میری انگلش اور جنیفر صاحبہ کی تقریر

آپ کو ایک عجیب بات بتاؤں؟ میری انگریزی بہت کمزور رہی ہے، اب بھی کمزور ہی ہے، موٹی ہی نہیں ہورہی، مسلسل کمزوری کا شکار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ میں نے آٹھویں جماعت سے لے کر ایم فل تک تقریباً ساری تعلیم بطور پرائیویٹ امیدوار حاصل کی، سوائے ایم اے صحافت کے۔ اور پھر میرا تعلیمی پس منظر دینی ہے۔ گیارہ سال مدارس دینیہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایم اے صحافت میں انگریزی کا ایک مضمون تھا۔ ہمارے استاد، لیکچرار عرفان صاحب، امریکا سے تعلیم یافتہ تھے۔ میں نے ان سے انگریزی کے حوالے سے بہت رہنمائی اور مدد حاصل کی، جس کا فائدہ آج بھی محسوس کرتا ہوں۔ میں جس اسٹائل میں انگلش سیکھ رہا تھا اس پر سر عرفان صاحب بڑے محظوظ ہورہے تھے۔ اندازہ کیجیے ایک بچہ جس نے چھٹی کلاس میں دیہات کے سکول سے اے بی سی پڑھنا شروع کیا ہو اور آٹھویں بھی پرائیوٹ پاس کرنے کے بعد مدرسہ گیا ہوگا تو وہ "انگریزی صاحبہ” کی لرننگ میں کیا عجوبے دکھاتا ہوگا۔

آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ انگریزی سیکھنے، سمجھنے اور لکھنے کے لیے میں نے واقعی بڑے پاپڑ بیلے ہیں۔ واللہ! میں نے اس مقصد کے لیے عجیب و غریب طریقے ایجاد کیے تھے۔ انگریزی گرامر نہ صرف خود پڑھی بلکہ پڑھائی بھی۔ جب پولیٹیکل سائنس کا لیکچرار بنا تو انگریزی میں لکھنے کا ایک جنون سا پیدا ہوگیا۔ فیس بک پر ایک طویل عرصہ، انگریزی پوسٹیں لکھتا، تبصروں کا جواب بھی انگریزی میں دینے کی کوشش کرتا۔

پھر شاید میں نے پہلا باقاعدہ انگریزی آرٹیکل
"I Have a Dream for Gilgit-Baltistan”
کے عنوان سے لکھا، جسے میں نے اصلاح کے لیے سابق ترجمان برادرم جناب شبیر میر صاحب کو بھیجا۔ انہوں نے نہ صرف اس کی عمدہ ایڈیٹنگ کی بلکہ میری بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی، جس نے میرے اعتماد میں اضافہ کیا۔ یہ آرٹیکل کئی جگہوں میں چھپا۔

بہرحال، اب الحمدللہ میری انگریزی اتنی بہتر ہوگئی ہے کہ اپنی ضرورت پوری کر لیتا ہوں۔ بی ایس اور اے ڈی پی کے طلبہ کے لیے انگریزی کے لیکچرز تیار کر لیتا ہوں، ضرورت پڑنے پر انگریزی کتابیں اور تحقیقی مضامین پڑھ لیتا ہوں، اور حسبِ ضرورت ترجمہ بھی کر لیتا ہوں اور گفتگو بھی۔

گزشتہ دنوں گلگت بلتستان اسمبلی میں محترمہ جنیفر صاحبہ کی انگریزی تقریر سنی۔ وہ لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہی تھیں، دوران قراءت کہیں کہیں اٹک رہی تھیں، بعض الفاظ غلط ادا ہوئے اور پڑھنے میں دشواری محسوس ہو رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے ہرگز حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ میں خود اس مرحلے سے گزر چکا ہوں بلکہ اب بھی گزر رہا ہوں۔

البتہ افسوس اس بات کا ہوا کہ احباب نے ان کی غلطیوں کو موضوع تمسخر بنا لیا۔ میرے نزدیک یہ رویہ مناسب نہیں۔ میں گزشتہ پندرہ برس سے تدریس سے وابستہ ہوں۔ اگر آج بھی میں اردو، انگریزی یا عربی میں کوئی تقریر بیس مرتبہ دہرا کر، پھر اسکرپٹ سامنے رکھ کر پڑھنا شروع کروں تو کئی جگہ غلطی کر بیٹھتا ہوں۔ اس لیے اگر جنیفر صاحبہ سے بھی چند لغزشیں ہو گئیں تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

اسی طرح ریڈیو پاکستان گلگت میں گزشتہ پندرہ برس سے اپنے تحریر کردہ اسکرپٹس، مضامین اور مقالات پڑھتا آیا ہوں۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ لکھا ہوا متن پڑھنے میں روانی نہیں رہتی، تو میں اسکرپٹ سے ہٹ کر تقریر کے انداز میں اپنے الفاظ میں بولنا شروع کر دیتا ہوں۔ اس حقیقت کے چشم دید گواہ ڈاکٹر شیردل صاحب، برادرم واجد یاسینی صاحب، خورشید بھائی اور دیگر احباب ہیں۔

اس لیے محترمہ جنیفر صاحبہ کو ہرگز دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ البتہ، چند مخلصانہ تجاویز پیش کرنا چاہوں گا۔

انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی تقریر کیا کریں تاکہ عوام کی بڑی تعداد براہِ راست آپ کے خیالات سے مستفید ہو سکے۔ ہوسکے تو ان تقاریر کو اچھی طرح لکھ کر کسی ماہر سے اصلاح بھی کروا کر اسمبلی میں جمع بھی کروا دیں اور میڈیا کو بطور کالم چھپنے کے لیے بھی دیں۔

اگر ممکن ہو تو عربی اور فارسی میں بھی مختصر خطاب کرنے کی مشق کریں، کیونکہ مختلف زبانوں سے واقفیت شخصیت میں علمی وقار پیدا کرتی ہے۔

اور شاید آپ کی گھریلوی زبان کھوار ہے، تو ایک دن آپ کھوار زبان میں بھی تقریر کریں۔ اس سے نہ صرف آپ کی لسانی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ چترال اور گرد و نواح کے عوام کے ساتھ ایک خوبصورت جذباتی رشتہ بھی قائم ہوگا۔ اور کھوار زبان کو بھی وقعت ملے گی اسمبلی میں بولنے کی وجہ سے۔

جنیفر صاحبہ! لکھی ہوئی تقریر کو بار بار بلند آواز سے پڑھنے، مشکل الفاظ کی ادائیگی کی مشق کرنے اور وقفوں پر توجہ دینے سے روانی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ ہم اپنے طلبہ کو ان تجربات سے گزارتے ہیں۔

تقریر کے دوران صرف الفاظ نہیں، بلکہ اعتماد، آنکھوں کا رابطہ، آواز کا اتار چڑھاؤ اور پیغام کی وضاحت بھی بہت اہم ہوتی ہے۔ اس کا بھی خاص خیال رکھیں۔ موقع میسر ہو تو ڈریسنگ میں لگے بڑے شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر اس کی پریکٹس کریں، یقین جانیں بڑی محظوظ ہونگی۔

ویسے بھی ایک بات نوٹ کرنے کی ہے، انگریزی نہ ہمارے باپ کی زبان ہے اور نہ ہماری ماں کی۔ اس کے باوجود اگر ہم اسے سیکھتے ہیں، بولتے ہیں، پڑھتے ہیں اور اس میں تقریر کرتے ہیں تو یہ ہماری محنت اور صلاحیت کا ثبوت ہے، شرمندگی کا نہیں۔ شرمائے نہیں آگے بڑھیے۔

میرے نزدیک زبان کبھی اصل مسئلہ نہیں ہوتی، اصل چیز وژن، فکر اور پیغام ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص دنیا کی بہترین زبان بولتا ہو مگر اس کے خیالات اور افکار میں کوئی وزن نہ ہو تو اس زبان کا کمال بھی اسے فائدہ نہیں دے سکتا۔

میں دنیا کے بے شمار مفکرین کو پڑھتا ہوں، لیکن زیادہ تر تراجم کے ذریعے۔ آج کل ڈاکٹر علی شریعتی کی کتابیں زیرِ مطالعہ ہیں، جو اردو ترجمے میں ہیں، حالانکہ انہوں نے اپنی اصل تصانیف فارسی میں لکھی تھیں۔ اس سے میرے علم میں کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ اصل فائدہ ان کے افکار سے ہوا رہا ہے۔

لہٰذا میری تمام احباب سے گزارش ہے کہ جنیفر صاحبہ کی تقریر میں ہونے والی چند لسانی غلطیوں کو موضوعِ بحث بنانے کے بجائے ان کے پیغام کا جائزہ لیں۔ اگر ان کے خیالات قوم، علاقے اور عوام کے مفاد کے خلاف ہیں تو ضرور علمی، اخلاقی اور مدلل تنقید کریں، لیکن اگر ان کی گفتگو قومی، علاقائی اور عوامی بھلائی کے لیے ہے تو محض زبان کی چند لغزشوں پر پھبتیاں کسنا نہ دانش مندی ہے، نہ شرافت اور نہ ہی علمی روایت۔ اور وہ بیچاری تو ویسے بھی عورت ہے۔ اور ہمیں عورتوں کی عزت کرنے کا درس دیا گیا ہے نہ کہ انہیں معمولی غلطیوں پر کٹہرے میں کھڑے کرنے کا، تو خیال کیجیے۔

آخر میں یہی عرض کروں گا کہ الفاظ و جملوں کی خوب صورتی سے زیادہ خیالات و افکار اور نصب العین کی خوب صورتی اہم ہوتی ہے، اور زبان و قلم کی فصاحت و بلاغت سے بڑھ کر نیت کی صداقت اور فکر کی پختگی انسان کی اصل پہچان ہے۔ تو اصل پہچان کی طرف توجہ دیجیے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے