سونم وانگ چک کا تعلق لداخ کے ایک پسماندہ گاؤں سے ہے۔عمرتقریباً 59برس ہے۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔گریجویشن کیلئےجموں و کشمیر گئے۔اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کیلئے انہوں نے ٹیوشن پڑھائیں۔ان کا واسطہ ایسے بچوں سے پڑا جو مسلسل فیل ہورہے تھے۔مگر وہ بچے ذہین بلاکے تھے۔ہر بچے میں کوئی صلاحیت موجود تھی۔انہوں نے محسوس کیا کہ دیہی علاقوں کے مجھ جیسے بچے شہروں میں جا تو رہے ہیں مگر تعلیمی نظام انکی ذہانت کا احترام نہیں کر پارہا۔انہیں فیل ہوتے اور نظر انداز ہوتے بچوں کا کوئی قصور سمجھ نہیں آیا۔
انہوں نے امتحانی طریقہ تعلیم پر سوال اٹھادیے۔انہوں نے کہا، تعلیم کو نمبروں کا کھیل نہیں بنانا چاہیے۔کسی کلچر اور زبان سے نا آشنا ہونے کا مطلب فیل ہونا نہیں ہوتا۔کتاب پڑھنے اور سمجھنے کی چیزہے، یاد کرنے کی نہیں۔استاد اور شاگرد دونوں کو سیکھنے کے عمل میں شامل ہونا چاہیے۔مرکز استاد نہیں،اسٹوڈنٹ کو ہونا چاہیے۔بچے لیکچر سے نہیں عملی نمونوں سے سیکھتے ہیں۔سونم دراصل تعلیم کے بینکنگ ماڈل کی مخالفت کررہے تھے اوریہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔
یہ مخالفت Pedagogy of the Oppressed والے پاولو فریرے اپنی تمام کتابوں میں بہت پہلے کر چکے ہیں۔ان سے بھی پہلے جان ڈیوی نے یہ آئیڈیا Learning By Doing میں آسان الفاظ میں پیش کردیا ہے۔ڈیڈ پوئٹس سوسائٹی یا Good Will Hunting جیسی فلموں کی کہانی بھی یہی ہے۔تھری ایڈیٹس کا ذکر بھی ہوسکتا ہے مگر یہ فلم دراصل سونم کی ہی کہانی ہے۔
سونم کا فرق یہ ہے کہ جو کچھ وہ سوچ رہے تھے وہ سب کردکھانے کے لیے سرگرم ہوگئے تھے۔پھر وہ متبادل تعلیم والے آئیڈیے کو مقامی ذہانت اور لوکل مسائل کے ساتھ جوڑنے کی بات کر رہے تھے۔یعنی منظر کو پس منظر کے ساتھ جوڑنے کی بات کررہے تھے۔سونم نے اس الجھے ہوئے معاملے کو بہت سادگی کے ساتھ مقامی لہجے میں بیان بھی کیا۔کہتے ہیں، منفی تیس میں رہنے والے لداخیوں کو اگر F for Fan پڑھائیں گے تو وہ سیکھیں گے کیسے؟ جو چیز تجربے، مشاہدے اور تناظر سے باہر کی ہو، اس چیز کے ذریعے کسی کے دماغ میں کیسے اترا جا سکتا ہے۔
سونم نے 1988ءمیں گریجویشن مکمل کرتے ہی SECMOL کی بنیاد رکھ دی تھی۔یہ ایک تعلیمی تحریک تھی جو متبادل نظام تعلیم کے لیے امکانات پر غور کر رہی تھی۔تعلیمی مسائل کیا ہیں،تبدیلی کیلئے ثقافت کے اندر سے گزرنے کے راستے کون سے ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ اکیڈمک مافیا یا تعلیمی اشرافیہ کے ہوتے ہوئے کامیابی کے امکانات کتنے ہیں۔یہ بنیادی باتیں سمجھ آگئیں تو SECMOLکے تحت پہلے اسکول لیول اور پھر یونیورسٹی لیول اداروں کی بنیاد رکھ دی۔
ان تعلیمی اداروں میں ایڈمیشن کیلئے فیل ہونا معیار ہے۔ایک بار سے زیادہ فیل ہونے والا بچہ داخلے کا زیادہ مستحق ہے۔لداخ کے معروف صحافی اور وزیر شیونگ رگزن اسی ادارے کے گریجویٹ ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے وہ چھ بار میٹرک میں فیل ہوئے تھے۔یہاں داخلے کیلئے امتحان نہیں لیا جاتا، پرکھا جاتا ہے۔اس پرکھ میں فیل کوئی نہیں ہوتا۔سبھی ابھر کے سامنے آتے ہیں۔ہردو ماہ بعد الیکشن ہوتے ہیں۔طلبا کی ایک لیڈنگ باڈی منتخب ہوتی ہے۔
وہ ایجنڈا دیتی ہے اور منشور لاگو کرتی ہے۔اس عمل کے دوران وہ لیڈر شپ، ٹیم ورک، پبلک کمیونیکیشن، ڈپلومیسی، فیصلہ سازی، تنازعات کا حل، مکالمہ اورشراکت داری کا عمل سیکھتے ہیں۔یہی وہ بات ہے جس کی طرف جان ڈیوی نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت یہیں سے پنپتی ہے۔اسکول یونیورسٹی اور اسکے گرد و پیش کے مسائل ان طلبا کیلئے پراجیکٹس ہوتے ہیں۔
خود ماسٹر پلان بناکر تعمیرات کرتے ہیں۔بجلی پیدا کرتے ہیں اور پھر اسکی مینٹی ننس بھی خود دیکھتے ہیں۔خود سبزیاں اگاتے ہیں اوردودھ دھوتے ہیں۔اسی سے حساب،بائیولوجی، آرٹ، زراعت، لائیواسٹاک،ماحولیات، پروڈکشن اور ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی باریکیاں سمجھتے ہیں۔ماحول دوست گھر بناکر دیتے ہیں۔کووڈ کے زمانے میں اس علاقے میں انٹرنیٹ کا آنا ایک بڑا واقعہ تھا۔یہ انہی ’ناکام‘ طلبہ کا ایک کامیاب پروجیکٹ تھا۔اس سے بھی بڑا واقعہ مصنوعی گلیشیرز ہیں جنہیں اسٹوپا آئس کہتے ہیں۔پانی اور درجہ حرارت کی مدد سے یہ گلیشیرز انہی فیل اسٹوڈنٹس نے بنائے تاکہ گرمیوں میں لداخ کے کسانوں کو پانی کی قلت کا سامنا نہ ہو۔اس کامیاب پروجیکٹ کو اب ہر وہ علاقہ آزمارہا ہے جو اونچائی پر واقع ہے۔
لداخ میں SECMOL کے قیام کے بعد لوگ بھول رہے ہیں کہ تعلیمی کیرئیر میں ’فیل‘ نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔وہ اس لفظ کو منفی معنوں میں نہیں لیتے۔انکے ہاں فیل کا مطلب ہے مختلف ہونا۔جو فیل ہوتے ہیں وہ ناکام نہیں ہوتے، بلکہ الگ ہوتے ہیں۔
بھارت میں مئی کے مہینے میں پیپرز کا لیک ہونا پالیسی سازوں کے لیے محض ایک واقعہ تھا، مگر وانگ چک کیلئے یہ پرانے سوالات کو دہرانے کا موقع تھا۔وانگ چک دلی کے جنتر منتر پہ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ہڑتال کے بیسویں دن ان کی صحت تیزی سے گرنے لگی۔جیسے جیسے وہ کمزور ہوتے گئے،ان کی آواز طاقتور ہوتی گئی۔میڈیا،سول سوسائٹی، سیاسی جماعتیں، فن کار، ادیب، اساتذہ، اور یہاں تک کہ بالی ووڈ کے فنکار بھی متحرک ہوگئے۔
اتوار کی صبح دلی پولیس نے وانگ چک کو اٹھا کر اسپتال میں داخل کردیا ہے۔مگر وانگ چک نے پورے بھارت کو امتحانی ہال میں کھڑا کرکے چند سوالات پہ مشتمل ایک پرچہ پکڑا دیا ہے۔سوال یہ نہیں ہے کہ پیپر کیوں اور کیسے لیک ہوتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کیسا نظام ہے کہ ایک پیپر لاکھوں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا سکتا ہے۔بچوں کا سارا زور فیل ہونے سے بچنے پر کیوں ہے؟ یہ کیا بات ہے کہ بچے سیکھنے کی بجائے پاس ہونے کے لیے پڑھنے پر مجبور کردیے گئے ہیں۔بچوں کی ذہنی صحت گر رہی ہے، تنہائی کا شکار ہورہے ہیں،خود کشیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور کوئی اس کا ذمہ دار بھی نہیں ہے؟
سوال کا جواب دینے کے بجائے سرکاری پروپیگنڈا بازوں نے پرچے میں لکھ دیا ہے کہ یہ سب وانگ چک کو پاکستان سے کوئی پڑھا رہا ہے۔ مجھے اس ذہین پاکستانی سے ملنا ہے جو وانگ چک کو اتنا کچھ پڑھا رہا ہے اور ہمیں محروم رکھا ہوا ہے۔
بشکریہ جنگ