ستو صرف ایک غذا نہیں ایک پورا زمانہ ہے۔ ایک ایسی خوشبو ایک ایسا ذائقہ اور ایک ایسی یاد جو وقت کے ساتھ ماند تو پڑ سکتی ہے مگر کبھی ختم نہیں ہوتی۔ آج جب ستو دیکھتا ہوں تو دل بے اختیار بچپن کی ان گلیوں میں جا پہنچتا ہے جہاں زندگی کی رفتار بہت سست مگر خوشیاں بہت تیز ہوا کرتی تھیں۔
بچپن میں گاؤں سے ماں جی (دادی جان) باقاعدگی سے ستو بھجوایا کرتی تھیں۔ جن میں ذائقے کے ساتھ ان کے ہاتھوں کی محبت ان کی دعائیں اور گاؤں کی مٹی کی سوندھی خوشبو بھی شامل ہوتی تھی۔ اماں جی کبھی انہیں پانی میں گھول کر شکر یا شہد ملا دیتیں اور کبھی خشک ستو میں تازہ مکھن اور شکر ملا کر ہمارے سامنے رکھ دیتیں۔ آج دنیا کے مہنگے سے مہنگے ناشتے بھی اس ذائقے کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
ستو کے ساتھ ہماری شرارتیں بھی جڑی ہوئی تھیں۔ ہم منہ میں خشک ستو بھر لیتے اور پھر زور سے "پھوپھا” کہتے۔ اگلے ہی لمحے ستو فوارے کی طرح ہر طرف بکھر جاتا۔ ہمیں اپنی اس حرکت پر بے حد ہنسی آتی لیکن اس کے فوراً بعد اماں جی سے ڈانٹ بھی پڑتی تھی۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔ ماں جی (دادی جان) اس دنیا سے رخصت ہو گئیں اور ان کے ساتھ بہت سی چیزیں بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد نہ کبھی گاؤں سے ستو آئے نہ وہ خشک کیا ہوا مکھڈی حلوہ اور نہ ہی وہ میٹھی ٹکیاں جن کا ہم بے چینی سے انتظار کیا کرتے تھے۔ عید پر گاؤں سے دنبہ یا بکرا آنا بھی بند ہو گیا۔ یوں لگا جیسے صرف ایک انسان نہیں گیا بلکہ ایک پورا عہد اپنے ساتھ لے گیا۔
اب گاؤں کا وہ گھر بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ صبح سویرے صحن میں پانی چھڑکنے کے بعد مٹی کی سوندھی خوشبو بھی کہیں کھو گئی۔ چکی پیسنے کی آواز خاموش ہو گئی۔ صحن کے ایک کونے میں رکھا چرخہ وہیں کا وہیں رہ گیا مگر اسے گھمانے والے ہاتھ ہمیشہ کے لیے رک گئے۔ کبھی جس صحن میں سپارہ پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں وہ صحن بھی آج ویران ہو چکا ہے۔ اور وہ منظر بھی اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے جب گاؤں سے واپس نکلتے ہوئے ہم بار بار مڑ کر دیکھتے تھے اور ماں جی (دادی جان) دروازے پر کھڑی اس وقت تک ہمیں دیکھتی رہتی تھیں جب تک ہم نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے۔
زندگی میں کچھ محرومیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا احساس وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ مجھے آج بھی ان تمام چیزوں کی کمی محسوس ہوتی ہے مگر اس سے کہیں زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ میں یہ سب اپنے بچوں کو نہیں دکھا سکتا۔ میں انہیں ستو کا ذائقہ تو چکھا سکتا ہوں مگر ماں جی (دادی جان) کے ہاتھوں کی محبت نہیں۔ میں انہیں مٹی کی خوشبو کا ذکر تو کر سکتا ہوں مگر وہ خوشبو ان کے احساس کا حصہ نہیں بن سکتی۔
میرے بچوں نے ایک بھرپور بچپن گزارا ہے مگر ان کے بچپن کا رنگ مختلف ہے۔ انہوں نے مسجد کے سامنے پڑاؤ ڈالے ہوئے ملیار سے کبھی سبزی نہیں خریدی۔ انہیں معلوم نہیں کہ کنویں کے کنارے اگائی گئی تازہ سبزی کی خوشبو کیا ہوتی ہے اور وہ کس طرح زمین سے توڑ کر سیدھی گھر لائی جاتی تھی۔ انہوں نے بکھوال کے خدا بخش موچی کے ھاتھ کی بنی کھیڑیاں نہیں پہنیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ گھوڑے کے پسینے کی مہک کیسی ہوتی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ گھوڑے پر سفر کرنے کا لطف کیا ہوتا ہے۔ میں اماں جی کی گود میں گھوڑے پر بیٹھا ہوتا تھا سامنے کاٹھی (زین) کو مضبوطی سے پکڑے رہتا تھا اور میرے ماموں گھوڑے کی لگام تھامے آہستہ آہستہ آگے چلتے تھے۔ آج بھی وہ منظر میری آنکھوں میں تازہ ہے مگر میرے بچوں نے کبھی ایسا سفر نہیں کیا اس لیے وہ اس احساس سے بھی محروم ہیں۔ انہوں نے کبھی سردیوں کی صبح دھکتے اُپلوں پر ہاتھ نہیں تاپے نہ اس دھوئیں میں لپٹی ہوئی وہ گرمی محسوس کی جو آج بھی یادوں کو گرم رکھتی ہے۔
شاید ہر نسل اپنے ساتھ کچھ نئی سہولتیں لے کر آتی ہے اور کچھ پرانی نعمتیں پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ ہمارے بچوں کے پاس جدید تعلیم بہترین ٹیکنالوجی اور دنیا بھر کی معلومات ہیں مگر ان کے حصے میں وہ سادہ خوشیاں نہیں آئیں جو ہمارے پاس تھیں۔ ان کے پاس تصویریں ہیں ہمارے پاس یادیں ہیں۔ ان کے پاس رفتار ہے ہمارے پاس ٹھہراؤ تھا۔
آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ستو کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے تو شاید میں اس کا جواب الفاظ میں نہ دے سکوں۔ کیونکہ ستو کا ذائقہ صرف زبان پر محسوس نہیں ہوتا وہ یادوں میں گھل جاتا ہے۔ اس میں ماں جی (دادی جان) کی محبت اماں جی کی شفقت گاؤں کی مٹی چکی کی آواز چرخے کی گردش اور بچپن کی بے فکری سب شامل ہوتی ہے۔
آنے والی نسلوں کو بھی شاید میری طرح یہ احساس بہت بعد میں ہوگا کہ اصل دولت صرف وہ نہیں جو بٹوے میں ہوتی ہے بلکہ وہ بھی ہے جو یادوں میں محفوظ رہتی ہے۔ ستو آج بھی بازار میں مل جاتے ہیں مگر وہ بچپن وہ ماں جی (دادی جان) وہ گاؤں اور وہ محبت کہیں نہیں ملتی۔ شاید اسی لیے بعض اوقات معمولی سے ستو بھی انسان کو اپنی پوری زندگی کا سفر دوبارہ طے کرا دیتے ھیں۔