جنگلات کو کاٹ کر ، پلاسٹک کے زہر کو پھیلا کر ، قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال کر کے ، حیاتیاتی تنوع کو تباہ کر کے ، فضا اور پانی کو آلودہ کر کے اور اس کرہ ارض پر بائیس ہزار جوہری ہتھیاروں کو پھیلا کر ، آج انسان زمین کا عالمی دن منا رہا ہے۔
ایسے میں مجھے فلم مغلِ اعظم کا وہ منظر یاد آ رہا ہے کہ جس میں اکبر ، انار کلی کو دیوار میں چنوا دینے کے بعد، اُس کی ماں کی التجا پر انار کلی کو پچھلے دروازے سے باہر نکالتا ہے ، اور پھر انار کلی سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا ۔ لیکن انار کلی اُس کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں دیتی اور یوں ہی چپ چاپ ہو کر ، گُم سُم ہو کر وہاں سے چل دیتی ہے کہ انار کلی تو کب کی مر چکی ۔
لکھنا نہیں چاہتا ، مگر لکھتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے کہ
آج جب زمین پر اتنے مظالم ڈھانے کے بعد انسان زمین کا عالمی دن منا رہا ہے ، اس پر چرچا کر رہا ہے تو انسان کا چہرہ اسی مجرم، اکبر کی طرح ہے اور زمین اس پر طنز کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ زمین تو کب کی مر چکی ۔