کتب خانہ ہمایوں شریف سندھ

کئی سال ہوئے کہ مجھے صوبہ سندھ کے قدیم خانوادوں، مدارس اور خانقاہوں میں جا کر بعض قدیم کتب خانوں اور علمی ذخیروں کے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے تین ہفتے اس میں صرف کئے۔ بہت سے اہل علم سے ملا، بہت سے مدرسے دیکھے، متعدد خانقاہوں میں پہنچا، اور ہر جگہ کے ذخیرۂ مخطوطات کو خصوصیت کے ساتھ دیکھا۔ میں نے اس سیر میں چھوٹے بڑے بہت سے کتب خانے دیکھے، ان میں سے ہر ایک میں کچھ نہ کچھ نوادر موجود ہیں۔ بعض کتب خانے بڑی اچھی حالت میں ہیں، بعض بے توجہی کا شکار ہیں اور برباد ہو رہے ہیں۔ میں نے جتنے کتب خانے دیکھے ان میں مخطوطات کا سب سے بڑا ذخیرہ کتب خانہ ہمایوں شریف میں ہے۔ اس کتب خانہ کا مختصر حال پیش کر رہا ہوں۔

ہمایوں شریف
ہمایوں شریف ایک چھوٹا سا دیہات ہے جو شکارپور سے صرف تیرہ میل (21 کلومیٹر) پر واقع ہے، یہ اس شاہ راہ پر ہے جو سکھر سے شکار پور، جیکب آباد اور سبی سے ہوتی ہوئی کوئٹہ اور چمن کو جاتی ہے۔ شاہ راہ سے ایک طرف گاؤں کی آبادی ہے اور دوسری طرف کسی قدر فاصلہ پر ریلوے اسٹیشن ہے۔ اسٹیشن کا نام ہمایوں ہے۔ اس اسٹیشن پر مسافر گاڑیاں ٹھہرتی ہیں، میل ٹرین نہیں ٹھہرتی، یہاں سے جیکب آباد صرف تیرہ میل رہ جاتا ہے۔ اس طرح ہمایوں شریف شکار پور اور جیکب آباد کے ٹھیک وسط میں واقع ہے۔

اسٹیشن سے گاؤں کا فاصلہ ڈیڑھ دو میل سے زیادہ نہیں ہے لیکن میں جب وہاں گیا تھا اس رات کو بارش ہو چکی تھی اس لئے صبح کے وقت اسٹیشن سے گاؤں تک کا یہ ذرا سا فاصلہ بھی کیچڑ اور پانی کی وجہ سے بڑی مشکلوں کے ساتھ طے کرنا پڑا۔ ورنہ اسٹیشن سے پیدل چل کر ہمایوں شریف میں پہنچنا کوئی مشکل مہم نہیں ہے۔

ہمایوں شریف میں سلسلۂ قادریہ کی ایک خانقاہ ہے، خانقاہ کے ساتھ ایک ابتدائی مدرسہ ہے، اور ۱۲۵۳ ہجری کی تعمیر کردہ ایک بہت ہی عالیشان مسجد ہے جو اب نہایت بوسیدہ حالت میں ہے۔ سلسلہ قادریہ کے بزرگ تو سندھ میں تمام زیادہ گزرے ہیں اور موجود بھی ہیں۔ اس وقت بریلویوں اور دیوبندیوں میں بہت ساری خانقاہیں اس پر کام کر رہی ہیں۔ ہمایوں شریف کی جو خانقاہ ہے، اس کے بانی مولانا محمد یعقوب صاحب ہیں جن کی اصل شہرت تعلیم و تدریس اور تعلیم و تعلم تھا۔ سندھ کے جو علمی سلسلے ہیں، ان میں ایک عالی سلسلہ تعلیم کا یہ بھی تھا۔ ہمایوں شریف سے بہت بڑے اللہ والے اور بہت بڑے مستند عالم پڑھے ہیں، پھر انہوں نے آگے فیض پہنچایا ہے اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مولانا محمد یعقوب ہمایونی صاحب اصل میں بلوچستان قلات کے مضافات کا ایک گاؤں تھا جس کا نام کنڈی تھا، وہاں سے اپنے استاد محترم کے ساتھ آئے تھے۔ پھر ہمایوں گاؤں کے رئیسان کی فرمائش پر یہاں مقیم ہو گئے، پھر یہاں درس و تدریس، تعلیم و تعلم اور تزکیے کا کام شروع کیا۔ پھر آگے جا کر ان کے فرزند مولانا مفتی عبدالغفور ہمایونی نے اس سلسلے کو چلایا۔ ہمایوں شریف کی مسجد اب نئی تعمیر ہو چکی ہے اور بہرحال نظم و نسق وہی پرانا ہے۔ صفائی ستھرائی کا اتنا اہتمام نہیں ہوتا، تو موجودہ ذمہ داران اس طرف توجہ نہیں دے رہے۔

سندھ میں جو خانقاہیں ہیں وہ زیادہ تر سلسلۂ نقشبندیہ کی ہیں، چشتیہ کی کم، سہروردیہ کی ان سے بھی کم اور سلسلۂ قادریہ کی شاید یہی ایک خانقاہ ہو۔ میں نے سندھ میں سلسلۂ قادریہ کی کسی دوسری خانقاہ کا ذکر نہیں سنا۔ ممکن ہے کوئی ہو جس کا مجھے علم نہیں۔

سلسلۂ نقشبندیہ کے بزرگ جو سندھ میں ہوئے ان میں حضرت خواجہ باقی باللہ (المتوفی ۱۰۱۲ھ) کے متوسلین بھی تھے۔ اگرچہ زیادہ لوگ حضرت خواجہ باقی باللہ کے جلیل القدور خلیفہ حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی (المتوفی ۱۰۳۴ھ) کے سلسلۂ مجددیہ سے وابستہ ہیں کیونکہ حضرت مجدد کی اولادِ امجاد کی ایک شاخ سندھ میں ایک مدت سے اقامت پذیر ہے۔ لیکن بعض خانقاہیں اولادِ مجدد کے سندھ میں ورود سے پہلے ہی قائم ہو چکی تھیں۔

بہر حال جہاں تک مجھے معلوم ہے صوبہ سندھ میں سلسلۂ قادریہ کی یہی ایک خانقاہ ہے جو ہمایوں شریف میں واقع ہے۔ یہ خانقاہ کب سے قائم ہے اس کا کوئی صحیح علم مجھے حاصل نہیں ہو سکا۔ بیان کیا گیا کہ ۱۲۵۳ھ میں مسجد کی تعمیر سے بہت پہلے ہی سے یہ خانقاہ موجود تھی اور مسجد کے ساتھ اس کی تعمیر نو ہوئی ہے۔ مسجد میں چونکہ کتبہ لگا ہوا ہے اس لئے اس کی تعمیر کا سال متعین ہے۔ کتبہ کی عبارت سے خانقاہ کی تعمیر کا کوئی حال نہیں ملتا، اس لئے ممکن ہے بیانِ مندرجہ بالا صحیح ہو، اور خانقاہ کے لئے ۱۲۵۳ھ میں مسجدِ نو تعمیر کی گئی ہو۔

کتب خانہ
خانقاہ کے ساتھ جو کتب خانہ ہے اس میں عربی, فارسی اور اردو کی تقریباً پانچ ہزار کتابیں ہیں، اردو کی کم اور عربی کی زیادہ۔ ان میں سے تقریباً ایک ہزار کتابیں قلمی ہیں اور باقی مطبوعہ۔ مطبوعات میں بہت سی قدیم اور نادر ہند، مصر وغیرہ کی مطبوعات ہیں جن کا اب میسر آنا آسان نہیں ہے۔ اور مخطوطات میں نوادرِ کتب کے علاوہ خطاطی اور قدامتِ تحریر کے اعتبار سے بعض بہت ہی انمول نسخے یہاں موجود ہیں۔

یہ کتب خانہ اچھی حالت میں نہیں ہے۔ دیواروں میں چوبی تختے لگے ہوئے ہیں اور ان پر یہ نادر کتب خانہ گرد و غبار سے اٹکا ہوا پڑا ہے۔ بعض کتابوں کو سیل (سیلن) سے اور بعض کو کیڑوں سے نقصان پہنچ چکا ہے اور باقی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اس کے علاوہ لائبریری کی نئی عمارت بھی تعمیر ہو چکی ہے اور عمارت تو بہت شاندار بنی ہے، لیکن وہاں تک رسائی ہر ایک کی نہیں ہے۔ موجودہ گدی نشین صاحب اپنے پیری مریدی میں مصروف ہوتے ہیں، ان کی بھی زیادہ تر کتابوں کی طرف توجہ نہیں ہے۔ اس وقت ہی اتنی خستہ حال میں کتابیں تھیں، اب نہیں معلوم کہ کتابیں کتنی ہیں اور کیا ہے۔ ہم بھی ایک بار گئے تھے لیکن ناکام ہو کر لوٹے تھے۔ اب پھر ارادہ رکھتے ہیں کہ ضرور جایا جائے اور دیکھا جائے کہ لائبریری میں جو ذخیرہ موجود ہے، اس کی کیا حالت ہے، کتنا بچا ہے اور کتنا ضائع ہوا ہے۔

چونکہ اس کتب خانہ کی کوئی فہرست نہیں ہے، اس لئے یقینی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ اس گرد و غبار میں کیا کیا جواہر پارے پوشیدہ ہیں۔ میں نے بہت سا وقت اس پر صرف کیا، کتابوں کو نکال نکال کر اور جھاڑ پونچھ کر دیکھتا رہا لیکن بہر حال میں جو کچھ دیکھ سکا وہ اس کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑا ہے جو نہ دیکھ سکا۔

اس کتب خانہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ تیرہویں صدی ہجری کے اواخر میں خانقاہِ قادریہ کے مرشد حضرت مولانا عبد الغفور صاحب ہمایونی تھے۔ یہ بزرگ اپنے عہد کے بہت بڑے فقیہ اور ادیب تھے، یہ فارسی زبان کے قادر الکلام شاعر بھی تھے اور اچھے خوشنویس بھی۔ انہوں نے اپنے لئے ایک گراں قدر کتب خانہ قلمی اور مطبوعہ کتابوں کا جمع کیا۔ ۱۳۳۶ ہجری میں مولانا عبدالغفور کا انتقال ہوا، تو یہ کتب خانہ سجادہ نشینی کے ساتھ ان کے فاضل نواسے مولانا عبدالباقی ہمایونی کے قبضہ میں آیا۔ مولانا عبدالباقی اپنے بزرگ نانا کے حقیقی جانشین تھے، علم و فضل اور زہد و اتقاء کے ساتھ ساتھ ذوقِ سلیم بھی انہیں وراثتِ ذوق میں ملا تھا۔ انہوں نے اپنے زمانہ میں اس کتب خانہ کو بہت بڑھایا اور بڑے گراں قدر اضافے کئے، کتابیں خرید کیں، نقلیں حاصل کیں اور بعض کتابیں خود نقل کر کے اس میں رکھیں۔

مولانا عبدالباقی ہمایونی مرحوم کا انتقال ۲۴ محرم ۱۳۸۳ھ کو بمقام کوئٹہ ہوا، جہاں سے ان کا جنازہ ہمایوں شریف لا کر خانقاہ میں دفن کیا گیا۔ اب اس خانقاہ کے سجادہ نشین اور اس کتب خانہ کے مالک مولانا عبدالباقی کے بڑے صاحبزادے مولانا عبدالباری ہیں۔ مولانا عبدالباری تعلیم یافتہ اور خوش اخلاق بزرگ ہیں۔ میں نے ان کو کتب خانہ کی درستگی اور فہرست کی تیاری کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے اصلاحِ حال کا وعدہ کیا۔ مگر فہرست کی تیاری کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ خود انہیں فرصت نہیں ملتی، اور کوئی دوسرا صاحبِ علم ان کے پاس نہیں جو فہرست کی تیاری کا کام کر سکے۔

اب مولانا عبدالباری صاحب کا بھی انتقال ہو چکا ہے، اور اب ان کے بیٹے یا پوتے ہیں ان کا نام مولانا عبدالباقی صاحب ہے؛ وہ درگاہ کا نظم و نسق سنبھال رہے ہیں۔ کتب خانہ میں جو قلمی ذخیرہ ہے اس کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ مخطوطات میں زیادہ تر عربی کتابیں ہیں، ان میں سب سے زیادہ فنِ تفسیر اور حدیث و رجال کے متعلق ہیں، اور جو فارسی کتابیں ہیں، ان میں زیادہ تر تصوف اور طب کی ہیں، ان کے علاوہ فارسی شعراء کے دواوین کا بھی بہت اچھا ذخیرہ موجود ہے۔

نہیں معلوم کہ اب یہ کتب خانہ کس حال میں ہے اور پچھلے دو تین سال میں اس کا کیا حال ہوا۔ امید ہے مولانا عبدالباری صاحب نے اس کی حفاظت کا نظم تو کر لیا ہوگا اور انشاء اللہ یہ کتب خانہ مامون و محفوظ ہوگا، لیکن فہرست شاید اب تک نہ تیار ہو سکی ہو۔ میں نے جب اسے دیکھا تھا، اس وقت کتابیں الماریوں میں ترتیب سے رکھی ہوئی نہ تھیں اور کسی قسم کی فہرست بھی نہ تھی۔
سندھ میں نہ جانے کتنے ہی نادر ذخیرے قدیم خانوادوں میں پڑے ہوئے برباد ہو رہے ہیں۔ ان کی حفاظت اور ان سے استفادہ کے لئے کیا انتظامات کئے جائیں، یہ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے علاوہ دوسرے حضرات کے بھی سوچنے اور فکر کرنے کی بات ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے