سرخروئی کا سفر

مدینہ کی دھوپ میں جب یزید کی بیعت کا تازیانہ لہرایا، تو وہ محض ایک سیاسی وفاداری کا مطالبہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی تاریخی مصلحت کا آغاز تھا جو ابد تک انسانی ضمیر کو بانجھ کر سکتی تھی۔ ڈاکٹر علی شریعتی کا یہ سوال کہ امام حسینؓ کے پاس کربلا جانے کے علاوہ اور کیا راستہ تھا، دراصل انسانی عقلِ عیار کے ان تمام محفوظ دریچوں پر ضرب ہے جنہیں ہم مصلحت، دانش مندی اور وقت کا تقاضا کہتے ہیں۔ اگر اس عہد کا کوئی نام نہاد فکری مشیر یا زمینی حقائق کا تاجر وہاں موجود ہوتا، تو وہ یقیناً امام کو عبداللہ بن عمرؓ کی پرہیزگارانہ خاموشی یا عبداللہ بن عباسؓ کی مدبرانہ گوشہ نشینی کا نسخہ تجویز کرتا۔ وہ انہیں بتاتا کہ یمن کے پہاڑ محفوظ ہیں، مکے کا حرم پناہ گاہ ہے، اور ابنِ سعد کی رات کے اندھیرے میں ہونے والی ملاقاتوں میں تیسرا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے جہاں سمجھوتے کی میز پر بقا کی قیمت چکائی جا سکتی ہے۔ مگر تاریخ کے اس بھیانک موڑ پر، جہاں امیر معاویہؓ کا وہ بال برابر دھاگہ ٹوٹ چکا تھا جس نے بیس برس تک جابرانہ مقتدرہ اور عوامی غیظ کے درمیان توازن برقرار رکھا تھا، امام نے عافیت کی اس تمام تر بساط کو الٹ دیا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے نواسے نے یزید کے فاسقانہ مڈل کلاس ماڈل پر دستخط کر دیے، تو ملوکیت کو وہ ابدی الٰہیاتی جواز مل جائے گا جسے آنے والا ہر غاصب حکمران اپنے ظلم کی ڈھال بنا لے گا؛ لہٰذا کربلا کا اصل سفر میدانِ جنگ کی پہلی گولی یا تلوار سے نہیں، بلکہ مدینے کی اس تپتی دوپہر میں شعور کے اس انکار سے شروع ہوا تھا جس نے مصلحت پسندی کے زہر کو ابد تک کے لیے بے نقاب کر دیا۔

یہ کشمکش محض ساتویں صدی کے حجاز اور عراق کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا آفاقی سیاسی ڈرامہ تھا جہاں کوفے کے کوفی اور ابنِ سعد کے سپاہی اجرت اور اقتدار کے لالچ میں اپنے ہی ضمیر کی نیلامی کر رہے تھے۔ ابنِ سعد، جو رے کی حکومت کے پروانے اور نواسۂ رسول کے خون کے درمیان معلق تھا، اس عافیت پسند مصلحت کا بدترین استعارہ بنا جس نے بالآخر اسے اندھا کر دیا، یہاں تک کہ اس کے لشکر نے حرمِ نبوت کی مخدرات کے کانوں سے بالیاں تک نوچ لیں۔ مگر تاریخ کا یہ کیسا بھیانک استہزا ہے کہ جن عہدوں اور مصلحتوں کی خاطر کربلا کی ریت کو سرخ کیا گیا، وہ چند سالوں کے اندر ہی مختار ثقفی کے انتقام کی بھٹی میں راکھ ہو گئیں، یزید نامعلوم بیماری کا شکار ہو کر مٹ گیا اور اموی سلطنت کا رعب و دبدبہ چند دہائیوں میں قصۂ پارینہ بن گیا۔ دوسری طرف، یہی المیہ جب وقت اور مکان کی قید سے آزاد ہو کر سندھ اور ملتان کے صوفیانہ افق پر نمودار ہوا، تو شاہ عبداللطیف بھٹائی کے ’سر کیڈارو‘ کی صورت میں تسبیح و مناجات کا الہامی آہنگ بن گیا۔ شاہ لطیف کے ہاں کربلا کوئی مرثیہ نہیں، بلکہ حریتِ فکر کی وہ ابدی روشنی ہے جو رات کے اندھیرے میں اپنے سروں کے چراغ جلا کر تاریخ کے باطن کو منور کرتی ہے۔ صوفیانہ روایت نے کربلا کے مادی المیے کو ایک ایسی فتحِ مبین میں بدل دیا جہاں جسموں کی پامالی دراصل روحِ انسانیت کی معراج بن کر ابھرتی ہے، اور تلواروں کی کاٹ کے سامنے ضمیر کی آواز ایک لایموت سچائی بن جاتی ہے۔

سچل سرمست کے نغمۂ عشق سے لے کر بیدل فقیر، روحل فقیر اور سید ثابت علی شاہ کی فکری تراکیب تک، صوفی شعرا نے کربلا کو کسی مخصوص گروہ یا عہد کی جاگیر نہیں بنایا، بلکہ اسے ضمیرِ انسانیت کا وہ مشترکہ سرمایہ قرار دیا جو ہر دور کے نمرود اور فرعون کے سامنے حق کا علم بلند کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان درویشوں کے نزدیک امام حسینؓ کوئی وقتی تاریخی کردار نہیں، بلکہ عشقِ کامل کا وہ آفاقی پیمانہ ہیں جس نے باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے سرِ نیاز کٹانے کو ترجیح دی تاکہ آنے والی نسلیں مصلحت پسندی کو ایمان کا نعم البدل نہ سمجھ بیٹھیں۔ صوفی بصیرت یہ واضح کرتی ہے کہ یزید نے زمینوں پر حکومت کی ہوگی، مگر دلوں کی سلطنت پر ہمیشہ حسینؓ کا سکہ چلے گا، کیونکہ اقتدار کا رعب عارضی ہوتا ہے جبکہ خونِ جگر سے لکھی گئی حریتِ فکر ابدی ہوتی ہے۔ یہی وہ فکری استعارہ ہے جو ہر عہد کے مظلوم کو جابر مقتدرہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انکار کرنے کی سکت بخشتا ہے اور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ جب عقلِ عیار محفوظ اور درست راستے کے درمیان نفع و نقصان کے گوشوارے بنا رہی ہو، تو وہاں صرف قربانی کا جذبہ ہی تاریخ کے دھارے کو موڑ سکتا ہے۔

آج جب ہم تاریخ کے اس عظیم مینو اسکرپٹ کو ازسرِ نو پڑھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ کربلا کا اصل سبق میدانِ کارزار کی جسمانی موت نہیں، بلکہ وہ فکری جرات ہے جو انسان کو مصلحت کے بستر پر رینگنے کے بجائے حق کی سولی پر مسکرانا سکھاتی ہے۔ یہ تمثیل ہمیں آج کے سماجی اور سیاسی تناظر میں بھی اسی دوراہے پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ایک طرف آئی وی لیگ کے کنسلٹنٹس جیسے مصلحت پسند مشیر کھڑے ہیں اور دوسری طرف حسینیت کا وہ کٹھن راستہ ہے جہاں بقا کی کوئی مادی ضمانت نہیں، مگر ضمیر کی ابدی سرخروئی لازم ہے۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ محفوظ راستوں کا انتخاب کرنے والے کوفی وقت کی گرد میں گم ہو کر مٹ گئے، لیکن جس نے حق کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی بہا دیا، وہ وقت کے ماتھے پر جھومر بن کر چمک رہا ہے۔ کربلا کا چراغ آج بھی اسی لیے روشن ہے کیونکہ وہ ہمیں باور کراتا ہے کہ تلواریں جسموں کو تو زخمی کر سکتی ہیں، مگر اس آواز کو کبھی دفن نہیں کر سکتیں جو خدا کی زمین پر انسان کی فکری آبرو اور حریتِ ضمیر کا اعلان بن کر گونجتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے