سچ بھی تو سنو، فلاح و بہبود کے نام پر نقاب میں چھپے چہرے

چوتھا حصہ

دن کے بارہ بجنے والے تھے کہ اچانک اقبال صاحب کی کال آ گئی۔ میں اپنی بات کرتے کرتے رک گئی،کیونکہ میرے فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ وہ بھی اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ شاید وہ بھی کسی اپنے کے انتظار میں تھی۔

میں نے فون اٹھایا۔
"جی بابا جان، ملاقات ہو گئی؟”
"جی جناب، ملاقات ہو گئی۔ وہ بالکل پُرسکون تھے۔ ان کی ہمت اور حوصلہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ خیریت سے ہیں۔”

"آپ اس وقت کہاں ہیں؟”
"میں منڈی موڑ میں ہوں۔”
"آپ تو بہت جلدی واپس آ گئیں، چند دن اور رک جاتیں۔”

"میں امی کے ساتھ گئی تھی،وہاں کچھ کام تھا۔اگر رک جاتی تو گھر کے کچھ ادھورے کام رہ جاتے، اس لیے واپس آنا پڑا۔”
"اچھا،گھر کی چابی کہاں رکھی ہے؟”
"چابی میرے پاس ہے،میں یہاں سے نکل کر گھر پہنچتی ہوں۔”
اس نے بے اختیار پوچھا، "سنو، بابا جان کا کام ختم ہو گیا؟”
"نہیں، ابھی آدھا کام ہوا ہے، باقی نماز کے بعد ہو گا۔”

"اچھا، ٹھیک ہے۔آپ آنے کی زحمت نہ کریں باباجان کا کام ختم ہو جائے پھر اجانا،میں پہنچ کر آپ کو فون کر دوں گا۔”
"ٹھیک ہے، اللہ حافظ۔”
میں نے فون بند کر دیا۔

میں نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا، "معاف کیجیے، میرے شوہر کا فون تھا۔ وہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے،اب گھر واپس آ گئے ہیں، اس لیے میری خیریت معلوم کر رہے تھے۔”
میں ان کے قریب بیٹھ گئی۔ ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پریشانی سے بولی،

"یہ آپ کا کیا حال ہو گیا ہے؟ آپ تو بہت زخمی ہیں۔ آپ کو کس نے اس بے رحمی سے مارا؟ اور ویسے آپ کا نام کیا ہے؟”

میں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے، پھر خاموشی سے ان کی طرف دیکھنے لگی۔
وہ ہلکا سا مسکرائے اور بولے،
"اگر میں آپ کو سب کچھ بتاؤں تو کیا آپ یقین کریں گی؟”

میں نے فوراً جواب دیا،
"کیوں نہیں؟آپ کے زخم خود گواہی دے رہے ہیں کہ کسی نے آپ کو جان سے مارنے کی کوشش کی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا۔”

انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور آہستہ آواز میں کہا،
"جی ہاں، مجھے مارنے والی میری سوتیلی بہن تھی۔ وہ میری خوشیاں،میرا مقام اور میری کامیابیاں برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ اپنے عشق میں ناکامی کے بعد وہ دوسروں کی خوشیاں بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتی تھی۔ اس کے دل میں میرے لیے نفرت اس قدر بڑھ گئی کہ اس نے میری جان لینے کی کوشش کی۔”
میں حیرت سے ان کو دیکھتی رہ گئی۔
"مجھے یقین نہیں آ رہا کہ کوئی اپنی ہی بڑی بہن کے ساتھ ایسا بھی کر سکتا ہے۔”
میں نے نظریں جھکا لیں۔

انہوں نے کہا،”یہ ایک بہت طویل کہانی ہے۔اسے بیان کرنے میں شاید مہینے لگ جائیں۔مگر اگر آپ سننا چاہیں تو میں آہستہ آہستہ آپ کو سب کچھ بتاؤں گا۔ شاید میری زندگی کی حقیقت سن کر آپ کو بھی اندازہ ہو جائے کہ انسان کو سب سے گہرے زخم ہمیشہ اپنے ہی دیتے ہیں۔”

میں خاموشی سے ان کی بات سنتی رہی، جبکہ ان کی آنکھوں کے سامنے ماضی کے تمام تلخ مناظر ایک ایک کر کے زندہ ہونے لگے۔
جاری ہے…

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے