شادی یا نمائش: ایک رات کی شہنشاہی اور عمر بھر کا قرض

ہمارے معاشرے میں خوشی منانے کا انداز اب بدل چکا ہے۔ اب شادی دو دلوں کے ملاپ یا ایک مقدس سماجی بندھن کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ دولت کی نمائش، برانڈز کے مقابلے اور "لوگ کیا کہیں گے” کے خوف کا دوسرا نام بن گئی ہے۔ وہ تقریب جو سادگی اور برکت کا نمونہ ہونی چاہیے تھی، اب ایک ایسی مہنگی دوڑ بن چکی ہے جس میں ہر کوئی دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہانپ رہا ہے۔

ایک رات کی اس شہنشاہی کے پیچھے جو کہانی چھپی ہوتی ہے، وہ اکثر بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ کسی غریب یا سفید پوش باپ سے پوچھیں کہ بیٹی کی شادی کے لیے "اچھے ہال” اور "شاندار مینو” کا انتظام کرنے کے لیے اسے کتنے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑے یا کتنے برسوں کی جمع پونجی لٹانی پڑی۔ ہم پانچ سو ایسے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے لاکھوں روپے اڑا دیتے ہیں جن میں سے آدھے لوگ صرف کھانے کا نمک یا پنڈال کی سجاوٹ چیک کرنے آتے ہیں، اور اگلے ہی دن کسی اور کی شادی میں بیٹھ کر پچھلی شادی کی برائیاں کر رہے ہوتے ہیں۔

لباس سے لے کر زیور تک، اور فوٹو گرافی سے لے کر جہیز کی نمائش تک، ہر جگہ ایک مصنوعی پن نظر آتا ہے۔ ہم نے نکاح جیسے آسان عمل کو اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ اب نوجوان نسل کے لیے شادی ایک خوشی کے بجائے ایک معاشی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ جس معاشرے میں "ون ڈش” (One Dish) کی پابندی کو توہین سمجھا جائے اور جہاں سادگی سے نکاح کرنے والے کو "کنجوس” کا طعنہ دیا جائے، وہاں برکتوں کا نزول کیسے ممکن ہے؟

اصل مسئلہ ہماری وہ سوچ ہے جو سمجھتی ہے کہ جتنا بڑا فنکشن ہوگا، معاشرے میں اتنی ہی عزت بڑھے گی۔ حالانکہ عزت پیسوں سے نہیں بلکہ کردار اور اخلاق سے ہوتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ چند گھنٹوں کا شور و غل تو ختم ہو جائے گا، مگر اس کے لیے لیا گیا قرض والدین کی کمر سالوں تک سیدھی نہیں ہونے دیتا۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں۔ شادی کو دوبارہ ایک سادہ اور بابرکت تقریب بنائیں۔ دکھاوے کی اس زنجیر کو توڑنے کے لیے ہم سب کو مل کر قدم اٹھانا ہوگا۔ اگر صاحبِ حیثیت لوگ سادگی کی روایت ڈالیں گے، تو متوسط طبقے کے لیے بھی زندگی آسان ہو جائے گی۔ یاد رکھیے، خوشی پیسوں کی ریل پیل میں نہیں بلکہ اپنوں کے خلوص اور اطمینانِ قلب میں ہوتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے