تلاشِ گمشدہ

میں کون ہوں؟

یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر جب اس کی تہہ میں اترا جائے تو انسان اپنے ہی وجود کے ملبے تلے دبنے لگتا ہے۔ ہم جو اپنے آپ کو "میں” کہتے ہیں، کیا وہ واقعی ہمارا اپنا ہے؟ یا وہ محض دوسروں کی دی ہوئی تعریفوں، توقعات اور فیصلوں کا مجموعہ ہے؟

بچپن سے ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم کون ہیں۔ ہمارے نام، ہماری پہچان، ہماری پسند ناپسندسب کچھ ہمیں سکھایا جاتا ہے۔ ماں باپ ہمیں ایک خاکے میں ڈھالتے ہیں، معاشرہ اس خاکے کو مزید سخت کر دیتا ہے، اور ہم اسے ہی اپنی اصل سمجھ بیٹھتے ہیں۔ لیکن اگر یہ سب کچھ ہم پر تھوپا گیا ہے، تو ہمارا اپنا کیا ہے؟

فریڈرک نطشے نے کہا تھا کہ "جو تم ہو، وہ بنو”مگر سوال یہ ہے کہ "ہم ہیں کیا؟” کیا ہمارے اندر کوئی اصل "میں” موجود بھی ہے، یا ہم صرف ایک ایسا کردار ہیں جو ہمیں دیا گیا ہے؟ اگر ہم اپنے تمام سیکھے ہوئے خیالات، اخلاقیات، اور یقینوں کو ایک ایک کر کے اتار دیں، تو کیا باقی بچے گا؟ شاید کچھ بھی نہیں۔

کافکا کی دنیا میں انسان ایک اجنبی ہے، نہ صرف معاشرے کے لیے بلکہ خود اپنے لیے بھی۔ "میٹامورفوسس” میں گریگور سامسا ایک دن جاگتا ہے اور خود کو ایک کیڑے میں تبدیل پاتا ہے۔ مگر کیا یہ تبدیلی واقعی اچانک تھی؟ یا وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا، بس اسے اب دیکھنے پر مجبور کیا گیا؟ شاید ہم سب بھی ایسے ہی ہیں اندر سے ٹوٹے ہوئے، بکھرے ہوئے، مگر باہر سے ایک مکمل انسان کا ناٹک کرتے ہوئے۔

اور پھر دیوجینس وہ پاگل فلسفی جو دن کی روشنی میں چراغ لے کر "ایک سچا انسان” ڈھونڈ رہا تھا۔ شاید اسے معلوم تھا کہ سچائی ایک نایاب شے ہے، یا شاید وہ یہ دکھانا چاہتا تھا کہ ہم سب جھوٹے ہیں، یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی۔

ہماری زندگی کیا ہے؟ ایک ڈرامہ؟ ایک سکرپٹ جسے ہم نے خود نہیں لکھا؟ ہم وہ الفاظ بولتے ہیں جو ہمیں سکھائے گئے، وہ خواب دیکھتے ہیں جو ہمیں دکھائے گئے، اور وہ خوف محسوس کرتے ہیں جو ہمیں ورثے میں ملے۔ یہاں تک کہ ہماری بغاوت بھی اکثر کسی اور کی سوچ کی نقل ہوتی ہے۔

اور والدین؟

ہم انہیں محبت کا استعارہ سمجھتے ہیں، مگر کیا وہ واقعی ایسا ہیں؟ یا وہ بھی اسی نظام کا حصہ ہیں، جو ہمیں اپنی نامکمل خواہشات کا تسلسل بنانے کے لیے پیدا کرتے ہیں؟ کیا ہم ان کے خوابوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، یا اپنی مرضی سے جیتے ہیں؟ اور اگر ہم اپنی مرضی سے جینے کی کوشش کریں، تو کیا وہ ہمیں قبول کریں گے؟ یا ہمیں دوبارہ اسی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے؟

سب کچھ جعلی لگتا ہے۔ احساسات، تعلقات، اخلاقیات سب کچھ۔ اگر ہم اپنی یادوں کو بھی شک کی نظر سے دیکھیں، تو کیا یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ واقعی ہماری ہیں؟ یا وہ بھی ایک کہانی ہیں جو ہمیں بار بار سنائی گئی یہاں تک کہ ہم نے اسے سچ مان لیا؟

اگر کوئی اصل نہیں، تو تلاش کس چیز کی ہے؟

اور اگر تلاش ہی سب کچھ ہے، تو کیا ہم کبھی کچھ پائیں گے؟

یا ہم ہمیشہ اسی تلاش میں گم رہیں گے
ایک ایسی "میں” کی تلاش، جو شاید کبھی تھی ہی نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے