ابھی تو صرف رختِ سفر باندھا ہے، مکہ جانے کی گھڑیاں قریب ہیں، لیکن یہ سوچ سوچ کر ہی آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں اور دل اپنے مالک کے شکر سے لبریز ہو رہا ہے۔ کچھ باتیں اور کچھ جذبات ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیان کرنے کے لیے بڑے بڑے لفظوں کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ بس دل سے نکلتے ہیں اور دوسروں کے دلوں میں اتر جاتے ہیں۔ لیکن اس پاک گھر کی یاد میں تڑپتے ہوئے اپنے رب کے کرم کا جتنا شکر ادا کروں، کم ہے۔ اللہ پاک نے مجھے ایک بار پھر اپنے گھر بلا کر مجھ پر وہ احسان کیا ہے جس کولفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ابھی قدم روانہ نہیں ہوئے، لیکن روح مکے پہنچ چکی ہے، اور جب میں ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو حیرت اور خوشی سے میری آنکھیں ایک بار پھر چھلک پڑتی ہیں۔
جب میں ماضی کے پنوں کو پلٹتا ہوں تو شکر گزاری کے آنسو میرے گالوں کو بھگو دیتے ہیں۔ پہلی بار جب 2018 میں، میں نے حج کی سعادت پائی تو وہ میرا پہلا سفر تھا۔ اس وقت میرے ساتھ میرے مخلص دوستوں کا ایک خوبصورت قافلہ تھا۔ وہ دوستوں کا ساتھ، ایک دوسرے کا خیال رکھنا، راتوں کو جاگنا، مل کر”لبیک“ پکارنا اور حج کی سختیاں مسکراتے ہوئے جھیل جانا ایک ایسی یاد ہے جو میرے دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو چکی ہے۔ پھر وقت بدلا، دنیا بدلی اور سال 2024 میں اللہ پاک نے مجھے دوبارہ حج کی سعادت نصیب فرمائی۔
لیکن اس بار میں بالکل تنہا تھا۔ 2024 کا وہ حج میرے لیے بالکل ایک الگ اور نیا تجربہ تھا کیونکہ وہاں میرے ساتھ کوئی دنیاوی سہارا نہیں تھا۔ بہت زیادہ رش، مکہ کی گرمی، اور منیٰ، عرفات و مزدلفہ کے میدانوں میں، میں اکیلا اپنے رب سے لَو لگائے بیٹھا تھا۔ اس تنہائی نے مجھے میرے اللہ کے اور قریب کر دیا۔ جب وہاں کوئی اپنا نہیں تھا، تو لگتا تھا کہ بس ایک میں ہوں اور میرا خالق ہے۔ ابھی اس اکیلے گزارے ہوئے حج کا سحر میرے دل سے گیا بھی نہیں تھا کہ میرے مالک نے مجھے پھر یاد کر لیا۔ لیکن اس بار یہ سفر حج کا نہیں، بلکہ عمرے کا ہے۔
لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ جب کوئی بار بار وہاں جاتا ہے، تو کیا دل کے جذبات وہی رہتے ہیں؟ کیا تڑپ کم نہیں ہو جاتی؟ میں انہیں کہتا ہوں کہ بیت اللہ کی پیاس ایسی ہے کہ اسے جتنا پیو، یہ اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ حج ایک فرض تھا، ایک بڑا امتحان تھا، جہاں لاکھوں لوگوں کے ساتھ مل کر چلنا تھا، منیٰ کی گرمی اور مزدلفہ کی راتیں گزارنی تھیں اور قربانی دینی تھی۔ حج میں ایک جلال تھا، ایک تڑپ تھی۔ لیکن عمرہ؟ عمرہ تو جیسے اپنے رب سے اکیلے میں بیٹھ کر باتیں کرنے کا نام ہے۔ یہاں کوئی جلدی نہیں ہوتی، منیٰ کی طرف بھاگنا نہیں ہوتا، بس کعبہ کے سامنے بیٹھنا ہوتا ہے اور گھنٹوں اپنے مالک کو دیکھتے رہنا ہوتا ہے۔ یہ محبت کا وہ سکون ہے جو صرف اسی در پر مل سکتا ہے۔
جب میں نے 2024 کا حج کیا، تو وہاں سب کچھ بہت بدل چکا تھا، ہر چیز ڈیجیٹل ہو چکی تھی، لیکن کعبہ کی وہ رونق اور وہ سکون بالکل ویسا ہی تھا جیسا میں نے 2018 میں اپنے دوستوں کے ساتھ دیکھا تھا۔ اب جب میں دوبارہ اس پاک سفر پر روانگی کی تیاری کر رہا ہوں، تو میرا دل عجیب کیفیت میں ہے۔ جب احرام کی دو سفید چادریں جسم پر سجتی ہیں، تو انسان دنیا کے سارے کام، اپنی دولت، اپنی پہچان اور اپنا غرور سب پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ وہ سفید کپڑا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم دنیا میں کتنے ہی بڑے کیوں نہ بن جائیں، ایک دن ہمیں اسی طرح دو چادروں میں لپٹ کر اپنے رب کے پاس خالی ہاتھ جانا ہے۔
جب جہاز میں اعلان ہوگا کہ میقات آ گیا ہے اور میں عمرے کی نیت کر کے”لبیک الہم لبیک“ پڑھوں گا، تو مجھے پتہ ہے کہ میرے آنسو رکیں گے نہیں۔ جدہ کے ایئرپورٹ سے مکہ کی طرف جانے والے راستے، وہ پہاڑ، وہ سرنگیں، دنیا کی سب سے خوبصورت جگہیں لگتی ہیں۔ اس راستے پر چلتے ہوئے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگتی ہیں کہ بس اب کچھ ہی دیر میں وہ مبارک شہر آنے والا ہے جہاں ہمارے پیارے نبیﷺ نے زندگی گزاری اور جہاں میرا رب بندوں کی دعائیں سنتا ہے۔
اور پھر وہ سب سے خوبصورت لمحہ آئے گا… جب میں مسجدِ حرام کے دروازے سے داخل ہوں گا۔ اپنی نظریں زمین پر جھکائے ہوئے، دھڑکتے دل کے ساتھ جب میں آگے بڑھوں گا اور جیسے ہی میری پہلی نظر اس کالے غلاف اور سنہری حروف والے کعبہ پر پڑے گی، تو ایسے لگتا ہے جیسے دنیا رک گئی ہے۔
اس لمحے انسان اپنے سارے دکھ، بیماریاں اور پریشانیاں بھول جاتا ہے۔ حج کے دوران تو رش اتنا ہوتا تھا کہ انسان بس چکر پورے کرنے کی فکر میں ہوتا تھا، لیکن اس بار میں کعبہ کے سامنے آرام سے بیٹھ کر جی بھر کر روﺅں گا۔ اپنے لئے معافی مانگوں گا، اپنے بچوں کے لیے، اپنے رشتہ داروں کے لیے، اپنے ان دوستوں کے لیے جو 2018 میں میرے ساتھ تھے، اور ان سب کے لیے ہاتھ اٹھاﺅں گا جنہوں نے مجھے دعاﺅں کا کہا ہے۔کعبہ کے گرد طواف کرنا دراصل اللہ سے یہ وعدہ کرنا ہے کہ ”یااللہ! میری زندگی کا اب صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ تیری رضا ہے“۔
پھر صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان چلنا ہمیں بی بی ہاجرہ کی یاد دلاتا ہے کہ کیسے ایک ماں اپنے بچے کے لیے تڑپی تھی اور اللہ کو ان کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ قیامت تک کے لیے اسے عبادت بنا دیا۔ جب عمرہ مکمل ہوگا اور بال کٹوا کر میں احرام اتاروں گا، تو مجھے یقین ہے کہ میرا دل ایسا ہلکا پھلکا ہو جائے گا جیسے مجھ پر سے گناہوں کا کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔
مکہ کے اس خوبصورت سفر کے بعد اگلا پڑاﺅ مدینہ منورہ کا ہوگا۔ مکہ اگر دل کو ہلا دینے والا جلال ہے، تو مدینہ دل کو تسلی دینے والا سکون ہے۔ مدینہ کی ہواﺅں میں ایک الگ ہی خوشبو اور ٹھنڈک ہے۔ جب میں روضہ رسول ﷺ کے سامنے کھڑا ہوں گا، تو کانپتے ہوئے ہونٹوں سے ”الصلوٰة والسلام علیک یا رسول اللہ“ کہوں گا۔ یہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ میں کائنات کی سب سے عظیم ہستی کے دربار میں کھڑا ہوں۔
ریاض الجنہ میں نماز پڑھنے کا موقع ملے گا، تو میں اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں گا، وہ کم ہوگا۔میں ایک بار پھر جا رہا ہوں۔ اللہ نے مجھے تیسری بار چنا ہے، یہ میری کسی خوبی یا نیکی کی وجہ سے نہیں، بلکہ صرف اور صرف اس کے رحم اور بے پایا کرم کی وجہ سے ہے۔ میں اپنے ٹوٹے ہوئے دل، اپنے آنسو اور اپنی عاجزی لے کر اس کے در پر جا رہا ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک میرے اس عمرے کو بھی قبول فرمائے اور اس سفر کو میری زندگی کے لئے ہمیشہ کی تبدیلی کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔