وفاقی وزارتِ خزانہ کی حالیہ دستاویز نے ملکی معیشت کے ایک نہایت اہم مگر اکثر نظر انداز پہلو صوبائی سطح پر بیرونی قرضوں کی کیفیت کو ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ وہ معاشی ترجیحات، انتظامی حکمتِ عملیاں اور ترقیاتی ماڈلز کارفرما ہیں جو ہر صوبے کی سمت اور رفتار کا تعین کرتے ہیں۔ رواں مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران سامنے آنے والی تفصیلات اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان کے مختلف خطوں میں قرضوں کا بوجھ یکساں نہیں بلکہ اس میں واضح تفاوت پایا جاتا ہے، اور یہی تفاوت مستقبل کی معاشی پائیداری پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بدستور بیرونی قرضوں کے حجم کے اعتبار سے سرفہرست ہے، تاہم اس کے قرضوں میں 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی کمی ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ کمی بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر بڑے تناظر میں یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ صوبائی سطح پر مالیاتی نظم و ضبط، بہتر قرضہ مینجمنٹ اور ممکنہ طور پر کچھ منصوبوں کی بروقت تکمیل نے بیرونی انحصار کو کسی حد تک کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس کے برعکس سندھ میں بیرونی قرضوں میں 49 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا نمایاں اضافہ ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اضافہ محض ترقیاتی سرگرمیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں مالیاتی حکمتِ عملی، منصوبہ بندی کی ترجیحات اور وسائل کے استعمال کی نوعیت بھی شامل ہے۔
خیبر پختونخوا میں 9 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور بلوچستان میں 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ اگرچہ سندھ کے مقابلے میں کم ہے، مگر ان صوبوں کی معاشی ساخت اور محدود وسائل کے پیشِ نظر یہ اضافہ بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ خصوصاً بلوچستان، جو پہلے ہی بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے فقدان کا شکار ہے، وہاں قرضوں میں اضافہ مستقبل کے مالی بوجھ کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی سے متعلق اخراجات نے ممکنہ طور پر بیرونی مالی وسائل کے استعمال کو بڑھایا ہے، جس کے طویل المدتی اثرات پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بیرونی قرضوں میں بالترتیب 40 لاکھ اور 10 لاکھ ڈالر کی کمی ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے۔ اگرچہ یہ خطے حجم کے اعتبار سے چھوٹے ہیں، مگر ان کی مالیاتی نظم و نسق میں بہتری اس بات کی دلیل ہے کہ محدود وسائل کے باوجود بہتر حکمرانی اور محتاط مالی پالیسیوں کے ذریعے قرضوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ماڈل بڑے صوبوں کے لیے بھی قابلِ تقلید ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے سنجیدگی سے سمجھا اور اپنایا جائے۔
یہاں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے کہ آخر صوبوں کے درمیان قرضوں کے اس تفاوت کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کا جواب یک جہتی نہیں بلکہ کثیر الجہتی ہے۔ ایک طرف ترقیاتی منصوبوں کی نوعیت اور حجم ہے، تو دوسری جانب مالیاتی نظم و ضبط، ادارہ جاتی صلاحیت اور وسائل کے مؤثر استعمال کا مسئلہ بھی ہے۔ بعض صوبے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اور شہری ترقی کے منصوبوں پر انحصار کرتے ہیں، جن کے لیے بیرونی قرضہ ایک آسان مگر مہنگا ذریعہ بنتا ہے۔ جبکہ دیگر خطے نسبتاً محدود مگر محتاط حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں، جس سے قرضوں کا بوجھ قابو میں رہتا ہے۔
مزید برآں، یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بیرونی قرضے بسا اوقات ترقی کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں، مگر ان کا غیر متوازن اور غیر شفاف استعمال معیشت کو کمزور کر سکتا ہے۔ اگر قرضہ پیداواری منصوبوں میں لگے، جن سے آمدنی پیدا ہو اور روزگار کے مواقع بڑھیں، تو یہ ایک سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی قرضے غیر پیداواری اخراجات یا ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو جائیں تو یہ آنے والی نسلوں پر ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی کا فقدان بھی اس مسئلے کو پیچیدہ بناتا ہے۔ اگر ایک جامع قومی فریم ورک کے تحت قرضوں کی منصوبہ بندی، نگرانی اور ادائیگی کا نظام وضع کیا جائے تو نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ وسائل کا بہتر استعمال بھی ممکن ہو سکے گا۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ ہر صوبہ اپنی مالیاتی پالیسی کو محض وقتی ضروریات کے بجائے طویل المدتی استحکام کے تناظر میں ترتیب دے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ عالمی مالیاتی حالات، شرحِ سود میں اتار چڑھاؤ اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے عوامل بھی بیرونی قرضوں کے بوجھ کو بڑھاتے یا کم کرتے ہیں۔ لہٰذا صرف داخلی پالیسیوں پر انحصار کافی نہیں بلکہ عالمی معاشی رجحانات کو مدنظر رکھنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر کسی صوبے نے ڈالر میں قرض لیا ہے اور مقامی کرنسی کمزور ہوتی ہے تو بظاہر معمولی قرض بھی ایک بڑا بوجھ بن سکتا ہے۔
موجودہ اعداد و شمار ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان کو صوبائی سطح پر مالیاتی خود انحصاری، بہتر گورننس اور شفافیت کی اشد ضرورت ہے۔ قرض لینا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا دانشمندانہ استعمال اصل چیلنج ہے۔ اگر یہ رجحانات اسی طرح جاری رہے تو کچھ صوبے مالیاتی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، جو مجموعی قومی معیشت پر بھی اثر انداز ہوگا۔
آخرکار، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ دستاویز محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے، جس میں ہر صوبہ اپنی معاشی حکمتِ عملی کا عکس دیکھ سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون کتنا مقروض ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون اپنے قرض کو کس حد تک مؤثر طریقے سے استعمال کر رہا ہے اور کون مستقبل کے لیے ایک پائیدار معاشی بنیاد رکھ رہا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے حقیقی اصلاح کا آغاز ہو سکتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جب اعداد و شمار کو محض خبر نہیں بلکہ سبق سمجھنے کی ضرورت ہے۔