کھیلوں سے کھلواڑ ، مافیا بے نقاب

گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کو شاید ہی کوئی ایسا تگڑا اور دبنگ ڈائریکٹر جنرل میسر آیا ہو جس کا موازنہ برگیڈیئر عارف صدیقی جیسے منتظم سے کیا جا سکے۔ ان کے دور کی نمایاں خوبی مالی نظم و ضبط، انتظامی دیانت داری اور ادارہ جاتی وقار تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ اوصاف کمزور ہوتے گئے، ادارہ جاتی گرفت ڈھیلی پڑتی گئی اور کھیلوں کا نظام رفتہ رفتہ چند مخصوص گروہوں کے مفادات کا یرغمال بنتا چلا گیا۔ اسی پس منظر میں محمد یاسر پیرزادہ نے ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایک ایسے زنگ آلود، کمزور اور غیر جوابدہ نظام کو درست کرنا تھا جس میں برسوں سے احتساب، شفافیت اور میرٹ کی جگہ مفاہمت، خاموشی اور ذاتی مفادات نے لے لی تھی۔ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود پی ایس بی کی کئی سہولیات شکستہ حالی کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ کمزور تھا، فیڈریشنز پر مؤثر نگرانی نہ ہونے کے برابر تھی، کھلاڑی نظام کے مرکز سے باہر تھے، اور ادارہ اپنی اصل ذمہ داری یعنی قومی کھیلوں کی ترقی کے بجائے محض روایتی فائل ورک اور رسمی کارروائیوں تک محدود ہو چکا تھا۔

یاسر پیرزادہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ

ایسے میں یاسر پیرزادہ نے پی ایس بی کا چارج سنبھالا اور چند ماہ میں ہی ادارے کی کایا کلپ کردی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایف بی آر سے تعلق رکھنے والا یہ افسر اِس قدر جلد اور مستعدی کے ساتھ اسپورٹس کے نظام کی خرابیوں کو نہ صرف سمجھ لے گا بلکہ پورا نظام ہی ریفارم کر دے گا۔ یاسر پیرزادہ کے دور میں سب سے اہم تبدیلی یہ آئی کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے پہلی مرتبہ ایک خاموش تماشائی کے بجائے ایک فعال ریگولیٹری اور نگرانی کرنے والے ادارے کا کردار ادا کرنا شروع کیا۔ برسوں سے موجود قومی اسپورٹس پالیسی کو فائلوں سے نکال کر عملی جامہ پہنایا گیا، فیڈریشنز سے مالی شفافیت، بینک ریکارڈز، آڈٹ، گورننس اسٹرکچر اور جوابدہی کا مطالبہ کیا گیا۔ اور یہی وہ مقام تھا جہاں پرانے مفاداتی حلقوں کو پہلی مرتبہ حقیقی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

یاد رہے کہ دو دہائیوں کے دوران بعض اسپورٹس فیڈریشنز پر چند افراد یا گروہوں کی گرفت اتنی مضبوط ہو چکی تھی کہ قومی کھیلوں کی ترقی کے بجائے بیرونی دورے، عہدوں کا تسلسل اور سرکاری فنڈنگ ہی اصل مقصد بن چکے تھے۔ کھلاڑی صرف اس وقت یاد آتے تھے جب کسی بین الاقوامی ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی دکھانا مقصود ہوتا۔ اس کے برعکس گراؤنڈ لیول پر کوچنگ، ٹیلنٹ ہنٹ، میرٹ پر سلیکشن، شفاف انتخابی عمل اور قومی کھیلوں کے ڈھانچے پر توجہ نہیں دی گئی۔ یاسر پیرزادہ نے اسی جمود کو چیلنج کیا۔ انہوں نے 2005 کی اسپورٹس پالیسی کے تحت فیڈریشنز میں مدتِ عہدہ، شفاف انتخابات، مالی جوابدہی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے نکات پر عملی پیش رفت شروع کی۔ پہلی مرتبہ متعدد فیڈریشنز میں ایسے عہدیداروں کو عہدے چھوڑنا پڑے جو طویل عرصے سے نظام پر قابض تھے۔

یہ کوئی معمولی انتظامی کارروائی نہیں تھی بلکہ پاکستان کے کھیلوں کے نظام میں انقلاب لانے کے مترادف تھا۔ یاسر پیرزادہ وہ واحد ڈی جی تھے جنہوں نے اسپورٹس میں ٹیلنٹ دریافت کرنے کا باقاعدہ ایک نظام وضع کیا جسے نیشنل ٹیلنٹ آئیڈینٹیفکیشن اینڈ ویریفیکیشن سسٹم کا نام دیا گیا۔ پاکستان کے کھیلوں کا بنیادی مسئلہ یہ رہا ہے کہ ٹیلنٹ یا تو ضائع ہو جاتا ہے یا غیر شفاف انتخابی نظام کی نذر ہو جاتا ہے۔ اگر کھلاڑیوں کا درست ریکارڈ، عمر کی تصدیق، کارکردگی کا ڈیٹا، میرٹ پر انتخاب اور قومی سطح پر قابلِ اعتماد ڈیٹا موجود ہو تو کھیلوں میں سفارش، اقربا پروری اور گروہی اجارہ داری کا راستہ کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ یہ یاسر پیرزادہ کا آئیڈیا تھا جس کے تحت آج یہ پروگرام عملی شکل میں موجود ہے، اب بارہ سے پچیس سال کی عمرکا کوئی بھی لڑکا یا لڑکی، جس میں کسی بھی کھیل کا ٹیلنٹ ہو وہ پی ایس بی کی ویب سائٹ پر جا کر خود کو رجسٹر کروا سکتا ہے جس کے بعد اُس کے ٹیلنٹ کی جانچ متعلقہ کھیل کے ماہرین کی کا ایک سیل کرے گا اور بعد ازاں ٹیلنٹڈ کھلاڑیوں کو اسپورٹس فیڈریشن سے تربیت دلوائی جائے گی۔یہ کوئی معمولی اقدام نہیں، پی ایس بی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

یاسر پیرزادہ نے جب چارج سنبھالا تو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے پاکستان کو واچ لسٹ میں رکھا ہوا تھا، ایک سال کی انتھنک محنت اور واڈا کی تمام شرائط پوری کرنے کے بعد بالآخر پاکستان اس واچ لسٹ سے باہر نکلا اور یہ سہرا بھی یاسر پیرزادہ کے سر جاتا ہے۔ ہاکی کے شعبے میں بھی پی ایس بی نے ایک غیر معمولی قدم اٹھایا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کلبز کی پڑتال، شفاف انتخابی عمل، آزاد الیکشن کمیشن، اپیل کا فورم، آن لائن رجسٹریشن جیسے اقدامات نے واضح پیغام دیا کہ قومی کھیل کو مزید گروہی سیاست، جعلی کلبز، مشکوک ووٹر لسٹوں اور غیر شفاف انتخابات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہ اقدام صرف ہاکی تک محدود نہیں تھا بلکہ تمام فیڈریشنز کے لیے ایک اصولی پیغام تھا کہ قومی کھیلوں کے نام پر بننے والے اداروں کو اب جوابدہ ہونا پڑے گا۔ اسی طرح فیڈریشنز سے پہلی مرتبہ نہ صرف پیسوں کا حساب طلب کیا گیا بلکہ ایک انٹرنل آڈیٹر کے ذریعے ان کا آڈٹ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں فیڈریشنز کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

 

انہوں نے اسپورٹس فیڈریشنز کو دی جانے والی بے حساب گرانٹ کے قوانین بھی وضع کیے جو اس سے پہلے مفقود تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب برسوں سے قائم مفادات کو پہلی بار چیلنج کیا جائے تو مزاحمت لازمی ہوتی ہے۔ جن حلقوں نے طویل عرصے تک ادارہ جاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا ہو، وہ اصلاحات کو ذاتی حملہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ احتساب اور آڈٹ جیسے اقدامات بعض عناصر کے لیے ناقابلِ قبول بن گئے۔ یاسر پیرزادہ کے دور کا اصل امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو محض فنڈ جاری کرنے والے ادارے کے بجائے یہ اصول وضع کیے کہ فیڈریشنز کھیلوں کے ذمہ دار ادارے ضرور ہیں مگر وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں اور کھلاڑیوں کے مستقبل کے حوالے سے جوابدہ بھی ہیں۔ یہ فیڈریشنز کسی کا ذاتی کلب یا ذاتی جاگیر یا مستقل عہدوں کے تحفظ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اصلاحات کو شخصی کوشش سمجھ کر ختم نہ کیا جائے، یاسر پیرزادہ نے ان اصلاحات کو قانون اور پالیسی کا حصہ بنا دیا ہے، ان پر عمل کیا جائے۔ کھیلوں میں بدعنوانی، اقربا پروری، جعلی کلبز، غیر شفاف انتخابات، کھلاڑیوں کی عمر کا فراڈ، سلیکشن میں ناانصافی، نااہل کوچنگ، اور کھلاڑیوں کے استحصال کو صرف بیانات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے مضبوط نظام، آزاد نگرانی، ڈیجیٹل ریکارڈ، شفاف فنڈنگ، لازمی آڈٹ، اور خلاف ورزی پر حقیقی سزا ضروری ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ یہ سفر رکے نہیں۔ ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھایا جائے، فیڈریشنز کو مکمل طور پر جوابدہ بنایا جائے، کھلاڑی کو نظام کا مرکز بنایا جائے، اور قومی کھیلوں کو ذاتی مفادات کے شکنجے سے آزاد کیا جائے۔ کیونکہ دیر تو واقعی بہت ہو چکی ہے مگر اگر اصلاحات کا یہ راستہ جاری رہا تو پاکستان کے کھیلوں کا مستقبل اب بھی بچایا جا سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے