امریکی صدر کا دورہ چین عالمی سیاست، تجارت اور سفارت کاری کے لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ۔ یہ نو سال بعد کسی امریکی صدر کا اتنا بڑا اور علامتی دورہ تھا ، جس میں صرف اقتصادی معاملات ہی نہیں بلکہ تائیوان، ایران، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات اور عالمی طاقت کے توازن جیسے حساس موضوعات بھی زیرِ بحث آئے۔ اس دورے کے دوران چینی صدر شی جن پھنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقاتوں نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ۔
بیجنگ میں ٹرمپ کا استقبال انتہائی شاندار انداز میں کیا گیا۔ گریٹ ہال آف دی پیپل میں ہونے والی رسمی تقریب، فوجی گارڈ آف آنر، اور سرخ قالین کی سفارتی روایت نے واضح کیا کہ چین اس دورے کی اہمیت کو سمجھتا ہے ا ور اپنی سفارت کاری کی بنیادی پالیسیز کو دنیا کے سامنے ظاہر کرنا چاہتا ہے ۔ میڈیا نے اس دورے کو "دو عظیم طاقتوں کے درمیان استحکام کی کوشش ” قرار دیا جبکہ امریکی حلقوں میں اسے اقتصادی دباؤ کم کرنے کی سفارتی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
اس دورے کا سب سے اہم پہلو دونوں رہنماؤں کی باڈی لینگویج رہی۔ مختلف بین الاقوامی ماہرین نے ٹرمپ اور شی جن پھنگ کے درمیان ہاتھ ملانے، چلنے کے انداز، کندھے پر ہاتھ رکھنے اور نشست کے دوران چہروں کے تاثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ابتدا ہی سے ایک غالب اور پراعتماد شخصیت کا تاثر دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے شی جن پھنگ کے قریب رہ کر دوستانہ لیکن طاقتور پیغام دینے کی کوشش کی۔ بعض ماہرین نے اسے “پاور جیسچر” قرار دیا جبکہ کچھ نے اسے سفارتی گرمجوشی کی علامت کہا۔
دوسری طرف چینی صدر شی جن پھنگ کا انداز زیادہ محتاط، متوازن اور کنٹرولڈ دکھائی دیا۔ وہ کم مسکراتے نظر آئے لیکن ان کی گفتگو اور نشست کے انداز میں اعتماد نمایاں تھا۔ مبصرین کے مطابق شی جن پھنگ کے اعتماد اور تاثرات نے چین کو امریکہ کے برابر ایک بڑے ملک کے طور پر پیش کیا ۔ خاص طور پر جب دونوں رہنما ایک ساتھ چل رہے تھے تو میڈیا نے ان مناظر کو "دو بڑی طاقتوں کے درمیان برابری ” کی علامت کے طور پر نمایاں کیا۔
تجارتی معاہدے اس دورے کا مرکزی نکتہ رہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری بڑھانے، توانائی کے شعبے میں تعاون اور ممکنہ طور پر تقریباً 200 بوئنگ طیاروں کی خریداری پر آمادگی ظاہر کی۔ اس کے علاوہ نایاب معدنیات اور سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی کے حوالے سے بھی مذاکرات ہوئے، کیونکہ امریکہ اس وقت ٹیکنالوجی سپلائی چین کے مسائل سے دوچار ہے۔
ٹرمپ نے مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "بہت سے مسائل حل ہو گئے ہیں "اور دونوں ممالک کے تعلقات "پہلے سے بہتر ” ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے شی جن پھنگ کو "عظیم رہنما ” بھی قرار دیا۔ تاہم اس خوشگوار ماحول کے باوجود بنیادی اختلافات برقرار ہیں، خاص طور پر تائیوان کے معاملے پر جسے چین اپنی "ریڈ لائن ” کہتا ہے ۔
شی جن پھنگ نے مذاکرات کے دوران واضح انداز میں خبردار کیا کہ اگر تائیوان کے مسئلے کو غلط طریقے سے ہینڈل کیا گیا تو دونوں ممالک "تصادم ” کی طرف جا سکتے ہیں۔ انہوں نے تاریخی تھیوری” تھیوسیڈائیز ٹریپ ” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھرتی ہوئی اور غالب طاقتوں کے درمیان کشیدگی دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین اب اپنے بنیادی مفادات پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت موقف اختیار کر رہا ہے۔
ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہی۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ چین نے ایران کو اسلحہ فراہم نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن یہ واضح ہے کہ واشنگٹن اس وقت چین کو صرف اقتصادی حریف نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں ممکنہ شراکت دار کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔لیکن یہ یاد رہے کہ آبنائے ہر مز کے بارے میں چین کا موقف صدر ٹرمپ کے آںے سے پہلے بھی یہی تھا کہ اسے کھلا رہنا چاہئیے لیکن ساتھ ہی چین نے ایرا ن کی قومی خود مختاری اور سلامتی کے حوالے سے کھل کر ایران کی حمایت بھی کی ہے ۔
اس دورے میں کاروباری شخصیات کی موجودگی بھی قابلِ توجہ رہی۔ امریکی ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبے سے وابستہ کئی اہم شخصیات ٹرمپ کے وفد کا حصہ تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ مکمل اقتصادی علیحدگی کے بجائے اب "کنٹرولڈ مقابلہ ” کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ دورہ ایک بڑی تاریخی پیش رفت کے ساتھ ساتھ تعلقات کو بگڑنے سے روکنے کی کوشش محسوس ہوتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی موجود ہے، مگر معاشی ضرورتیں اور عالمی دباؤ انہیں مسلسل بات چیت پر مجبور کر رہے ہیں جو کہ ایک مثبت پیغام ہے ۔ ٹرمپ اور شی جن پھنگ کی ملاقاتوں نے وقتی طور پر کشیدگی کم ضرور کی ہے، لیکن امور تائیوان، سیمی کنڈکٹرز کا معاملہ ، امریکہ کی جانب سے چینی کمپنیوں پر پابندی اور ٹیرف کے معاملات اور عالمی سیاست مستقبل میں بھی امریکہ اور چین کے تعلقات کا مرکزی محور بنی رہے گی۔
یہ بھی اہم ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے دورے کے بعد واپس امریکہ جا کر وائٹ ہاؤس میں کیا انداز اختیار کرتے ہیں کیوں کہ 2017 کے دورےت میں بھی سب اچھا تھا لیکن امریکی بیانات اور رویے کے دہرائے جانے پر 2026 میں بھی دنیا کے حالات ابتر ہوئے ہیں ۔