پاکستان سمیت دنیا بھر کے سو سے زیادہ ممالک میں آج عالمی یومِ کتاب منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد علم، شعور اور تہذیب کے اس روشن سفر کی یاد دہانی ہے جس نے انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی سمت گامزن کیا۔ کتاب وہ چراغ ہے جو صدیوں سے انسانی فکر کو جِلا بخش رہا ہے اور یہی چراغ آج بھی دل و دماغ کو منور کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
بلاشبہ کتابیں انسان کی خاموش مگر مخلص ساتھی ہوتی ہیں۔ بخدا یہ وقت کو بامقصد بناتی ہیں اور شخصیت کی تعمیر میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی احساس کو ایک خوبصورت انداز میں شاعر نے یوں بیان کیا ہے:
ہر آس کتابیں ہیں، ہر خواب کتابیں ہیں
تہذیب کے ورثے میں اسباب کتابیں ہیں
پوچھو گے اگر مجھ سے کیا میرا اثاثہ ہے
خوش ہو کے بتا دوں گی نایاب کتابیں ہیں
یہ اشعار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ کتابیں نسلوں کے تجربات، خیالات اور خوابوں کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ علم کا زیور انسان کو وہ وقار عطا کرتا ہے جو کسی اور شے سے ممکن نہیں اور یہی زیور کتابوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
اگر انسانی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ علم کا آغاز انتہائی سادہ ذرائع سے ہوا۔ درختوں کے پتوں، چمڑے اور پتھروں پر لکھی جانے والی تحریریں وقت کے ساتھ ترقی کرتی ہوئیں آج جدید طباعت اور ای بکس کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ یہ ارتقاء اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اور کتاب کا رشتہ کبھی کمزور نہیں پڑا البتہ اس کی صورتیں بدلتی رہی ہیں۔
تاہم آج کی جدید دور میں ایک تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی رنگینیوں نے کتاب کی جگہ بڑی حد تک لے لی ہے۔ نوجوان نسل مطالعہ کی عادت سے دور ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث نہ صرف علمی سطح متاثر ہو رہی ہے بلکہ فکری گہرائی بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ حالانکہ ایک معروف قول ہے: جو پڑھتے ہیں وہی آگے بڑھتے ہیں۔ یہ جملہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قیادت، بصیرت اور کامیابی کا راستہ علم سے ہو کر گزرتا ہے۔
قرآنِ پاک میں بھی علم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ پیغام ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے آپ سے سوال کریں: آخر ہم کتاب سے کیوں دور ہوتے جا رہے ہیں؟ اس کے کئی اسباب ہیں، جن میں معاشی مشکلات، کم شرح خواندگی، حکومتی عدم توجہ اور لائبریریوں کی کمی نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ معاشرتی رویے بھی اس زوال میں حصہ دار ہیں، جہاں کتاب پڑھنے والے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اسی طرح پاکستان میں صورتحال خاصی فکر انگیز ہے۔ یہاں سنجیدہ موضوعات جیسے فلسفہ، تاریخ، سائنس اور نفسیات پر مطالعہ کا رجحان نہایت محدود ہے۔ اگرچہ شاعری کی کتابیں شائع ہوتی ہیں مگر معیاری اور فکری ادب کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے دیگر زبانوں کی معیاری کتب کے تراجم ناگزیر ہیں۔ ساتھ ہی اشاعتی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ معیاری اور سستی کتابیں شائع کریں تاکہ عام قاری تک علم کی رسائی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب ترقی یافتہ ممالک میں کتاب سے محبت ایک ثقافتی روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ لوگ سفر کے دوران، انتظار گاہوں میں اور فرصت کے لمحات میں کتاب کو اپنا ساتھی بناتے ہیں۔ یہی عادت ان معاشروں کی فکری مضبوطی اور ترقی کا سبب ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے کتاب کو اپنایا، انہوں نے دنیا میں اپنا مقام بنایا۔
مزید برآں، عالمی یومِ کتاب جو ہر سال 23 اپریل کو یونیسکو کے تحت منایا جاتا ہے اسی شعور کو بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس دن کا مقصد مطالعہ کے شوق کو فروغ دینا ہے اور مصنفین، ناشرین کی حوصلہ افزائی بھی ہے۔ اس موقع پر اگر کتابوں پر رعایت دی جائے مفت تقسیم کی جائے یا مطالعاتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں منعقد ہونے والا سالانہ کتاب میلہ اس کی ایک بہترین مثال ہے جہاں ہزاروں ناشرین شرکت کرتے ہیں اور کتابیں رعایتی قیمتوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔
اسی طرح یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ کتاب محض علم کا ذریعہ نہیں ہے امید کی کرن بھی ہے۔ جب انسان زندگی کی مشکلات میں الجھ کر مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے تو یہی کتاب اسے سہارا دیتی ہے، اس کے اندر نئی توانائی اور سوچ پیدا کرتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں مطالعہ کا ماحول پیدا کریں، بچوں میں کتاب دوستی کا شوق بیدار کریں اور خود بھی اس روایت کو اپنائیں۔ کیونکہ جب کتاب سے رشتہ مضبوط ہوگا تو فکر روشن ہوگی اور جب فکر روشن ہوگی تو معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔