آج کل مارکیٹ میں نیا ٹرینڈ آیا ہے۔ایک دیو قامت گوریلا شادی کی تقریب میں ناچتا ہوا نظر آتا ہے۔ بیک گرائونڈ میوزک چل رہا ہوتا ہے۔
لیلیٰ او لیلیٰ ایسی میں لیلیٰ
ہر کوئی چاہے مجھ سے ملنا اکیلا
گوریلا گانے پر ایسا رقص کرتا ہے کہ نرگس اور دیدار بھی شرما جائیں۔ شادی کی تقریب میں دولہا کے دوست بھی گوریلے کے ساتھ ناچ رہے ہوتے ہیں۔
میں نے پہلی بار انسٹا گرام پر گوریلے کی وڈیو دیکھی تھی جو بھارت کے کسی شہر میں شادی کی ایک تقریب میں ڈانس کر رہا تھا۔
بعد میں دیکھا کہ یہ گوریلا گلستان جوہر کراچی کی کسی شادی میں ڈانس کر رہا ہے۔اور اب تو گوریلے کا ٹرینڈ مہنگائی کی طرح بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
پیسہ کمانے والے جانتے ہیں کہ پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے وہ ہم جیسے نکمے اور بیوقوف نہیں ہیں جو ساری عمر نوکری کرتے ہوئے اپنے جوتے گھستے رہیں۔
دھندہ کرنے والے جانتے ہیں کہ دھندہ کیسے کیا جاتا ہے۔ کیسے شہر میں منرل واٹر کی ضرورت پیدا کی جاتی ہے اور پھر وہی لوگ جو اپنے گھروں میں میٹھا پانی پیتے تھے ان کو باہر کا پانی پینے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔
گوریلے کا ٹرینڈ بھی چل پڑا ہے۔ کمانے والے اس ٹرینڈ سے کروڑ پتی بن جائیں گے اور کروڑ پتی ارب پتی مگر گوریلے کے اندر چھپا ہوا جو ایک عام آدمی ہے جسے بھٹو کے نعرے روٹی کپڑا اور مکان میں الجھا دیا گیا ہے وہ دو وقت کی روٹی کے لیے ناچتا ہی رہے گا۔
جب سے گوریلے کا ٹرینڈ شروع ہوا ہے انسٹا گرام اور فیس بک پر اشتہار دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ آپ گوریلے کا گیٹ اپ خریدنے کے لیے دیے گیے نمبروں پر ہم سے رابطہ کیجیے۔
یہی نہیں اگر آپ گوریلے کا لباس پہن کر شادیوں میں ڈانس کر سکتے ہیں تب بھی آپ ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
اب تو یہ ٹرینڈ اسکول کالج اور یونیورسٹی تک جا پہنچا ہے۔بڑے بڑے ادارے اپنے سالانہ ڈنر میں گوریلے کی خدمات لے رہے ہیں۔
گلی محلے میں جہاں بقر عید پر گائے بیل بکرے اور دنبوں کو دیکھا جاتا تھا اب بڑی بڑی گاڑیوں میں خوفناک گوریلے کو گلیوں محلے اور سڑکوں پر دیکھا گیا۔ بچے بوڑھے اور جوان گوریلے کے ساتھ قربانی کے فلسفے کا خون بہا چکے ہیں۔ گوریلے کو اس طری سے لایا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ میوزک سسٹم بھی شامل ہوتا ہے۔ لوگ اس خوفناک بلا کو دیکھ کر بجائے خوفزدہ ہونے کے خوشی سے پاگل ہو جاتے ہیں۔ گوریلا بھی سوچتا ہے کہاں رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی۔
پہلے زمانے میں لوگ شادی بیاہ میں گھر پر فنکشن کرواتے تھے ڈانس کرنے لیے ڈانسر آتے تھا مگر اب فنکاروں کے پیٹ پر اس گوریلے نے لات مار دی ہے۔
پچھلے دنوں میرا ایک ایسی ہی شادی میں جانا ہوا کہ جہاں گوریلے کو بلایا گیا تھا۔ تقریب میں شریک سبھی لوگ گوریلا کے ساتھ ڈانس کرنے میں مشغول تھے۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اتنی گرمی میں یہ خوفناک گوریلا کیسے ناچ رہا ہے۔ کس طرح سانس لے رہا ہے جب گوریلا کی پرفارمینس ختم ہوئی تو میں گوریلے کے پیچھے اس کے کمرے میں چلا گیا جہاں وہ آرام کرنے کے لیے بیٹھ گیا تھا۔میں نے گوریلے کو میرا مطلب ہے کہ اس میں چھپے اس آدمی کو شاباشی دی کہ وہ اس گرمی میں ناچ رہا ہے۔
میں نے اپنی جیب سے دو ہزار روپے اس کو دہے وہ بہت خوش ہوا۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ پڑھا لکھا آدمی ہے۔ بیروزگاری کی وجہ سے گوریلا بن کر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے۔ میں اس آدمی کی کہانی سن کر دکھی ہوا اور واپس ہال کی طرف بڑھنے لگا اس آدمی نے کہا کہ بھائی جان آپ نے مجھے دیکھ لیا ہے مگر یہ بات راز ہی رہے میں نے کہا بے فکر رہو ۔
میں واپس ہال میں آگیا تھوڑی دیر بعد گوریلا پھر اسٹیج پر آگیا اور ناچنے لگا۔ بچے بوڑھے اور جوان سب گوریلے کے ساتھ ڈانس کرنے لگے۔ میں یہ سب تماشا دیکھ رہا تھا۔ گوریلے کے اندر کی کہانی میں جان چکا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ لوگوں کو کس طرح ناچنے پر مجبور کردیا ہے۔ اب ہماری یہ حالت ہوگئ ہے کہ ہم ناچ ناچ کر اپنے بچوں کے لیے پیسہ کمانے پر مجبور ہیں۔ میرے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ پیسہ کمانے والے جانتے ہیں کہ پیسہ کا طرح کمایا جاتا ہے۔ وہ ہماری طرح نکمے اور بیوقوف نہیں ہوتے۔ کہ ہماری طرح نوکری کرکے جوتے گھستے رہیں۔
دھندہ کرنے والے جانتے ہیں کہ دھندہ کیسے کیا جاتا ہے۔ لوگوں کا دھیان کسطرح سے پلٹا جاتا ہے۔ مہنگائی, بیروزگاری اور امن وامان کی خراب صورتحال سے جنتا کا دھیان ہٹانے کے لیے اس سے اچھا اور کیا حل ہوگا کہ لوگوں کو گوریلے کے ڈانس میں لگا دیا جائے
شاعر آنند بخشی نے ایک گیت میں کہا تھا کہ۔
ناچ میری بلبل کہ پیسہ ملے گا۔
اگر مہنگائی سے پریشان ہیں تو گھبرائیے مت ۔گوریلے کا روپ دھارلیں اور گائیے کہ
ناچ گوریلے کہ پیسہ ملے گا۔