اسلامی سال کا ہر مہینہ اپنی ایک الگ شان، فضیلت اور روحانیت رکھتا ہے، مگر بعض مہینے ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی عظمت عطا فرمائی ہے۔ انہی بابرکت مہینوں میں ایک عظیم مہینہ ذوالحجہ بھی ہے۔
وہ مہینہ صرف اسلامی کیلنڈر کا آخری مہینہ نہیں، بلکہ ایمان، قربانی، اطاعت، وفاداری اور بندگی کی ایک لازوال داستان بھی ہے۔ اس مہینے کی فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس کے ابتدائی دس دنوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص شرف عطا فرمایا ہے۔ ذوالحجہ انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر خواہش، ہر محبت اور ہر قربانی پیش کر دینا ہی اصل کامیابی ہے۔
ذوالحجہ کا مہینہ آتے ہی پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ کہیں حاجیوں کے قافلے بیت اللہ کی طرف رواں ہوتے ہیں، کہیں قربانی کی تیاری شروع ہو جاتی ہے، کہیں تکبیرات کی صدائیں گونجتی ہیں اور کہیں لوگ عبادت، دعا اور ذکر و اذکار میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہ منظر، دراصل اس بات کی علامت ہے کہ امتِ مسلمہ آج بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کو یاد رکھے ہوئے ہے۔
ذوالحجہ کا سب سے نمایاں پیغام، اطاعت کا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور وفاداری کی عظیم مثال ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی محبوب ترین چیز قربان کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے بغیر کسی تردد کے سر جھکا دیا۔ ایک باپ کے لیے اپنے بیٹے سے بڑھ کر کوئی محبت نہیں ہوتی، مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کے سامنے اپنی ہر خواہش قربان کر دی۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ذوالحجہ ہمیں سکھاتا ہے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت بھی اپنی مثال آپ ہے۔ جب والد نے انہیں اللہ کے حکم کے بارے میں بتایا تو انہوں نے نہ صرف رضا مندی ظاہر کی، بلکہ فرمایا کہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ ایک نوجوان بیٹے کا یہ جذبۂ وفا، صبر اور اطاعت کی ایسی مثال ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کو راستہ دکھاتی رہے گی۔
اسی قربانی کی یاد میں اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ پر قربانی کو مشروع فرمایا۔ عید الاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس، اپنی خواہشات، اپنے غرور اور اپنی برائیوں کو اللہ کے سامنے قربان کرنے کا پیغام ہے۔ افسوس کہ آج بہت سے لوگ قربانی کی روح کو بھول کر اسے صرف رسم بنا چکے ہیں۔ مہنگے جانور، نمائش اور دکھاوا، بعض اوقات اس عظیم عبادت کی اصل روح کو متاثر کر دیتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل اہمیت اخلاص اور نیت کی ہے۔
ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی فضیلت بھی بے مثال ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دنوں میں کیے جانے والے نیک اعمال اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ان دنوں میں عبادت، ذکر، تلاوت اور صدقہ و خیرات کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے۔ روزہ رکھنا، تکبیرات پڑھنا، توبہ کرنا اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال انجام دینا، ان دنوں کی خاص عبادات ہیں۔
خصوصاً یومِ عرفہ کی فضیلت بہت عظیم ہے۔ میدانِ عرفات میں لاکھوں حاجی، سفید لباس میں ملبوس، اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھائے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ منظر انسان کو قیامت کے دن کی یاد دلاتا ہے۔ یومِ عرفہ، دراصل مغفرت، رحمت اور قبولیتِ دعا کا دن ہے۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق، اس دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ یہ دن انسان کو اللہ کے قریب ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ذوالحجہ کا مہینہ ہمیں اتحادِ امت کا درس بھی دیتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں، نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی لباس میں، ایک ہی جگہ، ایک ہی رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔ نہ کوئی امیر ہوتا ہے، نہ غریب؛ نہ کوئی بڑا، نہ چھوٹا۔ سب اللہ کے بندے بن کر اس کے حضور جھکتے ہیں۔ یہی اسلام کی اصل خوبصورتی اور مساوات کا پیغام ہے۔
یہ مہینہ ہمیں ایثار اور انسانیت کا درس بھی دیتا ہے۔ قربانی کا گوشت غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں تک پہنچانا، دراصل معاشرے میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔ اسلام صرف عبادت کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت کا بھی درس دیتا ہے۔ اگر ہمارے آس پاس کوئی غریب خاندان عید کی خوشیوں سے محروم ہو تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔
آج کا انسان مادیت میں اس قدر کھو چکا ہے کہ اسے اپنی خواہشات اور آسائشوں سے فرصت نہیں ملتی۔ ذوالحجہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی مال و دولت میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس ایمان تھا، اخلاص تھا اور اللہ پر کامل بھروسہ تھا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں قیامت تک کے لیے انسانیت کا امام بنا دیا۔
ذوالحجہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی وفاداری کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے جنت سے مینڈھا بھیج دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی نیت، اخلاص اور قربانی کو ضائع نہیں کرتا۔
یہ مہینہ ہمیں اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ انسان سوچے کہ وہ اللہ کے لیے کیا قربان کر رہا ہے؟ کیا اس نے اپنی برائیوں کو چھوڑا؟ کیا اس نے حسد، نفرت، غرور اور گناہوں سے توبہ کی؟ اگر قربانی کے بعد بھی انسان کی زندگی میں تبدیلی نہ آئے تو پھر اسے اپنے ایمان اور اخلاص کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ذوالحجہ کے دنوں میں تکبیراتِ تشریق کی صدائیں بھی ایمان تازہ کر دیتی ہیں:
”اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد۔“
یہ الفاظ، دراصل انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ سب سے بڑی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ دنیا کی ہر طاقت، ہر دولت اور ہر غرور عارضی ہے۔ اصل عظمت صرف اللہ کے لیے ہے۔
ذوالحجہ کا مہینہ صبر، شکر اور وفاداری کا درس بھی دیتا ہے۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی قربانی اور صبر بھی اسی داستان کا حصہ ہے۔ ایک ماں کا اپنے بچے کے ساتھ بے آب و گیاہ وادی میں رہنا اور پھر اللہ پر کامل بھروسہ رکھنا، ایمان کی عظیم مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر اور یقین کو ایسا مقام عطا فرمایا کہ آج بھی حاجی صفا و مروہ کی سعی میں ان کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
آج امتِ مسلمہ جن مشکلات، آزمائشوں اور انتشار کا شکار ہے، اس کا حل بھی ذوالحجہ کے پیغام میں پوشیدہ ہے۔ اگر مسلمان اخلاص، قربانی، اتحاد اور اللہ پر بھروسے کو اپنا لیں تو ان کی حالت بدل سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ذوالحجہ کو صرف ایک تہوار نہ سمجھیں، بلکہ اس کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
بالآخر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ذوالحجہ، دراصل اطاعت، وفا، قربانی اور بندگی کی لازوال داستان ہے۔ یہ مہینہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے، اپنی خواہشات قربان کرنے اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم ذوالحجہ کے حقیقی پیغام کو سمجھ لیں تو ہماری زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک مہینے کی قدر کرنے، اس کی فضیلتوں سے فائدہ اٹھانے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اخلاص و وفاداری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔