کیا پاکستان اور افغانستان بھی کسی معاہدے کی طرف بڑھ سکتے ہیں؟

دور جدید میں موجودہ نیشن اسٹیٹ سسٹم کی وجہ سے دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں عالمی طاقت کا تعین صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ اقتصادی ترقی، تجارت، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی پیداوار اور علاقائی تعاون سے ہو رہا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں کے تجربات نے یہ حقیقت بھی نمایاں کر دی ہے کہ طویل جنگیں نہ صرف بھاری مالی بوجھ بنتی ہیں بلکہ ان کے سیاسی، سفارتی اور تزویراتی نتائج بھی اکثر توقعات کے برعکس نکلتے ہیں۔ ایسے میں اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کسی پائیدار مفاہمت یا معاہدے پر منتج ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جنوبی اور وسطی ایشیا، خصوصاً پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کے معاملے میں ممکنہ پیش رفت خطے میں سفارت کاری کے لیے ایک نئی فضا پیدا کر سکتی ہے۔ اگر عالمی طاقتیں ایک بڑے تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو پاکستان اور افغانستان سمیت دیگر علاقائی تنازعات کے حل کے امکانات بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ روشن ہو سکتے ہیں۔

حالیہ کشیدگی نے امریکہ کے لیے بھی کئی اہم سوالات کھڑے کیے ہیں۔ افغانستان اور عراق کی طویل جنگوں کے بعد ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے یہ احساس مزید گہرا کیا ہے کہ مسلسل عسکری مداخلت نہ صرف مہنگی ثابت ہوتی ہے بلکہ اس سے عالمی سیاست مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اسی لیے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں نئے عسکری محاذ کھولنے کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور علاقائی شراکت داری کو زیادہ اہمیت دے سکتا ہے۔

درحقیقت اکیسویں صدی کی اصل مسابقت میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعت اور عالمی تجارت میں دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ، چین، روس اور دیگر بڑی طاقتیں بھی اپنی اقتصادی برتری کو مستقبل کی عالمی قیادت کی بنیاد سمجھ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خارجہ پالیسی میں بھی اقتصادی مفادات کو پہلے سے زیادہ اہمیت مل رہی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں امریکہ کے موجودہ صدر کا طالبان کے حوالے سے نسبتاً نرم عوامی لہجہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے مختلف مواقع پر طالبان کی جنگی صلاحیت، نظم و ضبط اور بیس سالہ جنگ میں ان کی مزاحمت کا ذکر کیا، جبکہ ماضی کی بعض امریکی قیادت کے مقابلے میں طالبان پر براہِ راست سخت تنقید نسبتاً کم دیکھنے میں آئی۔ اگرچہ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، لیکن اس طرزِ بیان نے یہ تاثر ضرور پیدا کیا ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں مکمل محاذ آرائی کے بجائے محدود عملی روابط اور سفارتی تعاون کے راستے کو بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

اسی تناظر میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر افغانستان دہشت گردی کے خلاف اقدامات، علاقائی استحکام اور انسانی مسائل کے حوالے سے قابلِ قبول پیش رفت دکھاتا ہے تو امریکہ مستقبل میں بعض پابندیوں میں نرمی، انسانی امداد میں اضافے یا محدود اقتصادی سہولتوں پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ امریکی پالیسی یا اعلان سامنے نہیں آیا، اس لیے اسے فی الحال ایک ممکنہ سفارتی امکان ہی سمجھنا چاہیے۔

ادھر افغانستان کی طالبان حکومت بھی بتدریج اپنی توجہ علاقائی اقتصادی روابط بڑھانے پر مرکوز کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی سطح پر محدود سفارتی روابط، پابندیوں اور معاشی مشکلات نے کابل کو اس حقیقت کا احساس دلایا ہے کہ پائیدار اقتصادی استحکام کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغانستان کی معیشت بڑی حد تک علاقائی تجارت پر منحصر ہے، جبکہ عالمی منڈیوں تک اس کی رسائی بھی محدود ہے۔ پاکستان اس کے لیے سمندری بندرگاہوں، ٹرانزٹ تجارت، توانائی منصوبوں اور وسطی ایشیا تک زمینی رابطوں کا سب سے اہم راستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے اندر بھی ایسے سیاسی، تجارتی اور کاروباری حلقے موجود ہیں جو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو افغانستان کے معاشی مستقبل کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے لیے بھی افغانستان میں امن اور استحکام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سرحدی سلامتی، دہشت گردی کا خاتمہ، مہاجرین کی باعزت واپسی، دوطرفہ تجارت، ٹرانزٹ راہداریوں اور وسطی ایشیا تک رسائی جیسے کئی اہم قومی مفادات دونوں ممالک کے بہتر تعلقات سے وابستہ ہیں۔

حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں اضافہ بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ اگر سرحد پار دہشت گردی اور ایک دوسرے کی سرزمین کے مبینہ استعمال سے متعلق تحفظات پر قابلِ عمل پیش رفت ہو جاتی ہے تو اعتماد کی بحالی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے، جس کے بعد تجارت، سرمایہ کاری، توانائی منصوبوں اور علاقائی روابط کے نئے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

چین، روس، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستیں بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کی خواہاں ہیں، کیونکہ خطے میں امن سے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں، علاقائی تجارت، توانائی راہداریوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ مل سکتا ہے۔

اگرچہ ایران۔امریکہ تعلقات، پاکستان۔افغانستان مذاکرات اور افغانستان کی داخلی صورتحال کا انحصار کئی داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی عوامل پر ہوگا، تاہم موجودہ سفارتی سرگرمیاں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ دنیا بتدریج ایسے مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں جنگ کے بجائے مذاکرات، تجارت، اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

اگر یہی رجحان برقرار رہتا ہے تو آنے والے مہینوں میں نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مزید بہتری آ سکتی ہے بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی دہشت گردی کے مسئلے پر عملی پیش رفت، اعتماد سازی کے اقدامات اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کے امکانات مضبوط ہو سکتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک اپنے بنیادی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ صرف دوطرفہ تعلقات کی بہتری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام، علاقائی رابطوں اور اقتصادی خوشحالی کے ایک نئے دور کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے