اسلام آباد، جو ملک کا دارالحکومت اور سفارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، جب بھی کسی اہم غیر ملکی وفد کی آمد یا اعلیٰ سطحی بین الاقوامی مذاکرات کی میزبانی کرتا ہے، تو سکیورٹی کے نام پر پورا شہر عملاً مفلوج ہو جاتا ہے۔ مرکزی شاہراہیں بند کر دی جاتی ہیں، بازار سیل ہو جاتے ہیں، تعلیمی ادارے معطل ہو جاتے ہیں اور شہریوں کی معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اگرچہ ریاست کی اولین ذمہ داری سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے، مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ مسئلہ اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے جب ریڈ زون میں غیر معمولی پابندیاں نافذ کی جاتی ہیں، کیونکہ اسی حساس علاقے میں اسلام آباد ہائی کورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان اور آئینی عدالت جیسے اہم عدالتی ادارے واقع ہیں۔ ان عدالتوں تک رسائی نہ صرف وکلاء بلکہ سائلین کے لیے بھی انتہائی دشوار ہو جاتی ہے۔ متعدد مواقع پر ایسا ہوا ہے کہ اہم مقدمات کی سماعت محض اس لیے مؤخر کرنا پڑی کہ متعلقہ فریقین یا وکلاء عدالت تک پہنچ ہی نہ سکے۔
یہ صورتحال انصاف کی بروقت فراہمی کے اصول کے منافی ہے۔ عدالتوں کا بنیادی مقصد شہریوں کو فوری اور مؤثر انصاف فراہم کرنا ہے، لیکن جب رسائی ہی ممکن نہ رہے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی اہم قومی و بین الاقوامی اجلاسوں کے دوران یہی مسائل سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث نہ صرف مقدمات میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔
اسی طرح یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی سابقہ عمارت جی-10 میں واقع تھی، جہاں عوام اور وکلاء کے لیے رسائی نسبتاً آسان تھی۔ موجودہ مقام، اگرچہ سکیورٹی کے اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے، مگر عملی طور پر یہ عوامی سہولت کے اصول سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔
مزید برآں، موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ایک متوازن اور پائیدار حل تلاش کریں۔ “خصوصی عدالتی نظام” یا متبادل انتظامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر، عدالتی کارروائی کو عارضی طور پر آن لائن منتقل کیا جا سکتا ہے، متبادل مقامات پر عدالتیں قائم کی جا سکتی ہیں، یا وکلاء اور سائلین کے لیے خصوصی رسائی کے راستے مختص کیے جا سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف عدالتی نظام کو جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ شہریوں کی مشکلات کو بھی کم کریں گے۔
اسی طرح حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ سکیورٹی اور عوامی سہولت کے درمیان ایک مؤثر توازن قائم کرے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی اعلیٰ سطحی سکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں، مگر وہاں شہری زندگی اور عدالتی نظام کو مکمل طور پر مفلوج نہیں کیا جاتا۔ پاکستان میں بھی اسی نوعیت کے جدید اور مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔
اس حقیقت کو بہر صورت تسلیم کرنا ہوگا کہ انصاف تک آسان رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر اس حق کو سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے محدود کیا جائے تو یہ نہ صرف آئینی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ ریاستی نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی کمزور کرتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ایسا حل تلاش کیا جائے جو ریاستی سکیورٹی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ عوامی حقوق کا بھی مؤثر تحفظ یقینی بنائے۔