لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، جسمانی کمزوری اور بیماری ضمانت کی قانونی بنیاد قرار

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر بعد از گرفتاری ضمانت سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جسمانی کمزوری، بڑھاپا یا معذوری ضمانت کی مؤثر قانونی بنیاد بن سکتی ہے۔

جسٹس امجد رفیق نے پارکنسنزم (دماغی و اعصابی تنزلی) کے مرض میں مبتلا ملزم ڈاکٹر افتخار احمد کی درخواستِ ضمانت پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر جیل رپورٹ میں ملزم کی جسمانی کمزوری ثابت ہو جائے تو بیماری کی شدت کا الگ سے جائزہ لینا ضروری نہیں رہتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بیماری اور جسمانی کمزوری ضمانت کے لیے الگ الگ قانونی بنیادیں ہیں، جبکہ جیل کی سختیاں کمزور، معمر اور معذور افراد کے لیے زیادہ اذیت کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایسے افراد کو غیر ضروری جسمانی تکلیف سے بچانا انصاف کے تقاضوں میں شامل ہے۔

عدالت نے مزید لکھا کہ درخواستِ ضمانت مقدمے کے میرٹ پر نہیں بلکہ ملزم کی خراب جسمانی حالت کی بنیاد پر دائر کی گئی تھی۔ جیل رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر افتخار احمد پارکنسنزم کے مرض میں مبتلا ہیں، جو وقت کے ساتھ جسمانی خودمختاری کو متاثر کرتا ہے۔

عدالت نے پراسیکیوشن کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ چونکہ ملزم جیل میں زیرِ علاج ہے، اس لیے ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

فیصلے میں اسلامی تعلیمات اور بین الاقوامی عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بیمار اور کمزور افراد کو خصوصی تحفظ دیا جاتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر افتخار احمد کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

عدالت نے ملزم کو گواہوں پر اثر انداز نہ ہونے، اپنا پاسپورٹ جمع کرانے اور عدالتی اجازت کے بغیر دائرۂ اختیار سے باہر نہ جانے کی بھی ہدایت کی۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر افتخار احمد کے خلاف تھانہ سبزہ زار میں ایک شہری کے بیٹے کو مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگانے کا مقدمہ درج ہے، جبکہ وہ مارچ 2025 سے جیل میں قید تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے