بعض قومیں وقت کے سمندر میں اس طرح ڈوب جاتی ہیں کہ نہ ان کا نام باقی رہتا ہے نہ کوئی نشان، نہ کوئی داستان اور بعض قومیں ایسی بھی گزری ہیں کہ صدیوں کے گرد و غبار کے باوجود آج بھی ان کے آثار، ان کی تہذیب، ان کے خیالات، ان کے معبد، ان کے فلسفے اور ان کے قدموں کے نشان زمین کے سینے پر ثبت ہیں
میں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
میرے ذہن میں اس کی ایک وجہ یہ آتی ہے کہ جو قومیں اپنی ثقافت سے محبت کرتی ہیں اپنے علم کو سنبھالتی ہیں اپنے ادب، فن آرٹس اور ٹیکنالوجی کو وقت کے ساتھ ترقی دیتی ہیں، اور سب سے بڑھ کر اتحاد کو تھامے رکھتی ہیں… وہ قومیں مٹتی نہیں، تاریخ کے حافظے میں زندہ رہتی ہیں۔
قومیں صرف تلواروں سے نہیں، شعور سے زندہ رہتی ہیں
شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی بدھ مت کا نام زندہ ہے، اس کی تاریخ موجود ہے، اس کے آثار باقی ہیں، اور اس کے کھنڈرات آج بھی خاموش ہو کر انسان کو بہت کچھ سکھاتے ہیں
اسی سلسلے میں کل CLADO نے، CHANAN ،ڈائریکٹریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا” اور “Aman Rang کے اشتراک سے ایک راہِ امن ٹور ارینج کیا تھا۔ ایک ایسا ٹور جو محض سیر نہیں تھا، بلکہ شعور، تاریخ، ثقافت اور انسانیت کے کئی در وا کرتا تھا
ہم پشاور سے روانہ ہوئے، اور ہماری منزل تھی تخت بھائی
ویسے میں نے ہمیشہ اسے تخت بھائی سنا تھا مگر اس سفر میں پہلی بار یہ بات کنفرم ہوئی کہ اصل نام تخت باہی ہے۔
وہاں موجود لوگوں سے اور کچھ مطالعے سے یہ بات سمجھ آئی کہ “تخت” بلند جگہ یا اونچی مقام کو کہتے ہیں، جبکہ “باہی” اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں پانی ہو یا جہاں سے پانی نکلتا ہو۔ یوں “تخت باہی” یعنی “پانی والی بلند جگہ”۔ وقت کے ساتھ زبان نے کروٹ لی، لہجوں نے تبدیلی کی، اور “تخت باہی” آہستہ آہستہ “تخت بھائی” بن گیا۔
زبانیں بھی عجیب شے ہیں، وقت کے ساتھ لفظوں کے لباس بدل دیتی ہیں۔
اکثر ہم نوجوان یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے لیے کچھ نہیں ہو رہا، نوجوانوں کے لیے مواقع نہیں ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کام ہو رہا ہوتا ہے، بس کبھی ہماری نگاہ وہاں تک نہیں پہنچتی۔
یہ ٹور بھی انہی خوبصورت کوششوں میں سے ایک تھا۔
ہم پشاور صدر کے قیوم اسٹیڈیم سے روانہ ہونے والے تھے۔ سخت ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ اگر کوئی ساڑھے سات بجے سے لیٹ ہوا تو بس اس کا انتظار نہیں کرے گی۔
یہ ہدایات عبدالرحمان سر جو کلاڈو کے فاؤنڈر ہیں کی طرف سے تھیں۔
اور اس پوری ایکٹیویٹی کی لیڈرشپ ابو ہریرہ کو دی گئی تھی۔ ابو ہریرہ نے بھی گروپ میں بڑے سنجیدہ انداز میں وہ تمام انسٹرکشنز دوبارہ شیئر کیں۔ یہاں تک کہا گیا کہ اگر کوئی اپنے ساتھ ایسا دوست لے آیا جو انوائٹڈ نہ ہو، تو دونوں کو واپس بھیج دیا جائے گا۔
ہم نے پوری کوشش کی وقت پر پہنچ جائیں… مگر قسمت کو شاید ہلکی سی شرارت منظور تھی۔
ہم ساڑھے سات کے بجائے تقریباً سات پینتالیس پر پہنچے۔
لیکن وہاں پہنچ کر جو سب سے دلچسپ انکشاف ہوا، وہ یہ تھا کہ عبدالرحمان سر خود لیٹ تھے۔
سو، جو قانون دوسروں کے لیے بنایا گیا تھا، وقت نے وہی قانون ان پر بھی آزما دیا۔
ہم نے دل ہی دل میں سوچا:
“قانون واقعی سب کے لیے برابر ہونا چاہیے… مگر کبھی کبھی گھڑی بھی انسان سے بدلہ لے لیتی ہے۔”
وہاں کئی ایسے دوست ملے جنہیں بہت عرصے بعد دیکھا۔ کچھ چہرے یادوں کے دریچے کھول رہے تھے، کچھ لوگ وقت کی گرد سے نکل کر دوبارہ سامنے آ گئے تھے۔ پھر ہم بسوں میں بیٹھے اور سفر شروع ہوا۔
راستے بھر سانگز چلتے رہے، کہیں قہقہے تھے، کہیں ہلکی موسیقی، کہیں دوستوں کا شور، کہیں خاموش کھڑکیوں سے باہر جھانکتی نظریں۔
کچھ لوگ رقص میں مصروف تھے، کچھ ویڈیوز بنا رہے تھے، اور کچھ صرف لمحوں کو محسوس کر رہے تھے۔
یوں ہنستے مسکراتے ہم تخت باہی پہنچ گئے۔
وہاں ہمارے لیے ایک گائیڈ بھی موجود تھا، جو اس تاریخی مقام کے بارے میں بتا رہا تھا۔
تخت باہی کے کھنڈرات ایک بلند مقام پر واقع ہیں، اس لیے وہاں تک پہنچنے کے لیے بے شمار سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں۔
اور وہ سیڑھیاں… واقعی انسان کے صبر کا امتحان لے لیتی ہیں۔
چند لمحوں کے لیے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ تک پہنچنے کے لیے حال کو پسینہ بہانا پڑتا ہے۔
میں اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ اوپر جا رہا تھا۔
زفر بھائی، علی عمران بھائی، آفاق، رفیع اللہ، دلراج،حارث,
روحُ اللہ,
عظمتُ اللہ, محمد اویس، کائنات، فاطمہ،ماریہ, ثروت انیس، ملیحہ…
یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ مختلف ایونٹس اور ایکٹیویٹیز میں ملاقات ہوتی رہتی ہے، اور عجیب بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ہر محفل کو خوبصورت بنا دیتے ہیں۔
ابو ہریرہ چونکہ انتظامی کاموں میں مصروف تھا، اس لیے ہمارے ساتھ مسلسل نہ رہ سکا۔
وہیں توقیر بھی آیا ہوا تھا، جو ہمارے بہت اچھے دوستوں میں سے ہے۔
اسی دوران میرے کزن محمود الحسن بھی ہمارے ساتھ تھے، اور سفر میں اپنائیت کا ایک الگ ہی رنگ شامل کیے ہوئے تھے۔
محمد انور سر بھی موجود تھے، جو میرے استاد بھی ہیں اور دوست بھی۔ ان کے ساتھ میں نے PLF میں ڈیزائننگ کا کام کیا تھا، اور سچ کہوں تو ڈیزائننگ کے حوالے سے بہت کچھ انہی سے سیکھا۔ بعض لوگ صرف استاد نہیں ہوتے، وہ انسان کے ہنر کے دروازے کھولتے ہیں۔
محمد عمار بھی اس سفر کا حصہ تھے، جو “Tour de Peshawar” کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ پشاور آنے والے لوگوں کو وہ جس محبت سے اس شہر کی تاریخ، گلیاں، ثقافت اور روح سے متعارف کرواتے ہیں، وہ خود بھی کسی چلتی پھرتی داستان سے کم نہیں۔
اور پھر وردہ شہزادی…
میں نے انہیں پہلی بار پشاور لٹریری فیسٹیول میں دیکھا تھا۔ ایک باوقار، باصلاحیت اور متاثر کن شخصیت۔ اس ٹور میں ان کی موجودگی نے بھی محفل کو ایک الگ رنگ دیا۔ بعض لوگ شور نہیں کرتے، مگر ان کی موجودگی خود ایک خوبصورت احساس بن جاتی ہے۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے دوست تھے، کچھ کے نام ذہن میں رہ گئے، کچھ وقت کی دھند میں کہیں چھپ گئے۔ مگر بعض لوگ ناموں سے نہیں، احساسوں سے یاد رہتے ہیں۔ اور یہ سفر انہی احساسوں سے بھرا ہوا تھا۔
جب ہم کھنڈرات کے اندر گئے تو گائیڈ نے بدھ مت، اس کی تاریخ، اس کے فلسفے اور وہاں موجود مختلف حصوں کے بارے میں بتایا۔
وہاں سیکھنے کی جگہیں تھیں، کلاسز تھیں، مختلف شعبے تھے، اساتذہ ہوتے تھے۔
یہ محض عبادت گاہ نہیں تھی، یہ ایک مکمل علمی مرکز تھا۔
وہاں میڈیٹیشن کے لیے الگ مقامات تھے، جہاں لوگ خاموشی میں بیٹھ کر خود کو تلاش کیا کرتے تھے۔
مجھے وہاں جا کر شدت سے یہ احساس ہوا کہ جو قومیں علم، تربیت، روحانیت اور نظم کو اہمیت دیتی ہیں، وہ اپنے بعد بھی نشان چھوڑ جاتی ہیں۔
اینٹیں ٹوٹ جاتی ہیں، مگر فکر باقی رہتی ہے۔
اس سفر کی ایک اور خوبصورت بات یہ تھی کہ ہمارے ساتھ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔
ہندو دوست بھی تھے، سکھ بھی، عیسائی بھی، مسلمان بھی۔
ہمارے عقائد مختلف تھے، نظریات مختلف تھے، مگر ہم ایک دوسرے کے مخالف نہیں تھے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم انسان اکثر وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو ہمیں تقسیم کرتی ہیں، مگر وہ چیزیں نہیں دیکھتے جو ہمیں ایک کرتی ہیں۔
اور ان سب میں سب سے بڑی مشترک چیز “امن” ہے۔
ہندو کو بھی امن چاہیے۔
مسلمان کو بھی امن چاہیے۔
سکھ کو بھی امن چاہیے۔
عیسائی کو بھی امن چاہیے۔
پھر آخر ہم امن کے نام پر اکٹھے کیوں نہیں ہو جاتے؟
یہ خطہ صدیوں سے ظلم، بربریت، استحصال اور بے چینی کا شکار رہا ہے۔
لیکن اگر ہم ان چیزوں پر متحد ہو جائیں جو ہم سب میں مشترک ہیں، تو شاید بہت سے مسائل ختم ہو جائیں۔
مجھے اس ٹور میں سب سے خوبصورت منظر یہی لگا کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی بات سن رہے تھے، احترام دے رہے تھے، اختلاف کے باوجود برداشت کر رہے تھے۔
یہ منظر شاید کسی بھی کھنڈر سے زیادہ خوبصورت تھا۔
مجھے واقعی خوشی ہوئی کہ میں ان لوگوں کے ساتھ اس ایکٹیویٹی میں گیا۔
میں نے بہت کچھ سیکھا، اور یقیناً باقی دوستوں نے بھی بہت کچھ سیکھا ہوگا۔
پھر ہمیشہ کی طرح آفاق بھائی تصویروں اور ویڈیوز میں مصروف تھے۔
ایک کیمرہ مین بھی ہمارے ساتھ تھا، جبکہ علی عمران بھائی اپنے ساتھ ڈرون کیمرہ بھی لے آئے تھے۔
میں نے سوچا کہ آج موبائل کم استعمال کروں گا، لمحوں کو زیادہ محسوس کروں گا۔
اس لیے میں نے زیادہ تصویریں نہیں بنائیں۔
سوچا، “جو منظر دل میں محفوظ ہو جائے، اسے گیلری کی ضرورت نہیں رہتی۔”
ایکٹیویٹی ختم ہونے کے بعد ہم ایک ہوٹل گئے، جہاں لنچ کیا۔
ہم سب بری طرح تھکے ہوئے تھے، مگر ذہنی طور پر بہت تازہ تھے۔
لنچ سے پہلے عبدالرحمان سر نے ایک خوبصورت ایکٹیویٹی رکھی، جس میں سب نے بتایا کہ انہوں نے کیا سیکھا، ان کے ذہن میں کیا سوالات آئے، اور اس سفر نے انہیں کیا سوچنے پر مجبور کیا۔
اس ایکٹیویٹی میں نہ صرف بہت کچھ سیکھنے کو ملا بلکہ نئے لوگوں سے نیٹ ورکنگ بھی ہوئی۔
کئی نئے دوست بنے، کئی نئی سوچیں سننے کو ملیں۔
آخر میں، میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ان تمام لوگوں کا جنہوں نے اس ٹور کو خوبصورت بنایا۔
اور خاص طور پر “کلاڈو”، “چنان”، “ڈائریکٹریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا”، “راہِ امن” اور عبدالرحمان سر کو داد دیتا ہوں کہ وہ اس طرح کی سرگرمیاں ارینج کرتے ہیں تاکہ نوجوان اپنی تاریخ، اپنی ثقافت، اپنی تہذیب اور اپنے خطے سے دوبارہ جڑ سکیں۔
کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ سے جڑ جائے…
وہ شاید کبھی مکمل طور پر نہیں مرتی۔