گزشتہ چند سالوں سے جب بھی مارچ کا مہینہ رخصت ہوتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے ہم نے سیدھے مئی کے سلگتے ہوئے تنور میں قدم رکھ دیا ہو۔ موسموں کا یہ مزاج، جو کبھی دھیما اور متوازن ہوا کرتا تھا، اب اس بوڑھے مزاج کی طرح چڑچڑا ہو چکا ہے جو بن بتائے کبھی غصے سے لال ہو جاتا ہے اور کبھی زار و قطار رونے لگتا ہے۔ ہم سب اس بدلاؤ کو محسوس کر رہے ہیں، لیکن شاید ہم اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پا رہے کہ یہ صرف "گرمی کی شدت” نہیں، بلکہ یہ ہماری دھرتی کی بقا کا وہ مقدمہ ہے جو اب وقت کی عدالت میں آخری سماعت پر پہنچ چکا ہے۔
ادبی حلقوں میں کبھی ساون کی رم جھم پر غزلیں لکھی جاتی تھیں اور ابرِ کرم کے گیت گائے جاتے تھے، مگر اب جب بادل گرجتے ہیں تو دلوں میں رومان کے بجائے ایک مبہم سا خوف دستک دینے لگتا ہے۔ وہ بارشیں جو کبھی زندگی کی علامت تھیں، اب اپنے ساتھ تباہی کا تازیانہ لے کر آتی ہیں۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح بپھرے ہوئے پانی نے بستیوں کی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹا دیں، اور کس طرح سونا اگلنے والی زمینیں چشمِ زدن میں بنجر ریگزاروں میں تبدیل ہو گئیں۔ یہ کسی ایک فرد، کسی ایک ادارے یا کسی ایک دور کی خطاکاری نہیں، بلکہ یہ اس اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے جس کا خمیازہ آج ہماری نسلیں بھگت رہی ہیں۔
ہمارے گلیشیئرز، جو شمالی سرحدوں پر چاندی کے تاج کی طرح چمکتے ہیں، اب خاموشی سے پگھل رہے ہیں۔ وہ ہمیں پانی بھی دے رہے ہیں اور ہمارے ماتھے پر سجے ہوئے وجود کے مٹنے کا اشارہ بھی۔ سائنس دان اور ماہرینِ ماحولیات عالمی فورمز پر بیٹھ کر اعداد و شمار کی زبان میں ہمیں ڈراتے ہیں، لیکن ایک عام پاکستانی کے لیے یہ خطرہ کسی عالمی کانفرنس کے اعلامیے سے زیادہ اپنے سوکھے ہوئے کھیت، اپنے شہر کی تپتی ہوئی سڑک اور پانی کی بوند بوند کو ترستی ہوئی بستی کی صورت میں عیاں ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ فطرت نے کبھی کسی سے دشمنی نہیں کی، وہ تو صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ جب ہم دریاؤں کے راستوں میں سیمنٹ کے جنگل کھڑے کر دیں گے، جب ہم درختوں کو بے دردی سے کاٹ کر سانس لینے والی ہوا کو زہر آلود کر دیں گے، تو پھر فطرت کا ردِعمل بھی اسی شدت سے سامنے آئے گا۔ یہ کسی کی مخالفت یا تنقید کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں خود کو دیکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ گرمی بڑھ رہی ہے یا سیلاب آ رہے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری زراعت، جو ہماری معیشت کی شہ رگ ہے، اس تغیر کی تاب نہیں لا پا رہی۔ کپاس، گندم اور چاول کی فصلیں اب موسموں کے اس نئے اور بے رحم شیڈول سے میل نہیں کھاتیں۔ ایک کسان جب اپنے خون پسینے سے سینچی ہوئی فصل کو بے وقت کی بارش یا شدید قحط کی نظر ہوتے دیکھتا ہے، تو صرف ایک فصل نہیں مرتی، بلکہ ایک خاندان کے خواب اور ایک ملک کی غذائی خودمختاری دم توڑ دیتی ہے۔
اکثر سوچتی ہوں کہ ہم اپنے بچوں کو ورثے میں کیا دے کر جا رہے ہیں؟ بلند و بالا عمارتیں، چوڑی سڑکیں اور جدید ٹیکنالوجی؟ لیکن اگر ان کے پاس سانس لینے کے لیے صاف ہوا اور پینے کے لیے پاکیزہ پانی ہی نہ ہوا، تو یہ سب آسائشیں کس کام کی؟ ہم نے ترقی کی دوڑ میں اس بنیادی حقیقت کو پسِ پشت ڈال دیا کہ زندگی مٹی اور پانی سے جڑی ہوئی ہے، اگر یہی محفوظ نہ رہے تو بقا کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
یہ وقت ملامت کا نہیں، بلکہ محاسبے کا ہے۔ ہمیں گیلے اور سوکھے کے جھگڑوں سے نکل کر ایک قوم کی حیثیت سے سوچنا ہوگا۔ وہ پالیسیاں جو صرف کاغذوں کی زینت بنتی ہیں، انہیں زمین پر لانا ہوگا۔ شہروں کی منصوبہ بندی سے لے کر دیہاتوں کے تحفظ تک، ہمیں اپنے ہر فیصلے میں ماحولیات کو اولیت دینی ہوگی۔ اب یہ انتخاب ہمارا ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو ایک سرسبز و شاداب پاکستان دے کر جاتے ہیں یا ایک ایسا خطہ جہاں زندگی برقرار رکھنا ایک روزمرہ کا جہاد بن جائے۔
آئیے! اس سے پہلے کہ وقت کا دھارا ہمارے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل جائے، ہم فطرت کے ساتھ صلح کر لیں۔ درخت لگانا، پانی کی قدر کرنا اور ماحول کو صاف رکھنا اب صرف ایک اچھی عادت نہیں، بلکہ اس دھرتی پر ہمارے زندہ رہنے کی واحد شرط ہے۔ سسکتی ہوئی زمین ہمیں پکار رہی ہے، اور اس پکار کو سننا ہم سب کا انفرادی اور اجتماعی فرض ہے۔