان اپنی ذات میں ایک ہیرا ہے، مگر ہر آنکھ اس ہیرا شناس نہیں ہوتی۔ وقت، تجربہ اور صحیح ماحول وہ عوامل ہیں جو چھپی ہوئی صلاحیتوں کو سامنے لاتے ہیں۔ جو لوگ آج نظر انداز ہیں، ضروری نہیں کہ وہ کمزور ہوں ممکن ہے وہ صرف ایسے لوگوں کے درمیان ہوں جو ان کی اصل قدر کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس لیے انسانوں کو صرف ان کی موجودہ حیثیت سے نہیں بلکہ ان کی ممکنہ صلاحیت کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو دوسروں میں چھپے ہوئے ہیروں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔