سفید ناگن اور ہم

گلگت بلتستان کے برف پوش پہاڑ اور گلیشیئر صرف اس خطے کی خوبصورتی نہیں بلکہ پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے پانی کے قدرتی ذخیرے ہیں۔ یہ سفید پہاڑ بظاہر خاموش ہیں، مگر ان کے اندر آنے والی نسلوں کی زندگی، پانی اور ماحول کا ایک بڑا حصہ محفوظ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ سفید ناگن پگھلتی رہی تو اس کے اثرات کہاں تک جائیں گے؟

تازہ سائنسی شواہد ہمیں خبردار کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (ICIMOD) کی رپورٹس کے مطابق ہندوکش ہمالیہ خطے کے گلیشیئرز تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس عمل کو مزید تیز کر رہا ہے۔

2023 کی ICIMOD رپورٹ کے مطابق 2011 سے 2020 کے دوران ہندوکش ہمالیہ کے گلیشیئرز میں کمی کی رفتار گزشتہ دہائی کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ رہی۔ موجودہ اخراج کا سلسلہ برقرار رہا تو اس صدی کے آخر تک خطے کے گلیشیئرز اپنے موجودہ حجم کا بڑا حصہ کھو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے لیے خطرہ صرف پانی کی کمی نہیں۔ گلیشیئرز کے پگھلنے سے گلیشیئر جھیلیں بھی بڑھ سکتی ہیں اور بعض جھیلوں کے اچانک پھٹنے سے سیلاب کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں ممکنہ طور پر خطرناک گلیشیئر جھیلوں کی نشاندہی اور سیٹلائٹ کے ذریعے ان کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

ایک سائنسی مطالعے کے مطابق پاکستان کے مختلف دریائی بیسنز میں ہزاروں گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، جبکہ گلگت ریور بیسن میں بھی سینکڑوں گلیشیئر جھیلوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کا مسئلہ صرف مقامی ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی چیلنج ہے۔

اس صورتحال میں سرحد پار سے آنے والی فضائی آلودگی اور بلیک کاربن کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلیک کاربن برف کی سطح پر جمع ہو کر سورج کی حرارت کے جذب کو بڑھا سکتا ہے اور یوں پگھلاؤ میں اضافی کردار ادا کرسکتا ہے۔ تاہم کسی ایک ملک یا کسی مخصوص فیکٹری کو گلگت بلتستان کے گلیشیئرز کے پگھلنے کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے مخصوص سائنسی شواہد ضروری ہیں۔

اصل مسئلہ عالمی موسمیاتی تبدیلی ہے اور اس کے اثرات سے گلگت بلتستان محفوظ نہیں۔ پاکستان کو چین اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر گلیشیئر مانیٹرنگ، بلیک کاربن میں کمی، فضائی آلودگی کی نگرانی اور گلیشیئر جھیلوں کے لیے بروقت وارننگ سسٹم کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

گلگت بلتستان کے گلیشیئر صرف گلگت بلتستان کے نہیں۔ ان سے نکلنے والا پانی دریاؤں کے ذریعے وسیع آبادیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر آج ہم نے اس سفید ناگن کی حفاظت نہ کی تو کل یہ پگھلتی ہوئی برف صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ پانی، معیشت، زراعت اور انسانی زندگی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

وقت آگیا ہے کہ ہم گلیشیئر کو صرف سیاحتی منظرنامے کے طور پر نہیں بلکہ زندگی کے ذخیرے کے طور پر دیکھیں۔ سفید ناگن کو بچانا دراصل اپنے مستقبل کو بچانا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے