کوئٹہ کی سیر کو آئے تھے، دہشت میں زندگی رک گئی

کبھی کبھی ایک خاموش تصویر الفاظ کی تمام حدیں توڑ کر دل کے سب سے نازک تار چھیڑ دیتی ہے۔ ایک ایسی تصویر جو ہزاروں تقریروں سے زیادہ درد، ہزاروں رپورٹوں سے زیادہ سچائی سنا دیتی ہے۔

بلوچستان کے دور افتادہ علاقے دشت میں دہشت گردی کے ایک اور بے رحم واقعے نے ایک پورا گھر اجاڑ کر رکھ دیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والا ایک مسکراتا ہوا خاندان شوہر، بیوی اور دو معصوم بیٹیاں پیلے فراک میں ملبوس کوئٹہ کی پہاڑیوں کے ساتھ یادگار سیلفی لینے کے خواب لیے نکلا تھا۔ ان کی آنکھوں میں سیر کا شوق تھا، دلوں میں ایک دوسرے کا سہارا تھا۔

لیکن دشت کی وادی میں اچانک نامعلوم فائرنگ ہوئی۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے اس خاندان کی خوشیوں کو چند لمحوں میں ماتم میں بدل دیا۔ شوہر موقع پر ہی شہید ہو گیا۔ بیوی اپنے محرم کے خون میں لت پت ہو کر شدید زخمی ہو گئی۔ اور دو معصوم بیٹیاں، جو ابھی تک یہ سمجھ ہی نہیں پائیں کہ ہوا کیا ہے، ایک ہی پل میں یتیم ہو گئیں۔

تصویر میں وہ خاتون اپنے شوہر کے خون سے رنگے لباس میں پتھر کی طرح خاموش بیٹھی ہے۔ یہ خاموشی کسی کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ ایک بیوی کے ٹوٹے ہوئے دل کی چیخ ہے، ایک ماں کی بے بسی ہے، اور ان دو کلیوں کے اجڑے ہوئے مستقبل کی داستان ہے۔ اس خاموشی میں انسانیت کی وہ شکست چھپی ہے جو بندوق کے زور پر بے گناہوں کا خون بہاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کسی عورت کو یہ دن نہ دکھائے کہ وہ اپنے جیون ساتھی کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے قتل ہوتے دیکھے، اور اس کا آنچل اپنے ہی شوہر کے لہو سے تر ہو جائے۔ یہ منظر صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں، یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔

دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، کوئی مذہب نہیں ہوتا، کوئی زبان اور کوئی قومیت نہیں ہوتی۔ جب ایک بے گناہ جان چلی جاتی ہے تو ہار مذہب کی نہیں ہوتی، ہار قوم کی نہیں ہوتی ہار انسانیت کی ہوتی ہے۔ ایک باپ کے قتل سے دو بیٹیاں یتیم ہو جاتی ہیں، ایک ماں بیوہ ہو جاتی ہے، اور ایک پورا خاندان زندگی بھر کے لیے بکھر جاتا ہے۔

آج ہمیں لسانی تعصب، نسلی نفرت اور سیاسی تقسیم کی تمام دیواروں کو گرا کر ایک آواز بننا ہوگا۔ ہماری پہچان "بلوچ”، "پنجابی”، "سندھی” یا "مہاجر” نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری واحد اور سب سے بڑی پہچان صرف "انسانیت” ہونی چاہیے۔

سوال صرف یہ ہے کہ ان معصوم بچیوں کا قصور کیا تھا؟ ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ ایک باپ کی بیٹیاں تھیں۔ اب باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہے اور ماں اسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بے گناہ خون بہانے کا سلسلہ فوراً بند ہو۔ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ ریاست ان دو یتیم بچیوں کو انصاف دے اور ان کے مستقبل کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائے۔

اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ زخمی ماں کو جلد مکمل صحت و شفا عطا فرمائے۔ ان معصوم بچیوں کا حامی و ناصر ہو اور ان کے مقدر میں وہ تمام خوشیاں لکھ دے جو ان سے چھن گئیں۔ اللہ تعالیٰ سوگوار اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور ہمارے پیارے وطن کو دہشت گردی کے اس ناسور سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے