یہ اُس لمحے کی داستان ہے جو وقت کی حدود سے ماورا ہے، جہاں نہ زمین کا وجود تھا، نہ آسمان کی وسعتیں، نہ سورج کی روشنی تھی اور نہ چاند کی چاندنی۔ یہ وہ عالم تھا جسے ہم "عالمِ ارواح” کہتے ہیں، ایک ایسا جہان جہاں صرف اللہ رب العزت کی قدرتِ کاملہ جلوہ گر تھی اور اُس کی تخلیق کے اسرار خاموشی سے ترتیب پا رہے تھے۔
اسی عالم میں اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوعِ انسان کی روحوں کو جمع فرمایا۔ یہ اجتماع نہ کسی زمین پر تھا، نہ کسی آسمان کے نیچے، بلکہ یہ ایک ایسا روحانی منظر تھا جس کی حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنا انسانی عقل کے لیے ممکن نہیں۔ مگر قرآنِ کریم ہمیں اس عظیم واقعے کی جھلک ضرور دکھاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے ایک سوال کیا ایک ایسا سوال جو محض الفاظ نہیں تھا بلکہ ایک ابدی حقیقت کا اعلان تھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟”
یہ سوال اپنے اندر محبت، اختیار، معرفت اور ذمہ داری کے تمام پہلو سمیٹے ہوئے تھا۔ اس لمحے تمام روحوں نے بیک زبان جواب دیا: "کیوں نہیں! آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم گواہی دیتے ہیں۔”
یہی وہ لمحہ تھا جب انسان نے اپنے رب کو پہچانا، اُس کی ربوبیت کا اقرار کیا اور اُس کے سامنے اپنی بندگی کو تسلیم کیا۔ اسی عہد کو "عہدِ الست” کہا جاتا ہے، یعنی وہ وعدہ جو "الست” (کیا میں نہیں ہوں) کے سوال پر کیا گیا۔
یہ واقعہ محض ایک قصہ نہیں، بلکہ انسان کی فطرت میں رچا بسا ایک سچ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انسان کے دل میں ایک قدرتی میلان اپنے خالق کی طرف موجود ہوتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی معاشرے میں پیدا ہو، کسی بھی ماحول میں پروان چڑھے، اُس کے اندر ایک آواز ہمیشہ موجود رہتی ہے جو اُسے اپنے رب کی طرف بلاتی ہے۔
وقت کا پہیہ چلتا رہا، انسان دنیا میں آیا، اُس نے آنکھ کھولی تو رنگین دنیا نے اُسے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ دولت، شہرت، خواہشات اور نفس کی کشش نے اُس کے دل کو گھیر لیا۔ وہ آہستہ آہستہ اُس وعدے کو بھولنے لگا جو اُس نے اپنے رب سے کیا تھا۔
مگر یہ بھولنا مکمل نہیں تھا، کیونکہ اُس کے دل کی گہرائی میں وہ عہد آج بھی زندہ ہے۔ جب انسان کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے، جب ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے، جب وہ تنہائی کے اندھیروں میں خود کو بے بس محسوس کرتا ہے، تب اُس کے دل سے ایک صدا بلند ہوتی ہے.وہی صدا جو عہدِ الست کے وقت اُس نے سنی تھی۔
وہ بے اختیار اپنے رب کو پکارتا ہے، اُس سے مدد مانگتا ہے، اُس کے سامنے جھک جاتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اپنے رب کو بھولا نہیں، بلکہ وقتی طور پر غافل ہوا ہے۔
عہدِ الست ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان اس دنیا میں بے مقصد نہیں آیا، بلکہ اُس کی زندگی ایک آزمائش ہے،ایک امتحان جس میں اُسے اپنے اُس وعدے کو نبھانا ہے جو اُس نے اپنے رب سے کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی، شعور دیا، ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے، کتابیں نازل کیں تاکہ وہ اس راستے کو پہچان سکے جو اُسے کامیابی کی طرف لے جائے۔
مگر افسوس کہ بہت سے لوگ دنیا کی چمک دمک میں کھو کر اُس عہد کو بھول جاتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں، حق کو نظر انداز کرتے ہیں اور اپنے رب سے کیے گئے وعدے کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ایسے لوگ وقتی طور پر تو کامیاب نظر آتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ اپنی اصل پہچان سے دور ہو جاتے ہیں۔
اس کے برعکس وہ لوگ کامیاب ہیں جو اس عہد کو یاد رکھتے ہیں، جو ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں، اُس کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے ہیں اور اُس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ دنیا میں بھی سکون پاتے ہیں اور آخرت میں بھی کامیابی اُن کا مقدر بنتی ہے۔
عہدِ الست دراصل انسان کی فطرت کی بنیاد ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایمان کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر انسان اس حقیقت کو سمجھ لے تو اُس کی زندگی بدل سکتی ہے۔ وہ دنیا کو ایک عارضی ٹھکانہ سمجھے گا اور آخرت کی تیاری کو اپنا اصل مقصد بنائے گا۔
آج کے دور میں، جب انسان مختلف نظریات، فتنوں اور آزمائشوں میں گھرا ہوا ہے، عہدِ الست کی یاد اُسے سیدھا راستہ دکھا سکتی ہے۔ یہ اُسے یاد دلاتی ہے کہ وہ محض ایک جسم نہیں بلکہ ایک روح ہے جس نے اپنے رب سے وعدہ کیا تھا۔
اگر انسان چاہے تو وہ اس عہد کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے.نماز، دعا، توبہ اور اللہ کی اطاعت کے ذریعے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اس کی اصل پہچان کی طرف واپس لے جاتا ہے۔
پس اے انسان! اپنے اُس ازلی وعدے کو یاد کر، جسے تو نے اپنے رب کے سامنے کیا تھا۔ دنیا کی عارضی چمک میں کھو کر اُس سچائی کو نہ بھول، کیونکہ تیری کامیابی اسی میں ہے کہ تو اپنے رب کو پہچانے، اُس کی اطاعت کرے اور اُس وعدے کو سچ کر دکھائے۔
یہی عہدِ الست ہےاور یہی انسان کی اصل پہچان ہے۔