کھنڈرات، یادیں اور واپس لوٹتے قدم

پہاڑ اپنی جگہ پہ ساکت رہتے ہیں اس لیے مل نہیں پاتے اور ہم انسان اپنی رفتار بدلتے رہتے ہیں تو کسی نہ کسی مقام پہ ٹکڑا جاتے ہیں
کل رات جب میں گزشتہ روز تخت بھائی کے سفر کی روداد لکھنے بیٹھی تو قلم نے چند سطر کے بعد لکھنے سے انکار کر لیا میں خود بھی حیران تھی یہ آخر ماجرا کیا ہے؟
الفاظ کیوں ملنے نہیں آرہے یہ کیسے ناراضگی ہے ان کی مجھ سے ۔ پھر احساس ہوا کہ عرصے بعد ملنے آنے والے کا یہی حال ہوتا ہے اس کے آنے پہ اجنبیت دکھائی جاتی ہے اور الفاظ کی ان کے ساتھ شناسائی ختم ہوچکی ہوتی ہے اسی شش وپنج میں میں نے سوچا تین سال پہلے دسمبر میں جب دوستوں کے ساتھ یہاں آئی تھی اس کا احوال جو لکھا تھا وہ ہی دیکھ لوں اس احوال میں میں نے آنے والے وقت کا بھی لکھا تھا کہ میں جب دوبارہ آؤں گی تو شاید دھوپ ہو لیکن قدم قدم پہ مجھے دسمبر کی چاپ ملے گی ہر سیڑھی پہ ہمارے قہقہوں کی آوازیں ہوگی کاش ان کھنڈرات میں لمحات کو رکھنے کا بھی کوئی آلہ ہوتا ہم سالوں سالوں بعد یہاں آتے تو سال اور وقت کے حساب سے وہ الہ ہمیں اسی لمحات میں لے جاتا لیکن خیر۔۔۔

یہ کھنڈرات ان لوگوں کے لیے آمیز ہے جو یادوں سے آنا نہیں چاہتے یہ آثار بھی تو کسی کی یاد ہے وہ چلے گئے لیکن یہ کھنڈرات ہر نئے آنے والے میں اُسے ڈھونڈتا ہوگا کھوجتا ہوگا خاموش نظروں سے تکتا ہوگا اور پھر کوئی لوٹ کے بھی آتا ہے جیسی سوچ کو لیکر ان نئے چہروں کو حیرانی سے دیکھتا ہوگا۔

بنانے والے کو کیا پتہ تھا کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی لوگ آیا کرے گیں دیکھے گیں تاریخ کو جانیں گے کچھ لمحات کے لیے سوچے گے اردگرد نظر دوڑائیں گے دور سے نظر آنے والے کھنڈرات کو داد دیں گے اور پھر واپس جانے کی جلدی میں تیز تیز سیڑھیاں اتر کر بس میں بیٹھ کر بس ایک نظر ان پہ ڈال کر چلے جایا کرے گے

اُس روز بہت گرمی تھی کوئی اکا دکا کے علاؤہ کسی کو تاریخ سننے میں،جانے میں دلچسپی نہیں تھی لیکن تجسس والے کو گرمی سردی سے کیا عرض اس نے تو سننا ہے اور ایک ایک لفظ کو اپنے اندر اتارنا ہے۔یہ اداس جگہیں ہیں یہاں بہت کم کسی کو اس کے درودیوار سے خوشیاں ، غم،زاروقطار رونے کی آوازیں آتی ہونگی کہ کہیں زمانے پہلے کوئی عورت آئی تھی اس کی گود خالی تھی وہ یہاں اپنی مراد پوری ہونے کی غرض سے آئی تھی،کسی کا سالوں گیا نہیں لوٹا تھا وہ دکھیاری بہت اسرے سے یہاں آئی تھی کہ وہ جب واپس جائے گی تو پہلی دستک دروازے پہ اس پیارے کی ہوگی،کسی کے آنسو نہیں رُکتے وہ روتے روتے یہاں آئی تھی ،کسی ایک جگہ بیٹھی ،زاروقطار روتے ہوئے اس کے دل نے کوئی خواہش کی تھی عرض کہانیاں بےشمار ہے لیکن یہ طے ہے ہر عروج کو زوال ہے اور مثال سامنے ہے کہ ان درودیوار نے یہاں رہ جانا ہے چاہیے آثار قدیمہ ہی کی شکل میں کیوں نہ ہوں کیونکہ لوگوں کو یہ کھنڈرات جس پہ قومیں گزری ہوں،ایک ایک اینٹ پہ داستانیں رقم ہوں اپنی طرف بہت کھینچتا ہے۔
آخر میں کلاڈو ٹیم کا بہت شکریہ جن کی بدولت یہ سفر ممکن ہوا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے