یمن ایک بار پھر ایک ایسے واقعے کی وجہ سے عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جس میں حقیقت، سیاست، قبائلی روایات اور نفسیاتی جنگ ایک دوسرے میں گڈمڈ دکھائی دیتی ہیں۔ ایک خاتون نے خود کو عراق کے سابق صدر صدام حسین کی بیٹی "میرا صدام حسین” قرار دیتے ہوئے یمن کے قبائلی شیخوں سے پناہ اور انصاف کی اپیل کی۔ اس ایک دعوے نے نہ صرف یمنی قبائل کو متحرک کیا بلکہ حوثیوں اور قبائلی قوتوں کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق خاتون نے دعویٰ کیا کہ حوثی قیادت نے ان کی جائیداد پر قبضہ کر رکھا ہے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ یمنی قبائلی روایات میں کسی مظلوم کی جانب سے پناہ طلب کرنا محض ایک ذاتی معاملہ نہیں بلکہ پورے قبیلے کی عزت اور وقار کا سوال سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف قبائل سے ہزاروں مسلح افراد الجوف کے علاقے میں جمع ہوئے اور حوثیوں کو خاتون کے معاملے پر جواب دینے کے لیے مہلت دی گئی۔
یہ منظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ یمن میں اگرچہ برسوں سے جنگ جاری ہے، لیکن قبائلی نظام آج بھی ریاستی ڈھانچے کے متوازی ایک طاقتور حقیقت ہے۔ کئی مواقع پر قبائلی فیصلے سرکاری اداروں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں، اور یہی پہلو یمن کے پیچیدہ سیاسی و سماجی منظرنامے کو منفرد بناتا ہے۔
تاہم، اس کہانی کا دوسرا رخ اس سے یکسر مختلف ہے۔ صنعا میں موجود حوثی انتظامیہ نے خاتون کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اصل نام سمیہ احمد محمد عیسیٰ الزبیری ہے، وہ یمنی شہری ہیں اور عراق کے سابق صدر کے خاندان سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ حکام کے مطابق انہیں 2023 میں جعل سازی، غلط شناخت اختیار کرنے اور جعلی دستاویزات استعمال کرنے کے مقدمات میں سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔
یہ متضاد دعوے اس واقعے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایک طرف ایک خاتون خود کو صدام حسین کی بیٹی قرار دے رہی ہیں، دوسری جانب حوثی حکام انہیں ایک سزا یافتہ جعل ساز قرار دے رہے ہیں۔ آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق اس وقت ممکن نہیں، اس لیے کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔
اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جنگ زدہ معاشروں میں معلومات بھی ایک ہتھیار بن جاتی ہیں۔ ہر فریق اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق بیانیہ تشکیل دیتا ہے، اور سوشل میڈیا ان بیانیوں کو چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات میں جذبات کے بجائے حقائق کو بنیاد بنانا ناگزیر ہے۔
یمن کی موجودہ صورتحال پہلے ہی انسانی بحران، سیاسی تقسیم اور مسلح تصادم سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی غیر مصدقہ دعویٰ قبائلی جذبات کو بھڑکا سکتا ہے اور ایک نئے تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ اگر واقعی ہزاروں قبائلی جنگجو ایک خاتون کی اپیل پر متحرک ہوئے ہیں تو یہ یمن میں قبائلی اثر و رسوخ کی طاقت کا اظہار ہے، لیکن اگر اس دعوے کی بنیاد کمزور ثابت ہوتی ہے تو یہ معلوماتی جنگ کی ایک اور مثال بھی بن سکتی ہے۔
اس سارے معاملے نے ایک بنیادی سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے: کیا یمن میں اصل جنگ صرف میدانِ جنگ میں لڑی جا رہی ہے، یا اب یہ جنگ شناخت، بیانیے، اطلاعات اور عوامی اعتماد کے محاذ پر بھی منتقل ہو چکی ہے؟
فی الحال اس سوال کا حتمی جواب وقت دے گا، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ "میرا صدام حسین” یا "سمیہ الزبیری” کا معاملہ صرف ایک خاتون کی شناخت کا تنازع نہیں، بلکہ یمن کی پیچیدہ سیاست، قبائلی نظام اور اطلاعاتی جنگ کی ایک نئی مثال بن چکا ہے۔