موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) اب محض ماحولیاتی ماہرین کی بحث کا موضوع نہیں رہی بلکہ یہ انسانی بقا، قومی سلامتی، اقتصادی استحکام اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ سے وابستہ ایک عالمی حقیقت بن چکی ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام خطے اس کے تباہ کن اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ کہیں شدید گرمی کی لہریں معمولاتِ زندگی مفلوج کر رہی ہیں، کہیں تباہ کن سیلاب بستیاں اجاڑ رہے ہیں، کہیں جنگلات آگ کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ کہیں خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں مسلسل کمی کروڑوں انسانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے۔
حالیہ دنوں میں یورپ کے متعدد ممالک، جن میں اسپین، فرانس، اٹلی، یونان اور پرتگال شامل ہیں، تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی شہروں میں درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جس کے باعث انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوئے۔ یہ مناظر اس تصور کی نفی کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج دنیا کا کوئی بھی ملک اس بحران کے اثرات سے محفوظ نہیں۔
پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، غیر متوقع بارشیں، پانی کی قلت، فضائی آلودگی اور زرعی پیداوار میں کمی اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ نسل کا تلخ تجربہ بن چکی ہے۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کا بھی اہم معاملہ ہے۔ ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرے، قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنائے اور آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی کی بنیاد رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ کو اب ایک بنیادی انسانی حق اور ریاستی ذمہ داری کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے بھی اس حوالے سے اہم قانون سازی کی ہے۔ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997 اور پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017 اس سلسلے کی بنیادی قانون سازی ہیں، جبکہ قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی ریاست کی حکمت عملی کا تعین کرتی ہے۔ ان قوانین کا مقصد ماحول کا تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی، قدرتی وسائل کا پائیدار استعمال اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرنا ہے۔ تاہم قانون سازی اپنی جگہ اہم ضرور ہے، لیکن اصل امتحان ان قوانین پر مؤثر، شفاف اور غیر جانبدارانہ عمل درآمد ہے۔
دوسری جانب پاکستان بین الاقوامی برادری کا ایک ذمہ دار رکن ہونے کے ناطے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (UNFCCC)، کیوٹو پروٹوکول اور پیرس معاہدے سمیت متعدد بین الاقوامی معاہدوں کا فریق بھی ہے۔ ان معاہدوں کے تحت پاکستان پر لازم ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، ماحول دوست پالیسیوں کے فروغ، قابلِ تجدید توانائی کے استعمال، جنگلات کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اختیار کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد اب بھی کئی چیلنجز کا شکار ہے۔ غیر قانونی جنگلات کی کٹائی، صنعتی فضلہ، فضائی اور آبی آلودگی، غیر منصوبہ بند شہری آبادی، کمزور ادارہ جاتی نگرانی اور ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث موسمیاتی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف معیشت بلکہ آئندہ نسلوں کا محفوظ مستقبل بھی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو محض ماحولیاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے قومی سلامتی، آئینی ذمہ داری اور انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا جائے۔ مؤثر قانون سازی کے ساتھ سخت عمل درآمد، عدالتی نگرانی، شفاف حکمرانی، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری، شجرکاری، پانی کے بہتر انتظام، عوامی شعور کی بیداری اور بین الاقوامی تعاون ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو اس بحران سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کسی ایک حکومت، ادارے یا ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے قومی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ پاکستان کے مستقبل کا تحفظ اسی میں ہے کہ قانون کو مؤثر بنایا جائے، ماحول کو ترجیح دی جائے اور پائیدار ترقی کو قومی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا جائے۔