جب قابلیت سزا بن جائے

کبھی کبھی قومیں اپنے قیمتی ہیرے خود اپنے ہاتھوں سے کھو دیتی ہیں۔زمانہ طالب علمی میں جب میں دیکھتی تھی کہ ہمارے ملک کے بہت سے قابل اور ذہین لوگ اپنا وطن چھوڑ کر بیرونِ ملک جا رہے ہیں تو میرے ذہن میں ایک سوال ضرور اٹھتا تھا آخر یہ لوگ اپنے ملک کو چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں؟ اپنے وطن کی ترقی میں حصہ کیوں نہیں لے رہے؟
جن لوگوں کی قابلیت کی مثالیں دی جاتی ہیں وہ آخر کسی دوسرے ملک کو اپنی منزل کیوں بنا لیتے ہیں؟اس وقت مجھے ان کے فیصلے پر حیرت ہوتی تھی۔

مگر زندگی صرف کتابوں میں لکھی ہوئی حقیقتوں کا نام نہیں۔ جب انسان خود عملی زندگی میں قدم رکھتا ہےلوگوں کے رویے دیکھتا ہے اورقابلیت کی ناقدری محسوس کرتا ہے تو بہت سے سوالوں کے جواب خود بخود سامنے آنے لگتے ہیں۔تب احساس ہوتا ہے کہ کسی کے درد کو جاننا اور اس کے فیصلے پر تبصرہ کرنا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔

ہم اکثر بیرونِ ملک جانے والے لوگوں کے بارے میں فوراً کہہ دیتے ہیں”یہ لوگ محبِ وطن نہیں، انہیں اپنے ملک کی فکر نہیں۔” مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی شخص کے دل پرکیا گزری، اس نے کن حالات کا سامنا کیا، کتنی بار خود کو ثابت کرنے کی کوشش کی اور کتنی بار اسے نظرانداز کیا گیا۔یہ سب وہی شخص جانتا ہے۔باہر کھڑے ہو کر کسی کے سفر کا فیصلہ کرنا آسان ہے مگر اس سفر کی وجہ کو محسوس کرنا آسان نہیں۔

اگر ماضی کے صفحات پلٹ کر دیکھیں تو ہمارے سامنے ایسی بہت سی مثالیں آتی ہیں جہاں لوگوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیرونِ ملک کی آسائشیں اور سہولیات چھوڑ کر اپنے وطن کا رخ کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ جو علم انہوں نے حاصل کیا ہے جو تجربہ انہوں نے دنیا سے سیکھا ہے اسے اپنی قوم کے لیے استعمال کریں۔انہوں نے وطن کو ترجیح دی مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ
ہم نے انہیں کیا دیا؟

کیا ہم نے ان کے علم کی قدر کی؟کیا ہم نے ان کی صلاحیتوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا؟کیا ہم نے ان کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جہاں وہ اپنی توانائی تعمیری کاموں میں صرف کر سکیں؟یا ہم نے غلط رویوں سے ان قیمتی لوگوں کو کھو دیا؟

یہ سوال صرف ان لوگوں کا نہیں جو ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ ان لوگوں کا بھی ہے جو یہاں رہ کر اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہے اور راستے میں تھک گئے۔ہمارے معاشرے میں ایسے قابل لوگ بھی موجود ہیں جو یہاں دل و جان سے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں پوری محنت، اخلاص اور لگن کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن ان کی محنت کو سراہنے کے بجائے ان کی قابلیت ہی کچھ لوگوں کے لیے باعثِ ناگواری بن جاتی ہے۔
ایسے میں مسئلہ کارکردگی نہیں رہتا بلکہ اچھی کارکردگی دوسروں کے لیے ایک آئینہ بن جاتی ہے۔

کبھی کبھی ایسی صورتِ حال پیدا کر دی جات ہے کہ قابل انسان کے راستے محدود کر دیے جاتے ہیں اس کی صلاحیتوں کو ایک مخصوص دائرے تک مقید کر دیا جات ہےاور اسے اس انداز میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جس میں وہ اپنی حقیقی استعداد پوری طرح استعمال نہیں کر پاتا۔

شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب ایک شخص مسلسل محنت، اخلاص اور بہتر کارکردگی کے باعث لوگوں کی توجہ حاصل کرنے لگتا ہے تو بعض افراد کے لیے اپنی کم محنت کے ساتھ اسی مقام پر کھڑا رہنا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔ چنانچہ مقابلہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے کبھی کبھار اس کوشش میں بدل جاتا ہے کہ جو شخص آگے بڑھ رہا ہےاسے ہی پیچھے کھینچ لیا جائے۔

یہ رویہ صرف ایک فرد کو نہیں روکتایہ پورے ماحول کی ترقی روک دیتا ہےکیونکہ صحت مند معاشرے میں قابل شخص کو گرانے کی کوشش نہیں کی جاتی، اس سے سیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کسی کی کارکردگی اچھی ہے تو سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے کیسے روکا جائے بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم خود اپنی کارکردگی کیسے بہتر کریں؟

جب کسی معاشرے میں قابلیت کو مقابلے کے بجائے خطرہ سمجھا جانے لگے تو لوگ دوسروں کو اپنے برابر لانے کے بجائے قابل انسان کو اپنے برابر گرانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں قابلیت واقعی سزا بن جاتی ہے۔

قابل انسان سے توقعات بہت سی ہوتی ہیں مگر اسے مواقع کم دیے جاتے ہیں۔ اس کی محنت سب کو نظر آتی ہے مگر اعتراف کم ہوتا ہے۔ اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے مگر اس کی حوصلہ افزائی شاید ہی کی جاتی ہے۔پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان خود سے پوچھتا ہےکیا میری توانائی یہاں صرف ہونے کے لیے ہے یا کچھ بننے کے لیے بھی؟ اگر اسے جواب نفی میں ملے تو وہ ایسی جگہ کی طرف دیکھتا ہے جہاں اس کی صلاحیتوں کو استعمال ہونے، بڑھنے اور آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔

یوں ہجرت صرف جگہ کی تبدیلی نہیں رہتی؛ یہ بعض اوقات ناقدری سے قدر کی تلاش کا سفر بن جاتی ہے۔

سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہم اپنے رویوں سے نئی نسل کو ایک خاموش پیغام دے رہے ہیں کہ اگر تم قابل ہو، کچھ بڑا کرنا چاہتے ہو اوراپنی صلاحیتوں کو ضائع نہیں کرنا چاہتے تو تمہیں یہ ملک چھوڑنا پڑے گا۔

سوچیے، اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا کہ ہمارے نوجوان اپنے مستقبل کا تصور اپنے ہی ملک سے باہر کرنے لگیں؟

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جب کوئی قابل نوجوان بیرونِ ملک جا کر اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتا ہے تو صرف وہ نہیں جاتا؛ اس کے ساتھ اس علم، تجربے اور صلاحیت کا ایک حصہ بھی ہمارے معاشرے سے باہر چلا جاتا ہے اس طرح اس کی پرواز سے فائدہ کوٸی اور اٹھاتا ہے ۔تو پھر سوال صرف یہ نہیں کہ:”ہمارے لوگ ملک چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں؟”سوال یہ بھی ہے:”ہم نے انہیں یہاں رکنے کی کتنی وجوہات فراہم کی ہیں؟”

وطن سے محبت یقیناً ایک عظیم جذبہ ہے مگر محبت صرف یہ تقاضا نہیں کرتی کہ انسان ہر حال میں خاموشی سے ٹھہرا رہے، محبت یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ ہم ایسا معاشرہ بنائیں جہاں انسان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے، جہاں محنت رائیگاں نہ جائے، جہاں میرٹ کی قدر ہو اور قابل لوگوں کو آگے بڑھنے کے حقیقی مواقع ملیں۔

ہمیں ہجرت کرنے والوں سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ "تم یہاں سے کیوں جا رہے ہو؟”اس سے پہلے ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے
ہم نے ایسا کیا کیا کہ انہیں یہاں رہنے کی خواہش باقی رہے؟کیونکہ قومیں صرف سرزمین سے نہیں بنتیں، انسانوں سے بنتی ہیں۔

اگر ہم اپنے قیمتی انسانوں کی قدر نہیں کریں گے تو ایک دن شاید ہمارے پاس زمین تو باقی رہے مگر اسے سنوارنے والے ہاتھ کم پڑ جائیں گے۔

قابلیت کو سزا نہ بنائیں.کیونکہ جس معاشرے میں ہیرے بے قدر ہوں، وہاں ہجرت صرف لوگوں کی نہیں ہوتی اچھے مستقبل کی بھی ہوتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے