بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ ہر سال کی طرح اموات، تشدد اور ظلم و ستم کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے معاشرہ، تنظیمیں، تعلیمی ادارے، حکومت اور قانون سمیت سب دائرے ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ جتنا زیادہ تعلیم اور شعور بڑھا ہے، جتنی سہولتیں میسر آئی ہیں اور جتنی آوازیں خواتین کے حقوق کے لیے بلند ہوئی ہیں اتنا ہی یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر کیوں؟ کیوں آج بھی عورت اپنی جان، عزت اور وقار کے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہے؟ کیوں انصاف کے دروازے اس کے لیے بند اور رسم و رواج کے تقاضے حاوی ہیں؟
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سال 2025 کی رپورٹ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمارا اجتماعی چہرہ صاف نظر آتا ہے مگر افسوس صد افسوس کہ یہ چہرہ نہایت بھیانک ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں صنفی تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ہوا، 470 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا، جبکہ 1332 خواتین گھریلو تشدد کا نشانہ بن کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ یہ اعداد و شمار وہ چیخ و پکار ہے جو دبائی گئی، یہ وہ آنسو ہے جو نظر انداز ہوئے ہیں اور وہ زندگیاں ہیں جو کہ بے دردی سے چھین لی گئی۔ اسی طرح ریپ کے 3815 مقدمات، سائبر ہراسگی کے 2586 کیسز اور بچوں پر تشدد کے 3600 واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو چکا ہے۔ اغوا کے 1107 کیسز اور 365 بچوں کا لاپتہ ہونا ایک اور المیہ ہے، جبکہ کم عمری کی شادیاں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہماری اجتماعی بے حسی کی انتہا کو ظاہر کرتے ہیں۔ ٹرانس جینڈر کمیونٹی بھی اس ظلم سے محفوظ نہیں رہی 19 افراد قتل ہوئے اور متعدد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جن میں خیبرپختونخوا سرفہرست رہا۔
یہ سب کچھ ہمارے ملک میں ہو رہا ہے جو عالمی جینڈر گیپ انڈیکس میں 148 ممالک میں سے 145ویں نمبر پر ھڑا ہے اور بنیادی حقوق کے نفاذ میں 143میں سے 130ویں نمبر پر۔ یہ اعداد و شمار ایک سنگین انتباہ ہیں کہ ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں۔ مزید برآں، انہی تلخ حقائق کے درمیان ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آتا ہے جو اس پورے نظام کی شکست و ریخت کو اور بھی واضح کر دیتا ہے۔ ایک بیٹی، جو باپ کی عزت کی خاطر اپنی جان دے بیٹھی، اسے حوصلہ، ہمت اور چادر اوڑھانے والی وہ پولیس اور کاروکاری کی فرسودہ رسم بھی تحفظ نہ دے سکی۔
چھ سال قبل اس کی شادی ایک ظالم اور جاہل انسان کے ساتھ ہوئی تھی، مگر گزشتہ تین سال سے وہ مسلسل شوہر کے ذہنی اور جسمانی تشدد کا شکار رہی۔ آخرکار اس کے شوہر نے اسی پر کاروکاری کا جھوٹا الزام لگا دیا، جس کے بعد وہ اپنی جان بچانے کے لیے دارالامان پہنچی۔ امید تھی کہ شاید وہاں اسے تحفظ مل جائے گا، مگر حالات نے اسے ایک بار پھر بے یارو مددگار کر دیا وہ ہر طرف سے مایوس ہو چکی تھی۔ اسی دوران سکھر کی عدالت میں وہ لمحہ بھی آیا جب ایک ہفتہ قبل اس کے والد نے پگڑی اس کے قدموں میں رکھ کر اسے گھر واپس آنے کی التجا کی۔ ایک طرف باپ کی عزت، دوسری طرف اپنی جان کا خطرہ یہ وہ کڑا امتحان تھا جس میں ایک مظلوم بیٹی کو ڈال دیا گیا۔ وہ ایک ماں بھی تھی اس کے دو پھول جیسے معصوم بچے تھے اور وہ بار بار یہی التجا کرتی تھی کہ ایک جگر کا ٹکڑا یعنی میرا بچہ شوہر مجھے دے دے۔
اسی طرح عدالت عالیہ اور میڈیا کے سامنے وہ اپنی زندگی کے خطرے کا برملا اظہار کر چکی تھی، مگر پھر بھی وہی ہوا جس کا اسے اندیشہ تھا۔ بدقسمت گلاں بھارو، جو ایک کم عمر نوجوان لڑکی تھی، بالآخر ایک ہفتے کے اندر بے دردی سے قتل کر دی گئی۔ یہ واقعہ ایک سوال ہے جو آج بھی زندہ ہے کیا اس کی حفاظت ممکن نہ تھی؟ گلاں بھارو نے عدالت میں کھڑے ہو کر کہا تھا: مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا، لیکن میرے والد نے اپنی پگڑی میرے قدموں میں رکھ دی ہے اور والد کی عزت کی خاطر مجھے موت بھی قبول ہے میں اپنے والد کے ساتھ ہی گھر جانا چاہتی ہوں۔ یہ جملے ایک ایسی بیٹی کی فریاد تھے جو محبت، خوف، عزت اور مجبور روایت کے درمیان پس کر رہ گئی تھی۔ افسوس کہ وہ گھر، جہاں اسے سہارا، احترام اور تحفظ ملنا چاہیے تھا وہی اس کے لیے موت کا سبب بن گیا۔
اسی طرح بہت دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایک ماہ کے دوران سندھ میں کاروکاری کے نام پر یہ ساتواں قتل تھا۔ ہر واقعہ خبر نہیں ہوتی ہے ایک اور خاموش و سنسان قبر، ایک اور بکھری اور ٹوٹی ہوئی امید اور ایک بالکل پرسودہ نظام کی علامت ہے۔ گلاں بھارو کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تک سماج میں رسم و رواج کو قانون پر فوقیت دی جاتی رہے گی، ایسی کہانیاں دہرائی جاتی رہیں گی۔ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب گہرے نیند سے جاگیں گے؟ آخر کب ہم اسلامی تعلیمات و انصاف کو رسم و رواج پر ترجیح دیں گے؟ کب قانون کتابوں، فائلوں تاریخ پہ تاریخ اور جھوٹے ثبوت اور گواہان سے نکل کر زمین پر انصاف فراہم کرے گا؟ اور کب ایک بیٹی کو اپنی جان کے بدلے عزت بچانے کی قربانی نہیں دینی پڑے گی؟
جب تک یہ تمام سوالات ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتے اور جگاتے نہیں ہیں تب تک ہر سال ایسی رپورٹس آتی رہیں گی بخدا یہ اعداد و شمار بڑھتے رہیں گے اور انسانیت مزید کمزور پڑتی جائے گی۔